سیاسی اور مذہبی رہنماؤں میں فرق صرف داڑھی کا ہے


سیاسی جماعت ہو یا کوئی مذہبی فرقہ یا گروہ، آج کل ان کی تعلیمات کی بنیاد اور آغاز صرف اسی بات سے ہوتا ہے کہ آپ سامنے والا جو مرضی کہ رہا ہو یا جو مرضی دلیل پیش کر رہا ہو، آپ نے اس کی اول تو بات سننی ہی نہیں اور اگر سننی پڑھ گئی ہے تو اس کو مکمل جھوٹ اور گمراہی سمجھ کر اور ایسا ذہن بنا کر سننا ہے۔

دلیل تحقیق اور شعور سے بالکل مخالف یہ نکتہ نظر زور پکڑ چکا ہے اور رگوں میں خون کی طرح بہہ رہا ہے۔ سیاست کی چند اگر مثالیں لیں جائیں تو ہماری مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور لیڈران صرف اپنی اپنی جماعت کے ہر قول و فعل کو آنکھیں ند کر کے حمایت کرتے اور شور مچاتے نظر آئیں گئے۔ مثال کے طور پر پاکستان مسلم لیگ نون کے اچھے کاموں کے ساتھ ساتھ درجنوں ایسے کام ہیں جو ان کے سیاسی چہرے پر کالک (داغ) کی ماند ہیں مثال کے طور پر سانحہ ماڈل ٹاؤن، بے گناہ لوگوں کا قتل عام اور مقتولین اور ان کے لواحقین کو انصاف کا قطرہ بھی نا مل سکا اور ایسے کہیں اور واقعات۔

پاکستان تحریک انصاف کے وزیراعظم نے قطر سے واپس اکر سانحہ ساہیوال کے متاثرین اور مقتولین کو انصاف دینا تھا لیکن نا وزیراعظم آئے ابھی تک نا انصاف آیا، اپنی جماعت کے نام میں انصاف کا لفظ رکھنے والی حکومت انصاف کی سب سے بڑی قاتل نکلی، ساتھ ساتھ مذہبی رہنماؤں سے اب یہ فیصلہ کروا رہیں ہیں کہ بائیولوجی کیسی ہوگی یا کیمیسٹری، میتھ پڑھانا حلال یا حرام، فزکس کے قوانین جائز یا جائز، یہ ایسی احمقانہ حرکت ہے کہ دیکھنے اور سننے والا باشعور انسان دھنگ رہ جائے اور آپ کی اس احمقانہ سوچ پر صرف اور صرف تھوکے گا۔

اسی طری پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی موجودہ صوبائی دور میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی ہوئی، ان سمیت باقی مذہبی سیاسی جماعتوں کا بھی یہی حال ہے۔ اب نقطہ کی بات یہ ہے کہ جب ان کے لیڈران اور کارکنان کو دیکھے انتہائی ڈھیٹ پن سے ان کالی کرتوتوں کو ڈیفینڈ کرتے دکھائی دیں گئے۔ تحریک انصاف کا یوتھیا بس یہ بات ثابت کرنے میں مصروف ہوگا کہ عمران خان فرشتہ ہے، بس جو بھی بورا ہو رہا وہ خود ہی ہو رہا تو وہیں پٹواری اس دوڑ میں ہے کہ نواز شریف اور ان کی جماعت ہی صرف ملک میں حقیقی جمہوری اور انصاف پسند ہیں اور جیالا تو کچھ بہت ہی آگے نکل جائے اور خود ہی یہ کہ کر کہ مجھے معلوم یہ بدعنوان جماعت لیکن ووٹ بھٹو کا۔ سیاسی مذہبی جماعتوں کے کارکنان تو ان سب سے آگے ہیں اور ایک روبوٹ کی مانند اپنے آقاؤں کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ اگر مذہبی طبقے پر نظر ڈالی جائے تو حالیہ واقعہ جو کہ مدرسہ میں ایک ڈاڑھی والے شیطان کی بچے کے ساتھ بدفعلی کی ویڈیو کا ہے اسی کو دیکھ لیں، سب سے پہلے تو جو عالم دین اس معاملے پر خاموش رہا وہ میری نظر میں منافق اور مفاد پرست ہے۔ اب آئی بات اندھی عقیدت کی تو میں سوشل میڈیا پر دیکھا کہ کہیں کارکنان عزیز الرحمن یعنی رہنما قوم لوط کو بھی ڈیفینڈ کر رہے تھے۔ کچھ تو سب جانتے بوجھتے بھی یہ کہ رہے تھے یہ یہودی سازش ہے تو کچھ کو ڈیفینڈ کرنے کو کچھ نا ملا تو کہنے لگے پتہ ہے کہ مفتی صاحب کی عمر بہت زیادہ اس لیے اگر ایسا بھی تو زیادہ کچھ نہیں ہوسکا ہوگا لہذا یہ خیر ہے۔

یعنی برے فعل کو بھی ان سے کوئی ڈیفینڈ کرنا سیکھے۔ ساتھ ہی ساتھ ایک طبقہ ایسا ہے جو سمجھ رہا ہوتا ہے کہ غلط ہو رہا پر بچپن سے دی ایک طرف تعلیم اور ان کے اندر نا ہونے کے برابر خود اعتمادی انہیں روکی رکھتی ہے اور اندھا گونگا اور بہرہ کری رکھتی ہے۔ وہ ایک نئے طریقہ سے ایسی باتوں کو ڈیفینڈ کرتے ہیں جس پر دوسرے خاموش ہو جاتے ہیں مثال کہ طور پر ایک صاحب نے لکھا مفتی صاحب ایک اچھے انسان ہیں۔ اگر انہوں نے غلط کیا تو اللہ ان کو سزا دے اور لڑکے نے کیا تو اللہ اس کو سزا دے۔ اور بس بات ختم۔

پہلی بات جس نے غلط کیا اللہ اس کو سزا دے گا ہی دے گا پر روز محشر۔ لیکن ساتھ ساتھ دنیا میں قوانین اور جرم کو سزا دینے کے قوانین بنانے کا حکم بھی اللہ کا ہی ہے اور ساتھ ساتھ برے کو برا کہنے اور اس کے ساتھ معاشرتی لاتعلقی کا حکم اللہ کا ہی ہے۔ پہلے جو اللہ نے حکم دیے وہ مان کر تو اپنا فرض پورا کرو، برے کو بورا کہوں اور برائی کو برائی، اندھی عقیدت میں ڈوب کر ان شیطانوں کے لیے ”لوپ ہالز“ تو تلاش نا کرو۔

جماعت اسلامی جیسی جماعت جس کی تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ سیاسی ہیں یا مذہبی، یہ سیاست کر رہے یا دین کی خدمت۔ 5 سال کے عرصہ میں 4 سال 8 ماہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحادی رہے اور اچانک الیکشن سے پہلے کہتے کہ یہ کرپٹ حکومت ہے لہذا ہم ان کو چوڑ رہے ہیں اور ووٹ ہمیں دو۔ 4 سال 8 ماہ اس جماعت کے کارکنان تب پی ٹی آئی کو فرشتہ صفت جماعت ثابت کرنے میں لگے رہے تو اچانک ان کے لیڈر کا بیان آیا تو فوراً سے پہلے یہ روبوٹ نما انسان اسی پی ٹی آئی کو بدعنوان ثابت کرنے میں لگ گئے۔

ایسے ہزاروں واقعات مثالیں ہیں پر چند اس لیے دی کہ آپ سمجھ سکیں۔

بس یہ سوچیے کہ جس انسان کے پاس اپنی سوچ، تنقیدی جائز لینے کی صلاحیت اور خود فیصلہ کرنے کی قوت ہی نا ہو اس انسان کا اس دنیا میں آنے کا کیا فائدہ۔

اس لیے حکومتی کرسیوں پر بیٹھے حکمران اور مذہبی عہدوں پر بیٹھے عہدیداران ہمیشہ اچھی چیزوں کا وعدہ کرے آتے ہیں اور سب اچھا کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ اس لیے لازمی نہیں کہ ان کے ہر چھوٹے چھوٹے اچھے کام کی بول کر تعریف کی جائے، کیونکہ وہ ان کا فرض ہے اور وہ ادا کر رہے اور عام آدمی اس پر خاموشی ہی اس بات کی نشانی ہے کہ وہ آپ سے مطمئن ہیں اور آپکی تعریف ہی ہے وہ۔ لیکن جو برا کرتا اسے برا کہنے کی ہمت پیدا کریں اور برے کو پھر ہمیشہ برا کہیں۔

اندھے، گونگے اور بہرے بننے کی بجائے غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کہ صلاحیت پیدا کریں۔ یہ سیاسی و مذہبی جماعتیں تو ایسا ہی چاہیں گی کہ آپ آنکھوں پر پٹی باندھ کر، کانوں میں انگلیاں دے کر ان کے حواری بنے رہیں اور اپنی سوچ اور شعور کو مار دیں۔ بس یہ یاد رکھیں ایسا کرنے والا جانور، انسان نہیں کچھ اور سمجھا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS