عالمی غربت کا مسئلہ: پور اکنامکس (poor economics) کیا کہتا ہے؟
عالمی غربت معاشیات، سیاسیات اور پالیسی سازی کے سائنسدانوں کے لئے عرصہ دراز سے اہم موضوع رہا ہے۔ اس موضوع پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں، مقالے چھاپے گئے کانفرنسیں ہوئیں، بحث و مباحثہ چلا مگر عالمی غربت کا یہ موضوع ہمیشہ کی طرح آج بھی اہم ہے۔ سوشل سائنٹسٹ آج اس مسئلے پر پہلے سے زیادہ پریشان ہیں اور حل ڈھونڈنے کی کوششوں میں ہیں کہ آخر کیا کیا جا سکتا ہے۔
اس مسئلے کی کھوج میں بیرونی امداد یعنی فارن ایڈ معاشیات دانوں کے حلقے میں زیر بحث رہا ہے۔ امریکی معاشیات دان پروفیسر جیفرے ساک (Jeffrey Sachs) اور اس کے ہم خیال اکانومسٹ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر امیر ممالک فارن ایڈ کی مد میں امداد بڑھائے اور غریب ممالک کو دے تو عالمی غربت سے نجات ممکن ہے۔ پروفیسر جیفرے نے یہ بھی دعویٰ کر لیا تھا کہ اگر امیر ممالک اپنی امدادی رقم میں اضافہ کر کے اسے 195 بلین ڈالر تک لائے تو 20 سال کے عرصے میں عالمی غربت سے نجات ممکن ہے۔ The End of Poverty میں پروفیسر جیفرے اس کا حل تفصیلاً بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی تک غریب ممالک میں غربت کی تہہ تک امداد نہیں پہنچ سکی۔ جب ایسا ہو گا تو یہ ممالک اپنی سمت درست کریں گے اور اس کے بعد امداد پر انحصار کم ہوتا جائے گا اور غربت سے نجات ممکن ہو گی۔
پروفیسر جیفرے کے یہ خیالات اہمیت کے حامل اس لئے ہیں کہ ان کے مطابق غریب ممالک کے لوگ پاورٹی ٹریپ (poverty trap) میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں سے انہیں باہر نکالنے کے لئے امداد کی ضرورت ہے۔ اسی دلیل کی حمایت میں انہوں نے عالمی غربت کے اندوھناک واقعات اور حقائق بیان کیے ہیں کہ غریب ممالک میں فنانشل گیپ کتنا زیادہ ہے اور یہ بھی کہ بیرونی امداد نے کس طرح مختلف ممالک کے اہم مسائل میں کافی کمی دکھائی ہے۔
معاشیات دانوں کا ایک دوسرا گروہ اس خیال کو مسترد کرتا ہے جن میں امریکی پروفیسر ویلیئم ایسٹرلی کافی مشہور ہیں۔ پروفیسر ایسڑلی کے مطابق بیرونی امداد یعنی فارن ایڈ کے بیشتر پلاننگ درست نہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ڈویلپمنٹ سیکٹر میں کام کرنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کی مالی امداد سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے جبکہ یہ درست نہیں۔ ان پر تنقید کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ملیریا یا اسی طرح کی بیماریوں سے نجات کے لئے مچھر دانی دینے، واش رومز بنانے سے ترقی ممکن ہونا یا غربت کا خاتمہ ممکن نہیں۔

ان کا خیال ہے کہ جب تک لوگوں کے انسانی حقوق، شخصی آزادی بشمول معاشی یا سیاسی آزادی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فیصلہ سازی کا حق انہیں نہیں دیا جائے گا، ترقی ممکن ہونا یا غربت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اپنی کتاب The Tyranny of Experts اور The White Man ’s Burden میں بیان کرتے ہیں کہ کس طرح بیرونی امداد پر انحصار لوگوں اور اداروں کو کرپٹ بناتی ہے اور یہ بھی کہ اگر لوگوں کی آزادی کو فوقیت دی جائے تو وہ اپنے مسئلوں کا حل نکال سکتے ہیں بشرطیکہ لوگوں کو دی جانے والی ترغیبات درست ہوں اور انہیں امداد کے بوجھ تلے نہ دبایا جائے۔ ایسٹرلے کے مطابق یہ بحث ہر خاص و عام محفل میں جاری رہنی چاہیے کہ غریبوں کی رائے کی اہمیت کیا ہے اور کیوں اہم ہے؟
پروفیسر ایسٹرلی کے خیالات اہم اس لئے ہیں کہ بیرونی امداد نے کس طرح امیروں کو امیر بنایا اور غریبوں کو غریب۔ اس کی مثالیں بے شمار ملتی ہیں اور اسی طرح یہ بھی کہ کس طرح بیرونی امداد کی حساب اور اکاؤنٹبیلٹی نہیں ہونے کی وجہ مسائل جوں کے توں ہیں۔
پروفیسر جیفرے اور پروفیسر ایسٹرلی کے یہ خیالات اکیڈمک اور پالیسی سرکلز میں کافی ریپل ایفکٹس دکھانے لگے۔ بحث و مباحثہ جاری رہا۔ پروفیسر جیفرے نے پروفیسر ایسٹرلی کے خیالات کو نہایت مایوسی اور نا امیدی کے خیالات قرار دیے جبکہ پروفیسر ایسٹرلی نے پروفیسر جیفرے کے خیالات کے جواب میں کہا کہ بیرونی امداد نے غریب ممالک میں اگر تھوڑی بہت اثر دکھائی بھی ہے تو اس کے بدلے میں مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔
ایسے میں عالمی غربت کے معاملے میں سوچنے والا ایک جوڑا (جو بعد میں نوبل انعام یافتہ قرار پایا) ، یعنی میاں بیوی سامنے آتے ہیں جو اس بحث سے کچھ دور کہ غربت کے خاتمے کے لئے بیرونی امداد درست ہے یا نہیں۔ وہ غربت کے مسئلے کو جڑ سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یعنی اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے سائنسی طریقہ کار کی بنیاد پر ایوالویشنز کرتے ہیں جو تجرباتی ریسرچ کہلاتے ہیں۔ چونکہ مسئلہ غربت جتنا پیچیدہ ہے اسی طرح اس کے وجوہات کو سمجھنا بھی۔
اس خیال کے گرد گھومتے ہوئے وہ ایک تحقیقی مطالعے کو مکمل کرنے میں کئی سال لگاتے ہیں اور شواہد یعنی ایویڈنس کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ کون سا امدادی منصوبہ ناکام رہا اور کون سا کامیاب اور اس معاملے میں کیا کیا جا سکتا تھا جس سے منصوبہ صرف کامیاب ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کے لئے مؤثر بھی ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق کسی بھی منصوبہ سازی میں وقت لگا کر، درست اقدامات اٹھا کر، چھوٹے چھوٹے ٹارگٹ سامنے رکھ کر تبدیلی لائی جا سکتی ہے بشرطیکہ ڈیزائن ایویڈنس پر مبنی ہوں اور شواہد اس کی حمایت کرے۔

پروفیسر استھر ڈفلو اور ابھجیت بینرجی کے نزدیک غریب کی غربت کی کیفیت کو سمجھنا سب سے اہم ہے، چاہے اس کام کے لئے بے شک کئی سال لگ جائے۔ ان کے لئے یہ سوالات دلچسپی کا باعث تھے کہ مراکش میں ایک آدمی جس کے پاس کھانے کے لئے کافی خوراک نہیں لیکن وہ ٹیلی ویژن خریدنے کے لئے تیار کیوں ہے؟ غریب علاقوں کے بچے بھی سکول جاتے ہیں لیکن ان کے لئے بہتر طریقے سے سیکھنا مشکل کیوں ہے؟ کیا واقعی زیادہ بچے پیدا ہونے سے لوگ زیادہ غریب ہو جاتے ہیں؟
اپنے تجربات کی بنیاد پر پروفیسر ابھجیت بینرجی اور استھر ڈفلو نے Poor Economics لکھا جس نے سوشل سائنسز کی ریسرچ، ڈائزین اور ایوالویشن میں نئی جہتیں کھول دیں۔ مسئلے کی طرف دیکھنے کا انداز بدل گیا اور لوگ پروگرامز اور پراجیکٹس میں ایوالویشن کو پہلے سے زیادہ اہمیت دینے لگے۔
اس کتاب کے پہلے باب میں یہ پروفیسرز۔ زیر غور کام کے بارے میں ”دوبارہ سوچنے“ پر زور دیتے ہیں۔ یعنی ان کے مطابق ڈینگی یا ملیریا سے لڑنے کے بجائے لوگ ان مسئلوں میں پھنس جاتے ہیں کہ بیرونی امداد کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اسی طرح اس کتاب کے ایک اور باب Low۔ Hanging Fruit for Better (Global) Health؟ میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ہر سال 90 لاکھ بچے ہیضہ اور ملیریا سے مر جاتے ہیں جب کہ ان بیماریوں کا علاج نہایت ہی سستا ہے یعنی نچلی ٹہنیوں پر لٹکے پھلوں کی مانند آسانی سے میسر ہے مگر لوگ اس کا فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ اسی طرح اسی کتاب میں غربت کی کیفیت میں خرچ، بچت، مائیکروفنانس، تعلیم، صحت، رسک، ، آبادی، انٹرپرنیورشپ اور پالیٹکل اکانومی کے مسائل کے بارے میں نہایت ہی دلچسپ اور موثر حل پر پر مغز اور مدلل بات ہوئی ہے۔


