مہرو میری جان


گھر میں سب سے پہلی گاڑی ایف ایکس آئی تھی۔

ہما کے مقدر تھے۔ چھوٹی بہن، وہ پیدا ہوئی تو بس چھ آٹھ ماہ کے اندر ابو نے گاڑی لے لی۔ اس وقت میں، سب سے بڑا بھائی بارہ سال کا تھا۔

سوزوکی ایف ایکس کی سیٹیں ایسی تھیں جیسے آپ جھلنگا سی ادھ کسی چارپائی پہ بیٹھے ہوئے ہیں، باقی زندہ باد گاڑی تھی۔ بڑے عرصے رہی، آل پاکستان ٹور بھی کرایا اسی پہ ابو نے ہم سب کو ایک بار، اس کی چھت پہ کیرئیر لگا کے باڑے سے ونڈو اے سی بھی لے کر آئے، جتنی جان مار سکتی تھی اس سے زیادہ نکال لی ہم نے۔

مہران ان دنوں ایف ایکس کی جگہ لے رہی تھی۔ کراچی کے سمندروں سے لے کر گلگت خنجراب کے پہاڑوں تک یا سگریٹ اور چپس کے پیکٹ بکھرے ملتے تھے، یا پلاسٹک کی خالی بوتلیں یا پھر ایف ایکس اور مہران۔ جس جگہ تک انسان، خچر اور جیپ جا سکتے ہیں، ہر اس معلوم بلندی تک یہ دونوں گاڑیاں اپنی بہاریں دکھلاتی تھیں۔ پھر کار فنانسنگ نئی نئی شروع ہوئی تھی، یار لوگ ویسے ہی خرید کے رینٹ اے کار میں ڈال دیتے تھے، تو سین فل آن تھا مرحومہ کا۔

2004 تھا۔ زندگی میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ گھر میں دوبارہ کوئی گاڑی آئے گی۔ تین بچے تھے ہم لوگ، پڑھائی میری ختم دوسروں کی چل رہی تھی۔ اپنی شادی بھی سر پہ کھڑی تھی، گاڑی کون تنخواہ دار سوچتا ہے بدلنے کا، ہاں خواب ضرور تھا۔

اونچے خواب مت مار دیتے ہیں۔ اوقات میں رہ کے ذاتی ایف ایکس یا بہت ہو گیا تو ایک مہران کا خواب میں بھی دیکھتا تھا۔ اپنی گاڑی! آہا۔ کیا موج ہو گی، جب مرضی اڑائے پھرو۔ تب یہ خواب کافی اونچا تھا۔

ابا کا ہو گیا ٹرانسفر، بھائی کی لگی نوکری، پورا جما جمایا گھر تین شہروں کو نکل گیا۔ باس نے لالچ دیا کہ تم لاہور آ جاؤ، تمہیں گاڑی پلس ترقی دیں گے، بھائی نکل پڑا خواب کے پیچھے۔ ایف ایکس مل گئی۔ کمپنی مینٹینڈ نیلی ایف ایکس۔ ابا والی کتھئی رنگ کی تھی۔

اس کو خوب منڈو لگایا، دبا کے گاڑی سیکھی، پورا لاہور ناپتا رہا، فیلڈ جاب تھی، میں تھا اور ایف ایکس تھی، لیکن خواب، مہران کا ہوتا تھا۔ اگلے سال مل گئی مہران، اب ایک تماشا تھا۔

ہائے ہائے! بڑی درد بھری یادیں جڑی ہیں۔ کئی خواب پورے نہ ہوا کریں تو بڑی موج ہوتی ہے، بندہ دکھ میں رہتا ہے لیکن کم از کم جان بچی رہتی ہے۔ یہ اے سی مہران سانپ کے حلق میں اٹکی چھچھوندر بن گئی تھی، نہ باہر نکالنے کی اور نگلنا تو خیر کہاں ممکن۔

سب سے پہلے تو ایف ایکس کی پرسکون جھولی سے اٹھ کے مہران کی سیٹ ایسے تھی جیسے آپ اونٹ پہ چڑھ جائیں۔ کدھر ایف ایکس میں گھٹنے منہ کو آتے تھے کہاں مہران میں اٹن شن بیٹھ کے ڈرائیونگ۔ زمین آسمان کا فرق تھا۔

مہران جاپانی ٹیکنالوجی پہ بنا ایسا پاکستانی شاہکار تھی جس کا ہر دانہ ریڑھی پہ موجود امرودوں کی طرح ہوتا ہے، کسی میں کیڑا نکل آیا تو کوئی ٹھیک مل گیا۔ اپنا دانہ کیڑے والا تھا۔ نہیں مانتے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ہر گاڑی کا یکساں کوالٹی کنٹرول ہوتا ہے، ایسے کیسے؟

جس نے مہران رکھی ہو اس سے پوچھ لیں۔ ایک مہران ایسی ہو گی جو انجن آئل کے بغیر بھی چلتی رہی ہو گی، اے سی بھی فٹ ہو گا کم از کم ڈرائیور کے لیے، سٹئیرنگ بھی گزارے لائق نرم ہو گا، بریک پیڈل ہارڈ نہیں ہو گا، انجن گرم نہیں ہوتا ہو گا، پھر ایک مہران مالک مجھ جیسا ملے گا۔

گاڑی کیا آئی نحوست آ گئی۔ اے سی چلاؤ تو گاڑی اندر باہر سے گرم، نہ چلاؤ تو اتنی گرمی کہ خودی تک ابلنے لگے، بریک یقین کیجیے کھڑے ہونے جتنا زور دے کے لگانی پڑتی تھی۔ سٹئیرنگ کیا کسی شہ زور ڈالے کا ہوتا ہو گا جو اس کا سخت تھا۔ تین مرتبہ انجن ڈاؤن ہوا، کیوں ہوا، اسے ہی پتہ ہو گا یار۔

اس گاڑی پہ بھائی مکمل مستری بن چکا تھا۔ یہ جو ونڈ سکرین پہ پانی کی دھار مارنے والا سسٹم ہوتا ہے، وائپروں سے جڑا ہوا، پتہ ہے نا اس کے نیچے پلاسٹک کے پائپ ہوتے ہیں سٹرا جیسے، جو آگے لگی بوتل سے پانی ونڈ سکرین تک لاتے ہیں۔ تو شدید گرمی کے دنوں میں آخر ایک جگاڑ دماغ میں آئی۔ پانی والا پائپ سکرین وائپروں والے کام سے ہٹا کے ریڈی ایٹر کی طرف باندھ دیا۔ اب جیسے ہی گاڑی کی سوئی گرم ہو کے چڑھتی ادھر سے وائپر کا لیور کھینچ کے پانی کا ایک چھینٹا ریڈی ایٹر پہ مارا جاتا جو وہاں سے اے سی کی جالیوں پر پہنچتا اور دھوئیں بناتا غائب ہو جاتا۔

اس سائنس کو وہ بندہ سمجھ سکتا ہے جو سڑک کنارے کھڑی گرم مہرو پہ تروپے مارتا ہے پانی کے، باقی صرف اندازے کے مزے لیں۔ مہرو۔ گاڑی کو یہ لاڈلا نام ظل سبحان نے دیا ہے جو پاک وہیلز میں ہوتے ہیں، انہی کی وجہ سے شاید مہران ’باس‘ کے نام سے بھی مشہور ہوئی۔ ان دونوں القاب کا سویگ ہی الگ ہے۔ بلکہ سبحان کا ہی ایک قول بڑا ظالم ہے کہ مہران بائی چوائس کوئی نہیں لیتا، مہران مجبوری کا دوسرا نام ہے۔

اپنا لیکن خواب تھی مہران، جو ایسے ٹوٹا کہ آج تک ایف ایکس یاد آتی ہے۔

حالانکہ دو تین سال پرانا ماڈل تھا لیکن ایسا اوازار، اوئے ہوئے ہوئے ہوئے! مطلب مجھے یاد ہے ایک بار ریڈی ایٹر لیک ہوا تو ہلدی کے دو چمچ ڈال کے نان اے سی فیصل آباد سے یہاں لایا میں، بارش میں چھت ٹپکتی تھی، دھوپ میں ڈیش بورڈ اکڑ جاتا تھا، سردی میں سٹارٹ ہونا محال، چوک دباؤ تو پیٹرول کی بو اندر تک آئے گی لیکن انجن میں جان نہیں ڈلنی۔

پھر گوڈے ہر چھ ماہ بعد ، ایکسل بھئی پڑھے لکھے لوگو، تو گوڈے ہر چھ ماہ بعد کام نکال لیتے تھے۔ کھڑکا ایسا نکلتا گاڑی میں جو کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آخر کدھر سے ڈھیلا ہے اور ہے کون سا پرزہ؟ حصے کا (فرنٹ سسپینشن) کام بھی سال بعد تیار کھڑا ہوتا تھا۔ سب کچھ سستے میں ہو ہی جاتا تھا، خرچہ بڑا تھوڑا تھا مہرو کا لیکن نخرے آسمانی تھے۔

دو ڈھائی سال ’باس‘ کے ساتھ گزارا کیا بھائی نے، پھر کمپنی کو رحم آ گیا، کورے مل گئی۔ سبحان اللہ، کیا چکن گاڑی تھی!

لیکن مہرو میری جان کیوں تھی؟

جب یونیورسٹی پڑھتا تھا تو عماد اور علی مہرو پہ آتے تھے، جٹاکا سبز رنگ مہران کا، لیکن سوچتا تھا کہ اللہ میاں یہ گاڑی کبھی مل گئی تو کیسی موج ہو گی!

پھر شادی ہو چکی تھی میری، ایک دن ابو کو آئیڈیا دیا تھا، مجھے یاد ہے، کہ ’ابا، اگر ہم تینوں مل کے ایک نئی مہران قسطوں پہ لے لیں تو کیسا رہے گا؟‘ ابو نے آؤٹ آف کوئسچن کر دیا تھا۔

اس واقعے کے تین چار سال بعد ہی مالک نے سب کو رنگ لگا دیے۔ ابو کے باہر ملک تبادلے سے تنخواہ بہتر ہو گئی، بھائی کی نوکری اچھی والی ہو گئی، میری پروموشن ہوئی، سب کی اپنی اپنی گاڑی تھی، اور ہے۔ لیکن وہ جو مہرو کی حسرت تھی، اسے پا لینے کی خوشی تھی اور اسے پا کے جو بھگتا تھا۔ وہ اب یاد کرتا ہوں تو بہرحال رومینٹک لگتا ہے۔

ماضی کی خوبصورتی یہی ہے کہ گزر تو جاتا ہے لیکن ساتھ رنگ بھی بدل لیتا ہے۔ تپتی گرمی سرمئی چھاؤں بن جاتی ہے، وحشی برسات پھوار کا روپ دھار لیتی ہے اور کڑاکے جاڑے ٹھنڈی میٹھی سردی میں بدل جاتے ہیں۔

رہے نام سائیں کا!

Comments - User is solely responsible for his/her words