جس محلے میں تھا ہمارا گھر

سجاد احمد صدیقی کی کتاب پر تبصرہ پڑھنے سے پہلے بس اتنا سمجھ لیجیے کہ ڈاکٹر شیر شاہ سید اور آصف فرخی کے دوست ہیں۔ پھر یہ ہی نہیں شیر شاہ ہمت بڑھائیں اور آصف فرخی پیدائشی مصنف قرار دے کر ان کا سب سے پہلا مضمون ’ ہم سب‘ میں شائع بھی کروا دیں۔ تب پھر سوچ کو پرواز اور اظہار کو روانی کیوں نہ ملے۔ سال بھر کے وقفے سے ان کے تین چار مضامین ’ہم سب‘ میں شائع ہوئے، جانے کیوں ان کا ایک بھی مضمون نہیں پڑھ پائی۔ اب جو کتاب لے کر بیٹھی، تو بیٹھ ہی گئی۔

سجاد صاحب نے پہلا مضمون اپنی والدہ کے لیے لکھا، ماں کے حوالے سے لکھنے بیٹھو تو یوں بھی قلم، جادوئی چھڑی بن جا تا ہے، کاغذ پر ایک کے بعد ایک موتی بکھرتا چلا جاتا ہے۔ ایک دن انسان کو مٹی ہو جا نا ہے، پر زندگی میں مٹی ہو کر اس کے ذرات سے کیسے سونا بنایا جا تا ہے، سجاد صاحب کو دیکھیے اور یقین کر لیجیے۔

بڑی امی کے عنوان سے تخلیق کیا گیا مضمون محض ایک بیٹے کی یاداشت نہیں ایک فن پارہ اور شہ پارہ ہے۔ رہتی دنیا تک یہ ایک عظیم خاتون کی ایسی مثال ہے جو جانے کتنی خواتین کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چھوٹے سے گھر میں غربت، افلاس، کسمپرسی اور ناتمام خواہشات میں زندگی گزار کر بڑے علاقے میں بڑا مکان، عہدہ، عزت، پیارے پیارے بچوں کی ضروریات و خواہشات کی آسودگی میں بھلا کسے حوصلہ ہو اور اتنی فرصت ملے کہ دوبارہ وہی زندگی جیے۔ ادھیڑ عمری میں ماں، باپ، بھائی، رشتے دار اور احسان کرنے والوں کے چہروں کی ایک ایک سلوٹ کو چاہت اور احسان مندی کے جذبات کے ساتھ پیش کرتے ہوئے ماضی میں بیتے دنوں کی تپش میں جھلسائے۔

مضامین کے عنوانات سادہ، متذکرہ شخصیات کردار کے ہم جہت پہلو لیے قاری کو اپنے ساتھ جوڑ لیتی ہیں۔ طرز تحریر اتنا دلنشیں کہ ایک کے بعد ایک خاکہ پڑھتے جائیے۔ یہ زندگی سے جڑے حقیقی کردار جن کے ساتھ سجاد صاحب نے زندگی بتائی۔ یہ ہمارے معاشرے کے چلتے پھرتے کردار ہر سو نظر آتے ہیں لیکن ان کرداروں کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں کا اس انداز سے بیان کرنا کہ ان کے ساتھ ہمیں بھی ان سے پیار ہو جائے۔ اور بقول ان کے جو انہوں نے اپنے ایک مضمون ’گھر میں ایک ولی تھا‘ میں ایک جگہ لکھا کہ ”ان کے مرنے پر میں نے ان کی مغفرت کی دعا کے بجائے اپنے اور اپنے گھر والوں کی مغفرت کی دعا کی کہ اگر با تقاضائے بشریت خورشید کے حق میں ہم سے کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو اللہ ہمیں معاف کرے“ ۔

یہ تو لکھ گئے، لیکن جتنے پیار سے انہوں نے اپنے پیاروں کا تذکرہ کیا ہے۔ اس پیار کے بدلے، ان کی مغفرت تو پکی ہے۔

ان کے مضمون اک ترے جانے کے بعد ، سے مصنف کے رومان پسند ہو نے کی ایک خوبی پتہ چلی۔ ویسے ان کی اماں حسن نظر رکھتی تھیں، اچھا ہوا انہیں دانتوں کا ڈاکٹر نہ بننے دیا۔ تکالیف بھی رومانی اور غیر رومانی ہوتی ہیں، ہمیں دانت کی تکلیف انتہائی غیر رومانی لگتی ہے۔ اور مریض کے دانت نکالتا ہوا شخص، واقعی ڈاکٹر بالکل نہیں لگتا۔ اور پھر صرف تصور کریں کہ سجاد صاحب دانتوں کے ساتھ زور آزمائی کر رہے ہیں۔

کہنے کو انہوں نے بڑی سادگی سے گھر کے مکینوں اور محلے داروں کے خاکے لکھے ہیں لیکن یہ سب وہ ہستیاں تھیں جن کو انہوں نے جیا ہے، سہا ہے، ان کے ساتھ ہنسے اور روئے ہیں۔ اور کئی جگہ یہ کیفیات اپنے قاری کو بھی منتقل کر دی ہیں۔ ان کی خاکہ نگاری کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا بے ساختہ پن ہے۔ انہوں نے اس محلے کے اپنے چھوٹے سے گھر میں اپنی تحریر کے ذریعے ہماری بھی بڑی آؤ بھگت کی ہے۔ اپنے محلے کی ایسی عکاسی کہ جیسے ہماری آنکھوں کے سامنے ویڈیو چلا دی ہو۔

” عید کی رات سب بچے اپنے نئے کپڑوں کو استری کر کے دیوار پر لٹکا دیتے۔ تمام رات خوشی سے نیند نہ آتی۔ کب صبح ہو گی، کب کپڑے پہنیں گے، چند سکوں کی عیدی ملے گی اور پھر ان تھوڑے سے پیسوں سے بہت ساری خریداری کی جائے گی۔ کھلونے خریدے جائیں گے، جھولوں کی سواری کی جائے گی۔ پیسوں کی کمی کی وجہ سے مختلف اشیا کا مل بانٹ کر کھانا بھی بچپن کی دوستی کا بے لوث اظہار تھا۔ فانٹا کی ایک بوتل سے کئی دوست ایک گھونٹ باری باری لیتے، اسی طرح چھولے چاٹ کی ایک پلیٹ میں کئی دوست باری باری ایک ایک چمچے سے چاٹ کا مزا لیتے اور میٹھے گولا گنڈے کو سب مل کر ڈیزرٹ کے طور پر استعمال کرتے تھے“

ان کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ شخصیت کے منفی پہلو کو بھی اس انداز سے بیان کیا ہے کہ قاری پر وہ مثبت اثر ڈالتی ہیں۔ ان کے گداز فقروں میں قہقہہ اور شگفتہ میں آنسو نکلتا ہے۔ جا بجا قہقہے اور آنسو گڈ مڈ ہو گئے ہیں آنکھیں دھندلی اور لبوں پر مسکراہٹ ایسا ہی تھا ان کے محلہ۔

احساس، مروت، انسانیت، اخلاص، محبت پیار اور ایثار جیسے جذبات سے گندھے رشتے اور موضوعات ابا، امی، نا نا، نانی، خورشید ماموں، نثار بھائی، منا بھائی، ٹاور صاحب، یہ کردار جنہوں نے انہیں حد درجہ پیار محبت دی، مگر ادھار انہوں نے بھی نہیں رکھا، انہی جذبات کے ساتھ جس خلوص سے بیان کیا، یہ حقیقی کردار امر ہو گئے۔ نثار بھائی کی محنت شاقہ، ان کے

ایثار اور اپنی بھابی کے خلوص کا بر ملا اعتراف دل میں خوشی اور ایک بھاری پن پیدا کر دیتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ آج کے دور میں، لیکن ایسی مثالیں ہر دور میں خال خال نظر آتی ہیں۔

کردار اور ان کی امثال حقیقی ہیں لیکن دیکھیے کیسا پیغام ہیں۔ ایک جگہ منا بھائی کے حوالے سے لکھتے ہیں ”اگر کسی بحث میں جہاں اختلاف رائے زیادہ بڑھ جائے وہ اپنی رائے کے مقابلے میں مد مقابل کی رائے کو تسلیم کر لیتے اور بحث کو ختم کر دیتے۔ چاہے وہ مخالف کی رائے سے متفق نہ بھی ہوں۔

عام لوگوں کے ساتھ انہوں نے اپنے محلے کے بے حد خاص اور پوتر محنت کشوں کا بھی بڑے درد مند اور مکمل ایمانی جذبے کے ساتھ ذکر کیا ہے جن کی بدولت ہمارا آدھا ایمان سلامت ہے۔

موہن، شانتی، لیلا رام، ہماری آپ کی عمروں کے لوگ اس زمانے کے لیٹرین کو یاد کر سکتے ہیں جنہیں عرف عام میں کھڈی کہا کرتے تھے، لیکن تیسری دنیا میں ان صفائی کرنے والوں کی قسمت میں یہ گٹر جانے کب تک روزی کا ذریعہ بنے رہیں گے۔ ان کے بارے میں سجاد صاحب لکھتے ہیں کہ ”یہ خود گندے رہ کر دوسروں کی گندگی کو دور کرتے ہیں۔ اور انہیں سماج میں عزت کے قابل بناتے ہیں، کچھ دن کے لیے یہ لوگ ہماری زندگی سے خارج ہو جائیں تو سوچیے کہ زندگی کتنی مشکل ہو گی“

اس کتاب میں ان کے گھر کے مکینوں کے علاوہ محلے میں بسنے اور مختلف نوعیت کے امور انجام دینے والوں کے خاکے ہیں۔ یہ تمام وہ گمنام شخصیات تھیں کہ جن کے کام اور کردار سجاد صاحب کی یاداشت اور دل میں محفوظ رہ گئے۔ اور کمال محبت سے انہوں نے انہیں یوں لکھا کہ وہ سب عام اور گمنام سے لوگ بے حد خاص ہو گئے۔

اپنے ایک مضمون ”اک ترے جا نے کے بعد میں“ جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ان کی تحریر ایک خاص مقصدیت کی حامل ہے کہ اپنی بیگم کی موجودگی یا غیر موجودگی میں خانگی امور انجام دینے سے مردانگی پر رتی برابر فرق نہیں پڑتا۔

اس کتاب میں ان کے گھر کے مکینوں کے علاوہ محلے میں بسنے اور مختلف نوعیت کے امور انجام دینے والوں کے خاکے ہیں۔ یہ تمام وہ گمنام شخصیات تھیں کہ جن کے کام اور کردار سجاد صاحب کی یاداشت اور دل میں محفوظ رہ گئے۔ اور کمال محبت سے انہوں نے انہیں یوں لکھا کہ وہ سب عام اور گمنام سے لوگ بے حد خاص ہو گئے۔

سجاد احمد صدیقی مصنف ہی نہیں، ڈاکٹر شیر شاہ سید کی طرح پیدائشی مسیحا بھی ہیں۔ ان کی کتاب پڑھیں، اور سماج سیوا کا نسخہ حاصل کر کے اپنے دل میں انسانیت کے احساس کی پڑیا صبر و شکر کے گھونٹ کے ساتھ حلق میں انڈیل کر شفا یاب ہوں۔

یہ مسیحا طلبی ڈھونڈ رہی ہے بیمار
درد رکھتے ہیں جو دل میں وہ دوا رکھتے ہیں
میر احمد نوید

Comments - User is solely responsible for his/her words