انتشار کی دستک

9/11 کے بعد امریکی افواج کی طرف سے افغانستان پرحملہ کیا گیا تو ملاعمرنے کہا کہ ’’امریکیوں کے پاس گھڑیاں ہیں اورہمارے پاس وقت لہٰذا یہ جنگ ہم جیتیں گے ‘‘۔

ٹھیک 20سال بعد ملاعمرکی یہ بات درست ثابت ہوتی نظرآرہی ہےکہ امریکہ کو تاریخ کی طویل ترین جنگ کے بعد واپس لوٹنا پڑ رہا ہے۔ 4جولائی تک افغانستان سے امریکہ کی ساری فوجیں نکل جائیں گی محض 650فوجیوں کا ایک دستہ رہ جائے گا جو کابل میں تعینات امریکی سفارتکاروں کی حفاظت پر بدستور مامور رہے گا۔

امریکہ اپنے پیچھے ایک کمزور افغان حکومت چھوڑ کر جارہا ہے جسکا اختیار آئے روز طالبان کے حکومتی زعما پرحملوں کے باعث موم کی طرح پگھلتا جارہا ہے۔ امریکہ اور نیٹو افواج کی روانگی کے باعث افغان فوج میں بددلی فطری ہے تاہم ابھی کسی بڑے پیمانے پر دراڑ کی کوئی قابل ذکر اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

افغانستان کے ان علاقوں میں جہاں افغان فوج موثر انداز میں موجود نہیں‘ وہاں مقامی بااثرلوگوں نے اپنی نجی ملیشیاز قائم کرنا شروع کردی ہیں۔ ظاہر ہےکہ اگر افغان فوج ، نجی ملیشیازاورطالبان کے درمیان کسی قسم کی کوئی لڑائی شروع ہوئی تو وہ بڑی خونریز ہوگی۔

جھڑپیں البتہ شروع ہوگئی ہیں۔ امریکہ جاتے ہوئے ایک اچھا کام ضرور کرنے جارہا ہے کہ وہ اپنا ساتھ دینے والوں کا تحفظ یقینی بنا رہا ہے۔ افغانستان میں قیام کے دوران جن 20 ہزارکے قریب مترجم، گائیڈز وغیرہ نے امریکہ کا ساتھ دیا تھا ان تمام افراد کو ان کے اہل خانہ سمیت امریکہ منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

یہ کم و بیش 1 لاکھ کے قریب افراد ہیں۔ ان سب کو ابتدا میں مشرقی ایشیا میں موجود امریکہ کے ملکیتی جزیرے گودام میں منتقل کیا جائے گا جہاں ان کے کاغذات کی تیاری کے بعد انہیں باقاعدہ طور پر امریکہ منتقل کردیا جائیگا۔ افغانستان میں تیزی سے رونما ہونے والی یہ حالیہ تبدیلیاں فروری 2020میں قطر میں ہونیوالے امریکہ طالبان معاہدے کا شاخسانہ ہیں۔

یہ بات طے ہے کہ افغانستان خطے کے کم و بیش 20 کے قریب بڑے عسکری گروہوں کے لئے ایک آئیڈیل جگہ بن گئی ہے۔ ان میں القاعدہ ، داعش، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، کالعدم تحریک طالبان، کالعدم جیش محمد، کالعدم سپاہ صحابہ ، کالعدم لشکرطیبہ سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہیں جو کسی نہ کسی طرح افغانستان میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ امریکہ اور عالمی برادری کی روانگی کی بیتابی سے منتظر بھی ہیں۔

امریکہ سمیت ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ افغانستان تیزی سے بحران اور انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے ایسے میں دنیا اور خطے کے مستقبل پر ان تبدیلیوں کے بڑے اثرات مرتب ہوں گے۔ مگر اس صورتحال کے سب سے زیادہ ، براہ راست اور فوری اثرات پاکستان پر مرتب ہونے جارہے ہیں۔

 افغانستان اب پڑھے لکھے اور روشن خیال افراد کیلئے ایک پرخطر سرزمین بن چکا ہے۔ آسٹریلیا نے اپنا سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان کردیا ہے امریکی سفارتخانہ نجانے کب تک کھلا رہے لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ مغربی ممالک جلد یا بدیر اپنے سفارتخانے بھی بند کردیں گے۔ ایسی صورتحال میں افغانستان کے اندر موجود پڑھے لکھے لوگ فوری طور پر نکلنے کے لئے کوشاں ہیں۔

ادھر پاکستان میں افغانستان کی صورتحال کے بارے میں کوئی بڑے مباحث ہورہے ہیں نہ پالیسی ساز حکومت یا پارلیمنٹ کو اس حوالے سے اعتماد میں لے رہے ہیں۔ البتہ 23 جون 2020 کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹرز میں ایک غیرمعمولی میٹنگ ضرور ہوئی۔

جس میں ایجنڈا نمبر ایک افغانستان ہی تھا۔ دراصل یہ 22 جنوری کو تشکیل دی گئی انٹیلی جنس کوارڈنیشن کمیٹی کا پہلا غیرمعمولی اجلاس تھا جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان نے کی۔ اجلاس میں آئی ایس آئی، ایم آئی، ایئرونیول انٹیلی جنس، نیکٹا سمیت تمام خفیہ اداروں کے سربراہوں نے شرکت کرکے افغانستان کے حوالے سے اپنی اپنی رائے دی۔

میری اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں حکومت کو بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی نئی ممکنہ صورتحال میں لوگوں کا ایک بڑا ریلہ پاکستان کی طرف آئے گا۔ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ 90 فیصد سرحد پر باڑ لگا رکھی ہے لیکن اگر بیک وقت عالمی دباؤ آیا تو ظاہر ہے سرحد کھولنا پڑے گی۔ ایسے میں پاکستان میں صرف مہاجرین ہی نہیں عسکریت پسند بھی آئیں گے اور پاکستان کی پریشانی کا سبب بنیں گے۔

دنیا بھر میں مقیم پاکستانی دیگر ممالک کی شہریت اور پانچ سال میں اپنے حقوق حاصل کرتے ہیں لیکن ہم نے 30 سال سے مقیم افغان مہاجرین کو شہریت دے کرملکی تحفظ اورمعاشی ترقی میں اپنا ہمنوا بنایا نہ انہیں حقوق فراہم کیے۔

اب مہاجرین کی ایک نئی کھیپ پاکستان آنے کی تیاری پکڑرہی ہے اور اسکے ساتھ عسکریت پسندی کا انتشار بھی پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ دروازہ کھولنے اور اپنی پالیسیاں بدلنے کے علاوہ کیا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words