لڑکی سے پرس چھیننے کے واقعے پر چند تاثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امت مسلمہ گزشتہ چند صدیوں سے مجموعی طور پر اخلاقی پستی کا شکار ہے۔ اس کی دلیل امت کی پستی اور حالت زار ہے۔ بہرحال یہاں موضوع بحث یہ پستی یا اس کے اسباب نہیں ہیں۔ بلکہ قارئین کی توجہ اس واقعے کی طرف مبذول کرنا مقصود ہے جو گزشتہ دنوں پیش آیا۔ ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک اوباش نوجوان سکون سے راہ چلتی برقعے میں ملبوس نوجوان دوشیزہ کے ہاتھ سے پرس کچھ اس طرح کھینچ لیتا ہے کہ وہ زمین پر بے اختیار گر پڑتی ہے۔

ویڈیو سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کو چوٹ بھی گہری آئی ہوگی کیونکہ حملہ اچانک تھا۔ لیکن دوسرے لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے وہ جلد ہی خود کو سنبھال دیتی ہے اور اٹھ کر اپنی بکھری ہوئی چیزیں جمع کرنے لگتی ہے۔ لڑکے کی اس غیر اخلاقی فعل پر سب نوجوان اپنی بہنوں کے سامنے شرمندہ ہیں۔ انسانیت اس حد تک گر چکی ہے کہ راہ چلتی نوجوان لڑکی برقع اوڑھ کر بھی محفوظ نہیں ہے۔ ایسے واقعات گشتہ کئی سالوں سے بڑھ چکے ہیں۔ لیکن زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ سرکاری یا عوامی سطح پر ان کے تدارک کے لئے خاطر خواہ اقدام نہیں کیا جاتا۔ بس وقوع کے چند دن ایسا واقعہ خبروں کی زینت بنا رہتا ہے اور پھر بھلا دیا جاتا ہے۔ اپنی اس مختصر سی تحریر میں اس حوالے سے میں چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا جو میرے خیال میں ایسے واقعوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس ضمن میں پہلی گزارش تو اپنی بہنوں سے کرنی ہے کہ وہ جب باہر نکلے تو کوشش کریں کہ پرس ساتھ نہ ہو۔ ضرورت کی اشیاء مثلاً موبائل فون، پیسے، چابی وغیرہ کے لئے قمیص یا برقعے کی جیب کا استعمال کریں۔ اس طرح ایسے واقعات کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے واقعات میں عمومی طور پر لڑکی سے پرس ہی چھینا جاتا ہے۔ اگر پرس نہ ہو تو ایسا مسئلہ ممکنہ حد تک پیش نہ آئے گا۔

یہ واقعہ ہمارے ایک قومی المیہ کا بھی مظہر ہے کہ ہم ظلم کے خلاف اٹھ کڑے ہونے کی بجائے مظلوم کے ساتھ ہمدردی کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ جائے وقوع پر چند دیگر موٹر سائکل سوار بھی موجود ہیں جو لڑکی کے گرنے کے بعد آگے بڑھ کر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی بکھری ہوئی چیزیں جمع کرنے میں مدد کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن موٹر سائیکلوں کی موجودگی کے باوجود ان میں سے کوئی بھی پرس چھیننے والے نوجوان کے پیچھے نہیں جاتا۔

حالانکہ غالب گمان یہی ہے کہ وہ اگر ایسا کرتے تو اوباش نوجوان کو جائے وقوع پر ہی پکڑ لیتے۔ بلکہ حد تو یہ ہے کہ پرس چھیننے والا نوجوان ایک موٹر سائکل سوار کے اتنے قریب سے گزر جاتا ہے کہ وہ اگر اس کی گریبان میں ہاتھ ڈالنا چاہتا تو ڈال سکتا تھا مگر وہ ایسا نہیں کرتا۔ یہ طرز عمل قابل اصلاح ہے۔ جس کسی کے سامنے ایسا واقع ہو جائے تو مظلوم کے ساتھ ہمدردی کی بجائے ہر ممکن طریقے سے ظالم کا مقابلہ کیا جائے۔ اس کام میں تکلیف بھی پہنچ سکتی ہے لیکن اس طرح اقدامات سے ایسے اوباش قسم کے نوجوانوں کو سبق مل جائے گا اور نتیجتاً ایسے واقعات میں کمی آئے گی۔

ہمارے موجودہ اجتماعی مسائل میں سے ایک بنیادی مسئلہ تربیت کا نہ ہونا بھی ہے۔ والدین سے لے کر استاد تک، سکول سے لے کر مدرسے اور مسجد تک، ہر جگہ اس کا فقدان ہے۔ مادی چیزوں پر زور تو دیا جاتا ہے مگر اخلاقی تربیت کے اعتبار سے ہر جگہ حالت افسوس ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کی اخلاقی تربیت پر توجہ دی جائے۔ ایسے دور میں کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی صورت میں اخلاقی پستی کا سامان بآسانی ہر کسی کی دسترس میں ہے، اخلاقی تربیت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ نوجوانوں میں حیاء اور پاکدامنی کے پاکیزہ اوصاف پیدا کرنے ہوں گے۔ انہیں سمجھانا ہوگا کہ باہر سکول، کالج یا راستے پر موجود دوشیزہ بھی اسی طرح قابل احترام ہے جس طرح اس کے گھر کے اندر موجود دوشیزہ ہے۔

ایسے واقعات کی مستقل روک تھام کے لئے انتظامیہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اہم اجتماعی مقامات پر سی سی ٹی وی کیمروں کا نصاب، ایسے واقعات کے لئے مستقل ایکشن فورس کا قیام وغیرہ وقت کی ناگزیر ضروریات ہیں۔ ایک ضروری امر یہ بھی ہے کہ ایسے مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔ قرآن مجید میں مالی نقصان پہنچانے والے ڈاکؤوں کے لئے مخالف سمت میں ہاتھ پیر کاٹنے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ صرف دھمکانے پر جلا وطنی کی سزا ہے۔ یہ تو حدود ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے سخت تعزیری سزاؤں کا نفاذ بھی کیا جاسکتا ہے مثلاً سر عام کوڑے مارنا یا قتل کرنا یا عمر قید وغیرہ۔

اخلاقی پستی میں شکار قومیں کبھی ترقی نہیں کرتی۔ خصوصاً مسلمانوں کے حوالے سے اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کا قانون بہت سخت ہے۔ لہذا مسلمانوں کو عوامی اور حکومتی ہر سطح پر ایسے واقعات کی مستقل روک تھام کے لئے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ وگرنہ ایسے اوباش نوجوانوں سے کسی کی مائیں بہنیں محفوظ نہ رہے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد انعام اللہ کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments