بائیکاٹ۔ پروپیگنڈا یا حقیقت

یہ غلط فہمی عام ہے کہ اسرائیل میں جو کمپنیز کاروبار کرتی ہیں یا وہاں کی صورتحال کے مطابق پالیسیز بناتی ہیں وہ اسرائیلی ہیں۔ جب کہ حقیقت میں پیپسی، کوک، کے ایف سی، میکڈونلڈ، نیسلے اور یونی لیور وغیرہ کا دور دور تک اسرائیل سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ ان ملٹائی نیشنلز کے پیچھے یہودی ہیں۔ یہ کمپنیز دنیا کے تقریباً تمام ہی ممالک میں وہاں کی صورتحال کے مطابق کاروبار

Read more

لیکن” والے چار سو لوگوں سے بدتر ہیں”

گیم آف تھرونز کا ایک ڈائیلاگ ہے کہ ”لفظ“ لیکن ”سے پہلے کی بات بے کار ہوتی ہے۔“ مینار پاکستان والے وقوعے میں سب مانتے ہیں کہ سینکڑوں لوگوں نے عورت کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا تو اس کے بعد کیا کسی ”لیکن“ کی گنجائش رہتی ہے؟ کیا سفاکیت کی توجیہ پیش کرنا اس سے بڑی سفاکی نہیں؟ سر حاشر ابن ارشاد لکھتے ہیں۔ ”میں نے لیکن والی سب کہانیاں سنیں اور ان لیکن والوں کو چار سو لوگوں سے

Read more

آئندہ کی دنیا کیسی ہوگی؟ اجمالی خاکہ

فرض کریں کہ ایک بینک طویل المدتی معاہدے پر سالانہ پندرہ فیصد منافع دیتا ہے اور ہر سال کل بقایا رقم پر منافع بڑھتا رہتا ہے۔ اگر کوئی ایک ہزار ڈالر اپنے اکاؤنٹ میں رکھ کر بھول جائے تو پچاس سال میں رکھے رکھے یہ رقم ایک ملین ڈالر ہو جائے گی۔ وارثین بھی اس رقم کو خاطر میں نہ لائیں تو سو سال بعد ایک بلین ڈالر جبکہ ڈیڑھ سو سال بعد ایک ٹریلین ڈالر تک یہ رقم پہنچ جائے گی۔ یہاں تک کہ ایک سو بانوے سال بعد اسکی پانچویں یا چھٹی نسل بیٹھے بٹھائے دنیا کی مجموعی دولت تین سو ساٹھ ٹریلین ڈالرز کی مالک بن سکتی ہے۔

Read more