علم کیا، علم کی حقیقت کیا؟
لاہور میں ایک صاحب سلیم نام (ان کا پورا نام جان بوجھ کر نہیں لکھ رہا ہوں ) کے ہوا کرتے تھے انہیں پتہ نہیں کیوں یہ وہم ہو گیا تھا کہ وہ ڈاکٹر علامہ اقبال سے بڑے شاعر ہیں۔ یار دوستوں نے بھی شغل شغل میں ان کو بڑھاوا دینا شروع کر دیا اور مذاق مذاق میں بات بڑھتی چلی گئی اور وہ سچ مچ میں سنجیدہ ہو گئے اور انھوں نے واقعی خود کو اقبال سے بڑا اور بہتر شاعر جاننا شروع کر دیا۔ اب جونہی دوستوں کو احساس ہوا کہ ان کے مذاق نے تو ایک سنجیدہ رخ اختیار کر لیا ہے تو انھوں نے اس معاملے میں چپ سادھ لی لیکن وہ صاحب اب کہاں نچلے بیٹھنے والے تھے اور پھر ان کا مسئلہ یہ بھی تھا کہ موصوف نجانے کیوں یہ بھی خیال کرنے لگ گئے تھے کہ ساری دنیا ان کے خلاف سازشیں کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ مشہور ہے کہ ایک روز جو کیلے کے چھلکے سے پھسلے تو اسے بھی ایک ”بین الاقوامی سازش“ قرار دے ڈالا اور یہ فرمانے سے بھی ہاتھ نہ کھینچا کہ
”عالمی طاقتیں انھیں صفحۂ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں“
سنا ہے کہ اپنے آخری دنوں میں یہ ”علامہ اقبال ثانی“ گاڑیوں کو پتھر مارتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔ اس زعم میں یہ صاحب اکیلے ہی نہیں ہوئے بلکہ اور بھی کئی لوگ اس زعم میں مبتلا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر غالب کے دور میں یاس یگانہ چنگیزی ڈٹ کے غالب کو للکارتے ہوئے دیکھے گئے۔ وہ غالب کی بجائے میر کے قدردان تھے اور غالب کو کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے ان کی اس روش نے غالب کو کیا نقصان پہنچایا؟ اس کا تو کسی کو بھی آج تک علم نہیں ہو سکا (اور نہ ہی شاید کبھی ہو سکے گا) لیکن انہیں خود اس سے نقصان ضرور ہوا کیونکہ غالب جیسے بڑے آدمی کے خلاف اپنی توانائیاں لگا کر انہوں نے اپنے آپ کو ہی متنازع بنالیا اور غالب پرستوں نے ان کو شاعر ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ یگانہ کیسے شاعر تھے۔ ؟ اس کا ثبوت تو میں آگے چل کر دوں گا فی الحال یہاں ڈاکٹر تاثیر کے اپنے شاگرد محمود نظامی کے نام 5 دسمبر 1934 کو کیمبرج سے لکھے گئے ایک خط کی ایک لائن پیش کر رہا ہوں۔ جس میں انہوں نے یگانہ کی شاعری کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
”غالب کو شاعر نہ ماننے سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ یاس اچھا نقاد نہیں اور یہ نتیجہ یاس کی شاعری سے غیر متعلق ہے۔ اچھے شاعر عموماً اچھے نقاد نہیں ہوتے یہ اجتماع بہت شاذ ہے یاس نقاد نہ سہی لیکن اس کی شاعری سے بے اعتنائی کیوں کی جائے۔“ ؟
لیکن غالب پرستوں نے بھلا تاثیر کی ماننا تھی؟ انہوں نے تو آج تک یگانہ کو نشانے پہ رکھا ہوا ہے اور تاک تاک کے نشانے لگا رہے ہیں۔ اور میرا ذاتی خیال ہے کہ اس میں یگانہ کا اپنا قصور کافی زیادہ بنتا ہے ظاہر ہے جب آپ سب کی پسندیدہ شخصیت کو مسخ کرنے کی کوشش کریں گے بلکہ اس کی مخالفت میں پیش پیش ہوں گے تو پھر آپ کے ساتھ کیا اس کے چاہنے والے نرمی برتیں گے۔ ؟ یگانہ کے ساتھ جو ہوا اور آئندہ جو بھی ہونے والا ہے اس کی ساری ذمے داری خود اسی پر ہی عائد ہوتی ہے یہ میں اس لئے بھی کہہ رہا ہوں کیونکہ یہ ابھی تک کسی محقق نے نہیں بتایا ہے کہ یگانہ کسی کے اکسانے پر غالب دشمنی پر آمادہ ہوئے تھے۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ جوکر رہے تھے اپنی مرضی اور خوشی سے کر رہے تھے۔ اور اب ظاہر ہے اس کا نتیجہ بھی انہی کو ہی بھگتنا ہے خیر آپ کو کو یگانہ کی زبردست شاعری کے کچھ نمونے پیش کر رہا ہوں۔ انہیں پڑھئے اور سوچئے کہ اتنے خوبصورت شاعر کو کیا وہ مقام دیا گیا جس کا کہ وہ حقدار تھا؟ کیا صرف غالب کی دشمنی نے اس کو لوگوں کی نظروں سے گرایا یا کوئی اور بھی وجہ تھی؟ صاف نظر آ رہا ہے کہ یگانہ غالب دشمنی کی بھینٹ چڑھا ہے لیکن میں یہ پہلے کہہ چکا ہوں اس میں کسی دوسرے کا کوئی قصور نہیں، بہرحال آپ یگانہ کے اشعار دیکھیں۔
مجھے دل کی خطا پر یاس شرمانا نہیں آتا۔
پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا۔
مجھ سے معنی شناس پر جادو۔
حسن صورت حرام کیا کرتا۔
خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا۔
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا۔
لیکن ان کا اصل شعر تو وہ ہے جس کی وجہ سے ان کی زیادہ شہرت ہوئی۔ ان کو جب غالب سے صلح کے لئے کہا گیا تو انہوں نے نہایت عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک کمال کا شعر کہا ذرا سنئے اور سر دھنیے۔
صلح کر لو یگانہ غالب سے
وہ بھی استاد تم بھی اک استاد
دیکھئے کس مکاری سے یگانہ نے اس شعر میں خود کو بھی غالب کے مقابلے میں استاد بنا کر پیش کیا ہے یعنی اس کے برابر لا کھڑا کیا ہے خود کو۔ اب اس کا فیصلہ آپ خود کر لیں کہ کیا یگانہ کا مقام و مرتبہ کسی طور بھی غالب جیسے بندے کے برابر ہو سکتا ہے۔
کہاں غالب جیسا بے مثال، باکمال شاعر اور کہاں یگانہ اور صرف یگانہ! اب کرن اور سورج کا مقابلہ تو نہیں کیا جا سکتا ناں؟ مانا کہ وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن نہ تو انہیں اس سطح تک آنا چاہیے تھا اور نہ ہی کسی اور کو غالب دشمنی میں ایسی کوئی حرکت کرنی چاہیے۔
خیر اپنے اس مضمون کے آخر میں ہم اس شاعر کا بھی ذکر کرتے چلیں کہ جو آج کے مضمون لکھنے کی وجہ بنے ہیں۔ جی ہاں ان کا اسم گرامی اقبال ساجد ہے۔ زمانے کی گرم اور سرد ہواؤں نے ان کو کبھی اگر سکھ سے جینے اور رہنے نہیں دیا تو ایمانداری کی بات ہے کہ انہوں نے اس کا بدلہ لیا اور خوب ہی لیا اور ہاتھ بھی یگانہ کی طرح معمولی لوگوں پر نہیں ڈالا بلکہ اپنے قد سے بڑے ناموں کو ہلانے کے لئے موصوف نے جو کارنامے سرانجام دیے اس کی جھلکیاں آپ کو ان کے کلام میں واضح طور پر مل رہی ہیں۔
اس کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں ذرا۔
نئے زمانے میں ان کا جواز کچھ بھی نہیں۔
فراق و فیض و ندیم و فراز کچھ بھی نہیں۔
جب اقبال ساجد نے اپنا یہ شہرہ آفاق شعر کہا تو ظاہر ہے نہ تو فراق اور نہ ہی فیض ان سے گلہ کرنے کے لئے اس دنیا میں تھے۔ ہاں احمد ندیم قاسمی تھے لیکن اپنی شرافت اور وضعداری کی وجہ سے وہ خاموش رہے (اور کرتے بھی کیا؟ ) لیکن احمد فراز چپ نہ رہ سکے اور ان کا بولنا ان کے لئے اس لئے بھی مہنگا ثابت ہوا کہ اقبال ساجد کا جواب تاریخ کا حصہ بن گیا، کہتے ہیں کہ جب فراز نے اقبال ساجد سے اس کا گلہ کیا تو اس نے دھڑلے سے کہا۔
”تمہارا نام تو قافیے کی مجبوری کی وجہ سے شعر میں آ گیا ورنہ تم تو اس قابل ہی نہ تھے کہ میرے شعر میں آتے“
کہتے ہیں کہ اقبال ساجد کا جواب سنتے ہی فراز منہ لپیٹ کر ایک طرف کو ہو لئے تھے۔ اقبال ساجد ایسا کیوں تھا؟ وہ لوگوں کے ساتھ احسان (احسان کی بات اس لئے کی کہ مشہور ہوا تھا کہ انہی دنوں فراز نے اس کو کہیں نوکری وغیرہ لے کر دی تھی شاید) کے بدلے میں زیادتی کیوں کرتا تھا؟ اس کا جواب بھی اس کے اس شعر میں شاید ہمیں نظر آ رہا ہے؟
میں یگانہ تھا نہ غالب سے تھی میری دشمنی۔
لوگ جب حد سے بڑھے اس سطح پر آنا پڑا۔
ہم سا ہو تو سامنے آئے ٹائپ اس سوچ نے یا نرگسیت کے شکار ان لوگوں نے اگر تعمیری انداز اختیار کیا ہوتا تو اس سے ادب کو شاید کچھ فائدہ بھی ہو جاتا لیکن یہ لوگ ایسے لوگوں کے مقام و مرتبے کی ایسی تیسی کرنے میں لگ گئے جو کہ لوگوں کے دلوں میں بس رہے تھے۔ اپنے آپ کو تیس مار خاں سمجھنے والے یہ لوگ دوسروں کے پیچھے پڑنے کی بجائے اگر سنجیدگی اور خلوص سے اپنے کام کی طرف ہی دھیان دیتے تو آج ان کا ذکر منفی انداز میں نہ ہو رہا ہوتا؟ ممکن ہے بعض لوگوں کو میری بات بری لگ رہی ہو لیکن جو سچ ہے وہ میں کسی لگی لپٹی کے بغیر آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اور میں دیانتداری سے یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یگانہ کی طرح اقبال ساجد کا شعری اثاثہ بھی سراہنے کے لائق ہے۔ کاش وہ صرف اسی طرف دھیان دیتا۔
اب آپ اقبال ساجد کے کچھ خوبصورت اشعار بھی پڑھ لیں (نرگسیت کا اظہار یہاں بھی ہو رہا ہے )
عہد جدید تر کا نمائندہ کون ہے۔
گر میں نہیں تو اور یہاں زندہ کون ہے۔
کس نے نئے سخن کی بسائی ہیں بستیاں
جو خود اجڑ گیا ہے وہ باشندہ کون ہے۔
تنہا ہے کون کس کے یہ بازو ہیں ان گنت
تھامے ہوئے یہ پرچم آئندہ کون ہے
یہ لوگ اب بھی پچھلی صدی کے اسیر ہیں
ساجد سفیر لمحہ آئندہ کون ہے
آخر میں خاکسار یہی کہے گا کہ نرگسیت ایک بیماری ہے۔ خاص طور پر ہمارے لکھنے والوں کو تو اس کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ہوں گے تو یقین رکھئے کہ آپ اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اگر پھر بھی خاکسار کی بات کا یقین نہیں آ رہا ہے تو جن تین لوگوں کے حوالے دے کر میں نے آج کا مضمون لکھا ہے ان کے آخری ایام کے بارے میں کہیں سے پڑھ لیجیے آپ کو ”لگ پتہ جائے گا“ ۔


