شہد کی مکھی اور ہم

بعض اوقات میں سوچتا ہوں کے ہر جانب آزادی کی بات کیوں ہوتی ہے؟ جواب ایک ہی ہے کیوں کہ اس سے ہمارا نفس خوش بھی ہوتا ہے اور طاقتور بھی چھوڑیں نفس کو انسان کی بات کرتے ہیں ہماری فطرت میں ہے کہ ہم کسی کا حکم ماننے کی بجائے اس پر حکم چلانا پسند کرتے ہیں اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہیں، اپنی مرضی سے پہننا چاہتے ہیں حتی کہ ہر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام اپنی مرضی اور منشا کے مطابق چاہتے ہیں۔ لیکن یہ سوچ بالکل غلط ہے اور یہ بے جاہ آزادی کا فلسفہ اور نظریہ فرسودہ اور احمقانہ ہے کسی کو کچھ بھی کرنے کی آزادی کسی صورت بھی نہیں ہو سکتی نا دنیاوی لحاظ سے نا مذہبی لحاظ سے اس گفتگو کو پھیلانا چاہوں تو چند صفحے بھرے جا سکتے ہیں یہ مضمون اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کیوں کہ اب ہم آزاد نہیں بلکہ بہت زیادہ آزاد ہو چکے ہیں
میں آپ کو کچھ سادہ سادہ مثالیں دیتا ہوں مثال کے طور پے اگر کوئی یہ کہے کہ میں اسکول یا کالج میں پڑھنا چاہتا ہوں مگر مجھے آزادی چاہیے کہ میں جیسے مرضی کپڑے پہن کر آؤں جس مرضی ٹیچر سے چاہوں پڑھوں، جس وقت دل چاہے امتحان دوں جس وقت دل چاہے سکول آؤں جس وقت تھک جاؤں واپس چلا جاؤں بظاہر تو یہ سب باتیں اور مطالبات درست ہیں اور ہمیں کوئی بات غلط نہیں لگتی مگر کچھ باتیں یہ کرنے کی وجہ سے خراب ہوں گی آپ کے اور میرے یہ کرنے کی وجہ سے نا صرف سکول کا ماحول تبدیل ہو گا بلکہ شاید سکول چلانے والے بند کرنے پر مجبور ہوں جائیں گے
دوستو وہ کہیں گے یہ ادارہ ہم نے بنایا ہے اور اس کو چلانے والے ہم ہیں اور ہمارے کچھ اصول ہیں، کچھ ضابطے ہیں، کچھ قانون ہیں جن کہ تحت یہ ادارہ چلے گا جو ان کو مانے گا اس کے لئے اجازت ہے وہ آ سکتا ہے اور پڑھ سکتا ہے ہم اس کو اس کی کارکردگی کے حساب سے نمبر بھی دیں گے اور ڈگری بھی اور جو اپنے قانون بنا کے آیا ہے وہ کہیں اور جائے اسے آزادی چاہیے تو کہیں اور جا کر پڑھ لے۔
مضمون پورا پڑھیں گے تو بات سمجھ آ جائے گی کہ عنوان شہد کی مکھی اور ہم کیوں ہے۔ چلیں شہد کی مکھی کی بات کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ النحل کی آیت میں فرمایا
”اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیا کہ پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں میں اور چھتوں میں“
اس آیت مبارکہ میں اللہ نے شہد کی مکھی کو تین جگہ گھر بنانے اور رہنے کا کہا ہے 1 ) پہاڑوں میں 2 ) درختوں میں 3 ) چھتوں میں یعنی شہد کی مکھی ان تین جگہ پر گھر بنا سکتی ہے یا ان سے ملتی جلتی جگہ پراس سے اگلی ہی آیت میں چند اور اصول بھی بتا دیے ہیں اور پھر اس پر عمل کرنے والی مکھی کو سلا بھی دیا ہے ذرا آیت کا ترجمہ بغور پڑھیں
”پھر ہر قسم کے پھل میں سے کھا اور اپنے رب کی راہیں چل کر تیرے لیے نرم و آسان ہیں، اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے، جس میں لوگوں کی تندرستی ہے، بیشک اس میں نشانی ہے دھیان کرنے والوں کو،“
دیکھیں اس آیت مبارکہ میں اللہ نے واضح فرما دیا ہے کہ صرف پھل اور پھول تیری خوراک ہیں اور ان پھلوں اور پھولوں تک پہنچنے اور واپس آنے کے راستے بھی متعین کر دیے ہیں اور پھر اخیر میں فرمایا کہ اگر اس طرح چلے گی جس طرح ہم نے بتایا ہے تو تیرے پیٹ سے شہد نکلے گا اور اس میں شفا ہے۔
پیارے دوستو! آپ نے عام مکھی بھی دیکھی ہو گی اور شہد کی مکھی بھی دونوں کی زندگی میں کتنا فرق ہے ایک جہاں دل چاہے بیٹھ جاتی ہے اور اس میں بیماریاں ہی بیماریاں ہیں اس کی زندگی اپنی مرضی کی ہے کوئی قید نہیں ہے کہاں جانا ہے کہاں نہیں اور اس کے لئے انعام بھی نہیں رکھا ہے۔
آپ دوبارہ دوسری آیت کی آخری لائن پڑھیں اس میں لکھا ہے ”بیشک اس میں نشانیاں ہیں، دھیان کرنے والوں کے لئے“ اب آیت کے اس جزو میں اللہ ہم سے مخاطب ہے دوستو! یعنی جو پابند ہو گا شہد کی مکھی کی طرح اور خدا کے بیان کردہ اصولوں پر چلے گا جس طرح شہد کی مکھی چلتی ہے تو اس کے لئے انعام ہے جس طرح شہد کی مکھی کے لئے انعام رکھا ہے۔
دوستو! مومن اور کافر کا یہی فرق ہے، مومن پابند ہوتا ہے شہد کی مکھی کی طرح اور کافر آزاد ہوتا ہے عام مکھی کی طرح۔ یہ دنیا رب کی ہے اصول بھی اس کے ہوں گے قانون بھی اس کا چلے گا جس طرح سکول چلانے والے اپنے اصول بتاتے اور سکھاتے ہیں اسی طرح کائنات بنانے والے نے بھی اپنے اصول بتا دیے ہیں بس دیر تو سمجھ کر عمل کرنے کی ہے اللہ مجھے اور آپ کو شہد کی مکھی کی طرح اللہ کے بیان کردہ اصولوں پر چلنے اور عام اور بیماری والی مکھیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

