بجٹ اور سیاسی چالاکیاں

پچھلے بجٹ کی طرح یہ بجٹ بھی پاس ہونا ہی تھا۔ ہمیشہ سے ہر بجٹ حکومت وقت اور حزب اختلاف کی ملی بھگت سے پاس ہوتا آیا ہے۔ اور اس بار بھی ہوا اور آگے بھی ایسے ہی ہوتا رہے گا۔ اس میں حیران و پریشان ہو کر جذباتی ہونے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے۔ میں اپنی تحریر لکھنے سے پہلے لوگوں کی رائے اور ان کے رد عمل کو دیکھنا چاہتی تھی۔
ویسے ایک واٹس ایپ سے ڈر کے سارے اچھے بچے بن جانے والے حکومتی نمائندوں سمیت اپوزیشن میں کیا اتنا دم تھا کہ اس بجٹ کے خلاف کوئی جانے کی جرات کر پاتا؟ جب سے بجٹ پاس ہوا سوشل میڈیا پر جذباتی پاکستانیوں نے تند و تیز تجزیوں سے کہرام مچایا ہوا ہوئے ہے۔
آج سارا دن تجزیہ نگاروں، صحافیوں کی طوفانی تنقید اور تجزیوں کو بڑی غور سے پڑھا اور پھر اپنے ہاتھ میں کافی کا مگ پکڑے باہر ہلکی ہلکی لنڈن کی بارش کا مزہ لیتے ہوئے سوچا کیوں نا میں اپنی ناقص رائے بھی اپنے ناظرین کے حضور پیش کر دوں۔ مجھے نمبروں کی ہیر پھیر کو جاننے میں کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ مجھے بس ایسے نمبر سمجھ آتے ہیں جس سے عام انسان کی زندگی میں فرق پڑتا ہو۔ جب ایک مزدور سارے دن کی محنت مشقت کر کے بعد چند سو روپے کما کر اپنے گھر کی گلی کی نکڑ کی دکان سے گھی، آٹا، سبزی خرید کر بوڑھے والدین کی دوائی لینے کے بعد اپنے بچوں کے لیے چاکلیٹ با آسانی خرید سکے۔ میں تب کہوں گی یہ ہے عوامی بجٹ، ورنہ یہ بجٹ تو صرف ایک دھوکہ ہے۔ بڑے بڑے بزنس والوں کو ٹیکس کی چھوٹ دے کر ان کو اربوں کا فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ اور انھیں کہا جاتا ہے۔ ہم نے اپ کا خیال رکھا۔ اب اپ الیکشن میں ہمارا خیال رکھئیے گا۔
پارلیمانی نظام اور اس ماڈرن ریاستی نظام اور معاشی نظام میں بجٹ نہیں رکا کرتے میں۔ میں اگر کچھ لمحوں کے لیے فرض کر بھی لیتی ہوں کہ اگر قائد حزب اختلاف بجٹ منظور نا ہونے دیتے تو بتائیے کیا ہوتا؟
کیا یہ حکومت گر جاتی، نہیں بالکل بھی نہیں، بلکہ قومی اسمبلی کا اسپیکر ساری قومی اسمبلی کے ممبران کی کمیٹی بنوا دیتا۔ ان کو پاس کرنا پڑ جاتا۔ چلیں وہ بھی ناکام ہو جاتے تو صدر کے پاس یہ رائیٹ تھا کہ آرڈیننس لے آتا۔ مطلب بجٹ پاس ہو ہی جاتا۔
کیونکہ حکومت کو بل پاس کروانے کے لئے صرف 172 کا نمبر چاہیے تھا اور ان کے پاس 161 کا نمبر تھا اب 138 کی اپوزیشن میں سے 11 ووٹ حاصل کرنا کون سا مشکل کام تھا۔ اپوزیشن کچھ بھی کر لیتی بجٹ پاس ہونے سے نہیں روک سکتی تھی۔ اگر اپوزیشن عقلمند ہو تو ساری صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
میری رائے کے مطابق اس بجٹ کے پاس ہونے سے حکومت کو نقصان اور اپوزیشن کو فائدہ ہوا ہے۔ اس بجٹ کے پاس ہوتے ہی اس حکومت کو آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لئے پیٹرولیم مصنوعات، بجلی وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔
آپ لوگ میری یہ بات لکھ کے رکھ لیں اگلے تین ماہ میں اور 3 اکتوبر سے پہلے پیٹرول 30 روپے تک مہنگا کرنا پڑے گا۔ اور نومبر میں ڈالر پاکستان میں 170 روپے سے 172 روپے تک پہنچ جائے گا۔ جس سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔ اور عوام کی چیخیں نکل جائیں گی۔ جس کی وجہ سے اس حکومت کو منی بجٹ لانا پڑے گا۔ اس بجٹ کے پاس ہونے کے بعد عمران خان کی حکومت کے لئے آنے والا وقت پل صراط پر سے گزرنے کے لمحات سے کم نہیں ہو گا۔
اور اپوزیشن کے پاس عوام کے زخموں پر مرہم پٹی کرنے کے لئے وقت ہی وقت۔ اگر اپوزیشن عمران خان اور اس کی حکومت کے خلاف درست کارڈ کھیلے اور عوام کے مسائل پر سیاست کرے تو آنے والا الیکشن عمران خان کی جماعت کے لئے ناکامی کی سونامی ثابت ہو سکتا ہے۔
اس بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف ملا ہو یا نا ملا ہو لیکن ان عوامی نمائندوں نے باہمی رضامندی سے اپنے لئے فری ائر ٹکٹس کو سفری واؤچرز میں تبدیل کروا کر بہت بڑا معرکہ انجام دے ڈالا ہے۔ اس ترمیم کی منظوری کے بعد اراکین اسمبلی کی خوشی دیدنی تھی۔ جیسے اس بجٹ میں انھیں سب سے بڑا ریلیف ملا ہو۔
اب بات پاکستان کی سیاست اور آنے والے وقت کے ساتھ ساتھ جنرل الیکشن پر ہو جائے۔ اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ آنے والے جنرل الیکشن میں کوئی بھی پارٹی ٹو تھرڈ میجورٹی نہیں لے سکے گی۔ اور میری یہ بات آنے والا وقت ثابت کرے گا۔ سیاسی جماعتیں اور لیڈران جتنا بھی دھندلی کا رونا رو لیں۔ کہ الیکشن مینیج کیے گئے ہیں۔ ہمارا ووٹ چوری ہو گیا وغیرہ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اب پاکستان میں دو پارٹی رول ختم ہو چکا ہے۔ اب پی ٹی آئی اپنی ناکام پرفارمنس کے باوجود اپنا ووٹ بنک بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ سب پارٹیز اپنا اپنا ووٹ بنک رکھتی ہیں۔ اور اس چیز سے انکار کرنے والا احمقوں کی جنت میں رہ رہا ہو گا۔
میں اپنی پچھلی تحریروں میں واضح لکھ چکی ہوں کہ پاکستان کی عوام کس جماعت کو ووٹ دے گی اور کسے اپنا وزیراعظم دیکھنا چاہے گی۔ اور اسٹیبلشمنٹ بھی اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا آئندہ کا لائحہ عمل بنا رہی ہے۔ کیونکہ ایف اے پاس کہلائے جانے والے ان سیاستدانوں سے زیادہ سمارٹ کھلاڑی ہیں۔ وہ عوام کی پلس کو بھانپ کر اپنی پالیسیوں کو نئے سانچوں میں ڈھالنا خوب جانتے ہیں۔
آج کا حکومت وقت کا بجٹ پاس ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر چند صحافیوں سمیت نون لیگی سپورٹرز کا اپنے ہی پارٹی صدر کو تنقید کا نشانہ بنانا میری سمجھ سے باہر ہے۔ اس وقت شہباز شریف صاحب قائد حزب اختلاف کے ساتھ پارٹی صدر اور شریف فیملی کے اکلوتے بڑے بزرگ ہیں۔ جو پاکستان میں موجود ہیں۔ ان کے تایا زاد بھائی مرحوم طارق شفیع کی اچانک ڈیتھ نے انھیں اسلام آباد سے لاہور جانے پر مجبور کر دیا۔
آج اسمبلی سے مسلم لیگ نون کے 40 کے قریب اراکین کی غیر حاضری کو شہباز شریف کی ڈیل کا حصہ کہہ رہے ہیں۔ چلیں اگر یہ ڈیل کا حصہ بھی تھی۔ تو شہباز شریف کی ناکامی کیسے ہو گیا۔ انھوں نے تو جو سوچا ہو گا۔ اسے مکمل کیا۔
تو پھر ناکام کون ہوا؟
سب لوگ اس پر بات کرنے سے گھبرا کیوں رہے ہیں؟ میرے پاس جواب تو بہت سادہ سا ہے لیکن اپ سب پر چھوڑے دیتی ہوں۔ کہ اپ فیصلہ کریں۔ اس پارٹی کے اراکین کس کی سن رہے ہیں اور کس کی نہیں۔
میری ناقص رائے میں شہباز شریف پر تنقید بلا جواز ہے۔ کیونکہ مسلم لیگ نون کا ہر ممبر کہتا ہے۔ کہ فیصلے پارٹی کے قائد میاں محمد نواز شریف کرتے ہیں۔ اور اگر وہی سب فیصلے کرتے ہیں۔ تو پارٹی کا صدر اور پارٹی کے باقی ممبر ان کے فیصلوں کے خلاف کیسے جا سکتے ہیں؟
اور اگر پارٹی کے لوگ ان کے فیصلے کے خلاف گئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پارٹی پر ان کے قائد کی گرفت کمزور ہو رہی ہے؟
میں اپنی بات یہیں پر ختم کرتے ہوئے اپ کے ذہنوں میں کچھ سوالات چھوڑے جا رہی ہوں جن کا جواب بہرحال اپ نے خود ڈھونڈنا ہے۔ سوچئے اور سمجھئے کیا سب کچھ کسی پلان کے تحت تو نہیں ہو رہا؟
گڈ کاپ بیڈ کاپ والا پلان۔

