نئی نسل کے نئے سوال۔۔۔۔خط نمبر 02


خالد سہیل کا خط نمبر 2۔ نئی نسل کے نئے سوال

محترمہ و معظمہ مقدس مجید صاحبہ!
آپ کا کالم نما خط پڑھ کر مجھے اپنی ایک پرانی غزل کے چند اشعار یاد آ گئے
؎ نئی کتاب مدلل جواب چاہیں گے
ہمارے بچے نیا اب نصاب چاہیں گے
روایتوں کے کھلونوں سے دل نہ بہلے گا
بغاوتوں سے منور شباب چاہیں گے
حساب مانگیں گے اک دن وہ لمحے لمحے کا
ہمارے عہد کا وہ احتساب چاہیں گے

آپ عمر میں چھوٹی لیکن عقل میں اپنی ہم عمروں سے بڑی ہیں۔

میں نے جب ’ہم سب‘ پر آپ کے کالم پڑھے تو میں بہت متاثر ہوا۔ آپ کو بات کہنے کا اور اپنے موقف کو احسن طریقے سے پیش کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔

جب آپ نے مجھ سے رابطہ قائم کیا تو وہ میرے لیے ایک خوش گوار حیرت تھی۔ پھر آپ نے نہ صرف میری کتاب CREATIVE MINORITYکو پڑھا اور سمجھا بلکہ اس پر ایک ایسا تبصرہ بھی لکھا جس میں میری کتاب کی روح سمٹ کر آ گئی۔ اسے بہت سے قاریوں نے پڑھا بھی ’پسند بھی کیا اور اپنے دوستوں سے شیر بھی کیا۔

جب ہم نے فون پر بات کی تو ہمیں اندازہ ہوا کہ چونکہ ہم دونوں لکھاری ہیں اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہیں اس لیے ہمارے درمیان عمروں اور جغرافیائی فاصلوں کے باوجود ایک تحریری مکالمہ ہو سکتا ہے جس سے نہ صرف ہم دونوں زندگی کے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کر سکیں گے بلکہ ان خطوط سے ہمارے قارئین بھی استفادہ کر سکیں گے۔

سقراط اور فرائڈ دونوں نے فرمایا تھا کہ مکالمہ ہمیں اپنے سچ کے قریب لے جاتا ہے۔

میں نے نوجوانی میں ہی نفسیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان سے ایران اور پھر ایران سے کینیڈا کا سفر کیا تھا اور پھر کینیڈا میں ہی بس گیا تھا۔

میں جب پاکستان کے پچھلے پچاس برس کی تاریخ پر نگاہ دوڑاتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ بعض حوالوں سے پاکستان نے ترقی کرنے کی بجائے ترقی معکوس کی ہے۔ پچاس سال پہلے جو ہم سوال پوچھ سکتے تھے اب نہیں پوچھ سکتے کیونکہ ادیب شاعر اور دانشور خوف زدہ رہتے ہیں کہ کہیں ان پر فتویٰ نہ لگ جائے کہیں انہیں جیل میں نہ ڈال دیا جائے کہیں انہیں قتل نہ کر دیا جائے۔

؎ کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا

کسی بھی قوم کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ بچوں کو سوال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
؎ ہمارے بچوں کی سوچوں پہ کب سے پہرے ہیں
کہاں سے آئے گا آزاد نوجواں کوئی

کرونا وبا سے کئی سال پیشتر جس زمانے میں میں دنیا کی سیاحت پر نکلا رہتا تھا اس زمانے میں ایک دفعہ میں یونان پہنچ گیا۔ یونان کے شہر ایتھنز میں گھومتے پھرتے اور یہ سوچتے ہوئے کہ کسی زمانے میں ان گلیوں اور بازاروں میں سقراط افلاطون اور ارسطو گھوما پھرا کرتے تھے میری ایک ٹور گروپ سے ملاقات ہو گئی اور میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ اس گروپ کی ایک ٹور گائیڈ بھی تھیں۔ اس ٹور گائیڈ نے کہا

انسانی تاریخ کا پہلا الیکشن اس شہر میں ہوا تھا۔ جمہوریت ایتھنز میں پیدا ہوئی تھی۔

میں نے اس سے پوچھا۔ جمہوریت کی کیا تعریف ہے؟

کہنے لگیں۔ جمہوریت مکالمہ ہے۔ جہاں مکالمہ ہوگا وہاں جمہوریت ہوگی۔ گھر میں مکالمہ۔ سکول میں مکالمہ۔ پارلیمان میں مکالمہ۔

جب تک ڈائلاگ چلتا رہتا ہے جمہوریت زندہ رہتی ہے جب ڈائلاگ مونولوگ بن جاتا ہے تو جمہوریت رخصت ہو جاتی ہے اور آمریت چلی آتی ہے چاہے وہ مذہبی آمریت ہو یا عسکری آمریت ہو یا سیاسی آمریت۔

جب بچہ سوال کرتا ہے جب نوجوان مکالمہ کرتا ہے تو اس کا ذہن کھلتا ہے اور وہ زندگی کے بارے میں نئی بصیرتیں سیکھتا ہے۔ مکالمہ انسانی ذہن کی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہے۔ کسی فلاسفر کا کہنا ہے

HUMAN MINDS ARE LIKE PARACHUTES
THEY WORK ONLY WHEN THEY ARE OPEN

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دینے کی بجائے انہیں گستاخ اور بے ادب کہہ کر چپ کرانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی سوچ ان کی فکر اور ان کی شخصیت کو پوری طرح پھلنے پھولنے اور پنپنے نہیں دیتے۔

آپ بخوبی جانتی ہیں کہ اگر کسی بچے کے سر پر لوہے کی ٹوپی پہنا دی جائے تو اس کا سر چھوٹا رہ جاتا ہے اور وہ دولے شاہ کا چوہا بن جاتا ہے۔ یہ ٹوپیاں لوہے کی بھی ہو سکتی ہیں ’روایت کی بھی اور اندھے ایمان کی بھی۔ ایسا کرنے سے ہم بچوں کی ایسی

SOCIAL, RELIGIOUS AND CULTURAL CONDITIONING

کر دیتے ہیں کہ اگر وہ ان روایات کو چیلنج کریں تو وہ نہ صرف اپنے خارجی ماحول سے خوفزدہ رہتے ہیں بلکہ داخلی طور پر بھی احساس گناہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کئی ایسے کئی لڑکوں اور لڑکیوں نوجوان مردوں اور عورتوں سے مل چکا ہوں جو احساس گناہ اور احساس ندامت سے اینزائٹی اور ڈپریشن کا شکار ہو گئے۔

میں نے جب ذہنی امراض کے ہسپتالوں میں کام کیا تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہ نوجوان جو اپنا ذہنی توازن کھو چکے تھے۔ جو مختلف توہمات کا شکار تھے یا جنہیں غیبی آوازیں آتی تھیں ان توہمات delusions اور غیبی آوازوں hallucinations کا تعلق یا مذہب سے تھا یا جنس سے۔

ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے مجھ پر اپنے پیشہ ورانہ تجربات اور مشاہدات سے زندگی کا یہ راز منکشف ہوا کہ مذہب اور جنس دو ایسے موضوعات ہیں جن سے نوجوان بہت پریشان رہتے ہیں اور جب وہ اپنا پورا سچ اپنے بزرگوں سے بیان نہیں کر سکتے اور ان موضوعات پر ان سے مکالمہ نہیں کر سکتے تو وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعض تو زندگی کا توازن قائم رکھنے کی کوشش میں ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔

میں نے جب ایسے نوجوان مردوں اور عورتوں کی تھراپی کی اور انہیں اپنا پورا سچ بیان کرنے کا اور تھراپی میں مکالمے کرنے کا موقع دیا تو وہ صحتیاب ہو گئے۔

میری نگاہ میں اگر والدین اپنے بچوں کو اور اساتذہ اپنے شاگردوں کو اپنا پورا سچ بیان کرنے کا موقع دیں ان کے سوال کرنے اور مکالمہ کرنے کی خواہش کا احترام کریں تو ہم ان کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کو بڑھنے سے روک سکتے ہیں اور ان کی ایک صحتمند اور پر سکون زندگی گزارنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

محترمہ مقدس مجید صاحبہ!

میں خطوط کی صورت میں اس مکالمے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ آپ چونکہ ایک غیر روایتی سوچ رکھتی ہیں تو آپ مجھے یہ بتائیں کہ پاکستان میں بسنے والے وہ نوجوان مرد اور عورتیں جو آپ کی طرح غیر روایتی سوچ رکھتے ہیں انہیں کس قسم کی مشکلات اور دشواریوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

آپ کے اگلے خط کا منتظر
خالد سہیل
22 مئی 2021

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail