عمران خان حکومت میں بھارت نواز کشمیری رہنماؤں کی مقبولیت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق متنازعہ قرار دی گئی ریاست کے بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر سے متعلق بھارتی حکومت کے 5 اگست 2019 کے اقدام کے بعد مسئلہ کشمیر اور پاکستان بھارت تعلقات کے حوالے سے یہ انکشاف ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ تقریباً دو سال سے خفیہ مذاکرات جاری ہیں۔ کشمیر اور کشمیریوں کو جبری طور پر تقسیم کرنے والی لائیں آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کے درمیان فائر بندی سے اتفاق بھی انہی خفیہ مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

چند دن قبل مقبوضہ کشمیر میں یہ اطلاع میڈیا کی زینت بنی کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے 14 بھارت نواز سیاسی رہنماؤں کو 24 جون کو دہلی میں ملاقات کے لئے دعوت دی ہے۔ اس ملاقات میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے وہ بھارت نواز سیاسی رہنما بھی شامل تھے جنہوں نے ایک سال سے زائد نظر بندی کے بعد 5 اگست 2019 کی حیثیت کی بحالی کو اپنا واحد مقصد قرار دیتے ہوئے ”گپکار ڈیکلریشن“ کے نام سے اتحاد قائم کیا تھا۔

بھارت نواز سیاسی رہنماؤں کے اس اتحاد کے قیام کے بعد ان رہنماؤں کی طرف سے اپنے اعلان کردہ مقصد کے سلسلے میں کوئی جدوجہد تو دیکھنے میں نہ آ سکی البتہ ”گپکار ڈیکلریشن“ نامی اتحاد کے رہنماؤں کی طرف سے یہ بات خاص طور پر محسوس کی گئی ہے انہوں نے خود کو بھارت کا وفادار قرار دینے کے بیانات ایک مہم کی طرح میڈیا کی زینت بنے۔

شریک رہنماؤں کی بات چیت اور میڈیا میں شائع خبروں سے بھارتی وزیر اعظم سے ہونے والے ملاقات کی تفصیلات سامنے آئیں۔ ملاقات کی خاص بات یہ کہ مودی حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر میں انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی اور الیکشن کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا معاملہ دیکھا جائے گا۔ اس طرح مودی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے بھارت نواز رہنماؤں سے نئی حلقہ بندیوں اور ریاستی اسمبلی الیکشن کے حوالے سے اپنا مقصد حاصل کیا ہے اور ان رہنماؤں نے مودی حکومت سے تعاون کرنے کے روئیے کا اظہار کیا ہے۔

اس طرح بھارتی وزیر اعظم مودی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے بھارت نواز رہنماؤں کا ایک بھی مطالبہ تسلیم نہیں کیا تاہم ان سے انتخابی حلقوں کی نئی حد بندیوں اور مقبوضہ جموں وکشمیر اسمبلی الیکشن پر رضامندی حاصل کی ہے۔ کشمیری حلقوں کے مطابق کشمیر کے بھارت نواز سیاسی رہنماؤں نے بغیر کچھ حاصل کیے پرانی تنخواہ پہ کام کرنے پہ اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں بھارتی وزیر اعظم کی مقبوضہ جموں وکشمیر کے رہنماؤں کی اس ملاقات کے حوالے سے اگلے دن صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے ردعمل کا اظہار کیا۔ شاہ محمود قریشی نے اس ملاقات کے حوالے سے کئی ایسی باتیں کہیں کہ جو ملاقات میں ہوئی ہی نہیں اور انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے حالات و واقعات اور صورتحال کو بھارت نواز سیاستدانوں کے نقطہ نظر سے ہی بیان کیا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ایک عرصے سے مقبوضہ جموں وکشمیر کے بھارت نواز سیاستدانوں سے متعلق ”نیک توقعات“ کا اظہار کرتے ہوئے ان بھارت نواز سیاستدانوں کی ”امیج بلڈنگ“ کرتے نظر آ رہی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس میں کی گئی کئی باتیں حیران کن تھیں، خاص طور پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا کہ

”اب واضح یہ دکھائی دے رہا ہے کہ کل کی ملاقات اور ’ریورسل‘ کا جو مطالبہ انہوں نے کیا، اس پر انہیں کوئی ٹھوس جواب نہیں ملا، یہ کہا گیا کہ ہاں ریاستی حیثیت بحال کر دی جائے گی موزوں وقت پر، یہ بڑی مبہم سی بات ہے، سوال اٹھتا ہے کہ مزید کتنی کشمیری جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑے گا اس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ ہے اس کی اہمیت جتلانے کے لئے“ ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس جملے کا واضح طور پر یہی مطلب ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیری 5 اگست 2019 کی حیثیت کی بحالی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ یعنی کشمیریوں کی بالخصوص گزشتہ تیس سال سے زائد عرصہ کی جدوجہد اور قربانیوں کے مطالبہ آزادی سے یکسر قطع کر دیا گیا۔ اور ایسا پاکستان کا وزیر خارجہ کہہ رہا ہے اور کشمیر پر پاکستان کا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سرکاری حیثیت میں کہہ رہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی یہ بات اب عمومی طور پر تسلیم کی جار ہی ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر سے متعلق بھارت کے انتہائی اقدام پر درپردہ پاکستان انتظامیہ کی سہولت کاری بھی بھارت کو حاصل چلی آ رہی ہے۔ کشمیری حلقوں میں یہ بات بھی کہی جار ہی ہے کہ کشمیر کی غیر فطری تقسیم کو مستقل بنانے کے لئے آزاد کشمیر کو الیکشن میں سیاسی طور پر ”فتح“ کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے تاکہ تقسیم کشمیر پر مبنی مفاہمت میں پیش رفت کی جا سکے۔

یہ بات واضح طور پر نظر آ رہی ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں نئی حلقہ بندیوں سے مودی حکومت جموں اور وادی کشمیر کے درمیان اسمبلی سیٹوں کے فرق کو کم کرنا چاہتی ہے تاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی اسمبلی میں ’بی جے پی‘ کا اپنا وزیر اعلی بنوایا جا سکے۔ یوں ”گپکار ڈیکلریشن“ کے بھارت نواز سیاسی رہنما مقبوضہ جموں وکشمیر اسمبلی کا الیکشن جموں وکشمیر کو بی جے پی سے بچانے کے نعرے کے ساتھ لڑتے ہوئے کشمیریوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کریں گے اور پھر مودی حکومت حسب ضرورت گپکار کے مطلوبہ رہنماؤں کی شراکت سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں حکومت قائم کر لے گی۔

بھارت کی سابقہ اور موجودہ حکومت کی پالیسیاں اور ذہنیت کبھی کشمیریوں کے لئے حیران کن نہیں رہی لیکن پاکستان انتظامیہ کی طرف سے بھارتی اقدامات کے جواب میں کمزوری، سہولت کاری کا جو کردار نظر آ رہا ہے، وہ تعجب خیز ہے۔ تاہم عوامی حلقوں کو مطمئن رہنا چاہیے کہ وزارت خارجہ کی طرف سے سالہا سال تک یہی بیان دیا جاتا رہے گا کہ ”کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words