مستقبل کی خارجہ پالیسی۔ تلوار کی دھار پر چلنا

اس وقت ہماری خارجہ پالیسی کے افق پر امن نظر آ رہا ہے۔ موجودہ ماحول میں ٹھنڈک مستقبل کے کسی پریشان کن حالات کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔ خارجہ پالیسی کا مضمون بھی حساب کتاب جیسا مضمون ہے۔ اس میں بھی غور و فکر کر کے دو جمع دو جیسا صحیح نتیجہ لیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے چند خاصیتوں کا ہونا ضروری ہے جن میں خارجہ پالیسی چلانے والوں کا بیرون ملک ذاتی تعلقات بنانے کی بجائے صرف ملک کے لیے مخلص ہونا، خارجہ پالیسی بنانے والوں کا پیشہ ورانہ طور پر پوری طرح ماہر ہونا، خارجہ پالیسی بنانے والوں میں وقت پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت کا ہونا، خارجہ پالیسی میں غلطی کی گنجائش کا نہ ہونا، خارجہ پالیسی کے بارے میں ہر وقت شد و مد کے ساتھ ریسرچ کا عمل جاری رکھنا، ریسرچ کے نتائج کو اہمیت دینا اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے اساتذہ و سکالروں سے مسلسل رہنمائی لینا وغیرہ شامل ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اب تک انہی اصولوں میں سے کسی نہ کسی کی کمی ضرور رہی ہے۔ ماضی میں یہ بات عمومی طور پر دیکھی گئی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں دیے جانے والے ظاہری بیانات کے برعکس درپردہ مختلف معاملات رہے۔ اگر یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہا تو مستقبل کے نتائج ماضی سے زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں خفیہ اور کھلم کھلا دشمن ملکوں کو تلاش کرنے کے لیے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا بلکہ خفیہ اور کھلم کھلا دشمن ملک کے بالکل قریب ہی مل جاتے ہیں۔

اگر پاکستان اپنے اردگرد کے ملکوں کے ڈاٹس کو ملائے تو ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی سب ڈاٹس کو ایک لائن سے جوڑا جاسکتا ہے۔ گزشتہ 73 برسوں میں خارجہ پالیسی کے اعتبار سے پاکستان اس سے زیادہ حساس موڑ پر کبھی کھڑا نہیں ہوا۔ اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو تلوار کی دھار پر چلنا ہوگا۔ ماضی میں پاکستان خطے میں امریکی مفادات کا نگران ہونے کے باعث کبھی کبھار امریکہ کو ”دا“ بھی لگا جاتا تھا جسے امریکہ جان بوجھ کر نظرانداز کر دیتا تھا لیکن اب ایسا کرنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔

اس کی وجہ چند الفاظ میں بتائی جائے تو وہ افغانستان کی مستقبل کی صورتحال، بھارت چین کشیدگی میں امریکہ کا بھارت کو مدد دینا، پاکستان کی معیشت کا دار و مدار چین پر ہونا، پاکستان اور ایران کے تعلقات میں شکوک و شبہات کا ہونا اور ان سب سے بڑھ کر عرب ممالک کے غصے کا نشانہ بننے کا خطرہ ہر وقت منڈلاتے رہنا وغیرہ ہوسکتے ہیں۔ یورپی یونین سے بھی پاکستان کے تعلقات پہلے سے کم درجے پر ہیں۔ مندرجہ بالا تمام حالات کا فائدہ بھارت اٹھائے گا اور سارا نقصان پاکستان کے کھاتے میں آئے گا۔

خارجہ پالیسی کے محاذ پر اٹھتے ان کالے بادلوں کے بارے میں ہمارے ہاں جتنی تشویش پائی جانی چاہیے اس کا عشر عشیر بھی کہیں محسوس نہیں ہو رہا ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی میں سنجیدگی اور تحقیق کی جتنی ضرورت اب ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے میرے نزدیک درج ذیل چند قابل غور نکات ہیں جو پیش خدمت ہیں۔ پاکستان میں اسرائیل کا نام شجر ممنوعہ ہے۔ ہمیں بہت غور و فکر کرنی ہوگی کی پاکستان کا فائدہ کس میں ہے کیونکہ اس وقت دنیا بھر کی کامیاب خارجہ پالیسیاں قومی مفاد اور حقیقت پسندانہ زمینی حقائق کی تھیوری پر بنائی جا رہی ہیں۔

دنیا بھر کی خارجہ پالیسیوں میں اپنے ملکی مفاد کی جگہ دوسروں کے مفاد کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ کیا ہم کچھ خاص ملکوں کے ساتھ تعلقات کو نارمل کر کے بھارت کو بے اثر نہیں کر سکتے؟ اور کیا ان خاص ملکوں کی خارجہ پالیسی کے ذریعے منہ موڑے ہوئے امریکہ کو پاکستان کے لیے پاکستان کے مفاد میں کسی حد تک مینیج نہیں کر سکتے؟ کیا ہم بھی اپنی خارجہ پالیسی میں خواہشات کی بجائے قومی مفاد اور حقیقت پسندانہ زمینی حقائق کو سرفہرست نہیں لا سکتے؟

ہمیں دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات میں جذباتی الفاظ کو ختم یا کم کرنا ہوگا کیونکہ انفرادی دوستی اور محبت میں جذباتی الفاظ کا استعمال تو مناسب ہو سکتا ہے لیکن خارجہ پالیسی میں ملکوں کے تعلقات کے لیے بہت زیادہ جذباتی الفاظ کا استعمال تکنیکی طور پر مناسب نہیں ہوتا۔ چین اور بھارت کی مخاصمت کو اگر پاکستان بہتر حساب کتاب (کیلکولیٹ) کر کے مینیج کرے تو پاک بھارت بارڈر پر کم طاقت کے ساتھ بھی بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ہمیں خارجہ پالیسی کو دوبارہ ترتیب دیتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ کیا پاکستان مستقبل میں خدمات پیش کرنے والا ملک رہے گا یا اپنا کردار شروع کرے گا؟ امریکی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے کم اہم ہونے کے اثرات پاکستان کے سیاسی اداروں پر کم اور سیکورٹی اداروں پر زیادہ مرتب ہوسکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words