پلاسیبو (Placebo) کا اثر اور ڈاکٹر کا کردار


ہمارے الفاظ طاقت ور ہیں۔ میرے آفس میں آئن سٹائن کی تصویر کے ساتھ ان کا قول لکھا ہوا ہے کہ آپ خود وہ بن جائیں جو اس بات کو بدل دے کہ کیا ممکن ہے۔ اس کے نیچے اجمیر شریف سے لایا ہوا دھاگہ بندھا ہوا ہے جو اس بات کی یاددہانی کرواتا ہے کہ اپنی زندگی بدلنے کی طاقت کسی مزار کی جالیوں میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ پلاسیبو اور نوسیبو اثرات کے بارے میں سیکھ کر بھی میں نے محسوس کیا کہ ہم دنیا کو اپنے الفاظ سے بدل سکتے ہیں۔ یہ ہماری لامتناہی طاقت ہی ہے جس سے انسان خوف زدہ ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے محفوظ محسوس کرنے کے لیے خیالی دیواریں، فرش اور چھت تخلیق کیے ہیں۔

ہزاروں سالوں سے طبیب، حکیم اور دیگر علاج کرنے والوں کو معلوم ہے کہ خوشگوار صارفین رکھنے کے لیے نقلی علاج کارگر ہیں۔ تھامس جیفرسن خود پلاسیبو کے اثر سے حیرت زدہ تھے۔ جیفرسن نے 1807 میں لکھا، ”سب سے کامیاب معالجین نے مجھے بتایا کہ انہوں نے آٹے کی گولیاں، رنگین پانی کے قطرے اور راکھ کے پاؤڈر لوگوں کا علاج کرنے میں استعمال کیے ہیں۔ اس پریکٹس کو جیفرسن نے“نیک دھوکہ” کہا۔

گزشتہ سا لوں کے تجربے سے یہ بات بتا سکتی ہوں کہ مریضوں کو سب سے زیادہ ناپسند یہ ہوتا ہے جب آپ ان سے کہیں کہ آپ کو کوئی جسمانی بیماری نہیں ہے یا آپ کی بیماری کو کسی دوا کی ضرورت نہیں ہے۔ پلاسیبو لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ”میں خوش کروں گا۔“ زیادہ تر لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ جب تک ان کو کوئی دوا کا نسخہ نہ دیا جائے، ان کی شکایات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ہے۔ ٹیکہ لگانے والے ڈاکٹر منہ سے دی جانے والی دوا دینے والے ڈاکٹر سے بہتر تصور کیے جاتے ہیں۔ 2013 میں بنی ہوئی مشہور فلم دا فزیشن میں باربر کا کردار، راب کول سے کہتا ہے کہ علاج جتنا تکلیف دہ ہو، باربر کو اتنا ہی اچھا سمجھا جاتا ہے۔ یہ میری پسندیدہ فلموں میں سے ہے جس میں بین کنگسلی نے ابن سینا کا کردار خوب نبھایا ہے۔ تاہم پلاسیبو ایک دوا کی گولی نہیں بلکہ ایک پروسس ہے۔

ایک ایسا پروسس جو طبیب پر مریضوں کے اعتماد سے شروع ہوتا ہے اور مریض کی شفا یابی کے مکمل ہونے تک ہوتا ہے۔ معالجین مریضوں کو ان کی بیماری کی بہتر تفہیم فراہم کر کے بے بنیاد خوفوں کا خاتمہ کر کے کچھ امید فراہم کر سکتے ہیں۔ دو دن پہلے سائنس کی دنیا پر یہ گفتگو چل رہی تھی کہ حکیم ڈاکٹروں سے زیادہ مقبول شاید اس لیے ہیں کہ وہ مریض کی ڈھارس بندھاتے ہیں اور ان کو صحت یابی کی امید دیتے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ سوال ہے جس پر سروے کی شکل میں تحقیق کی جا سکتی ہے۔ ہمیں ایلو پیتھک میڈیکل ٹریننگ میں یہی سکھایا گیا ہے کہ بغیر لگی لپٹی کے بات کریں۔ مثال کے طور پر اگر کسی کو پروسٹیٹ کینسر ہو تو ایک سیدھا جملہ کہنا ہے جو کہ یوں ہے۔ ”آپ کو پروسٹیٹ کا کینسر ہے۔“

پلاسیبو کے اثر پر مبنی تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر اس سے مریضوں کے علاج معالجے میں سے بہت زیادہ مدد نہ بھی ملے تو بھی مریضوں کو اپنی زندگی پر زیادہ سے زیادہ قابو رکھنے کا احساس فراہم ہوتا ہے۔ پلاسیبو افیکٹ کے زریعے تعامل، جیسے کہ غذا یا طرز زندگی پر توجہ دینا مثبت نتیجہ برآمد کر سکتے ہیں۔ خود اپنی زندگی کے تفصیلی مشاہدات کے عمل میں، ایک مریض اپنے مسائل پر قابو پانے میں اضافے کا تجربہ کر سکتا ہے، جو خود ہی ایک طرح کا علاج معالجہ ہے۔ میں نے خود اپنے خاندان، دوستوں، اپنے بچوں اور مریضوں پر کچھ تجربے کیے ہیں۔ ایک مرتبہ میرے بھائی علی نے نیند کی دوا مانگی۔ میں نے اس کو وٹامن بی 12 کی گلابی گولی دی اور کہا کہ یہ نیند کی دوا ہے۔ وہ اس کو کھانے کے پانچ منٹ کے اندر سو گیا تھا۔

لیون آئزن برگ نے پلاسیبو کے اثر پر مندرجہ ذیل بصیرت انگیز اور مددگار خیالات لکھے ہیں۔

” پلاسیبو افیکٹ“ کہنے سے علاج معالجے کے نفسیاتی پہلوؤں کو بدنام کیا گیا ہے اور اب وہ وقت آ چکا ہے جب اس لفظ کو ہماری زبان سے خارج کر دیا جائے۔ آئیے ہم اسے کسی ایسی اصطلاحات سے تبدیل کریں جیسے کہ ”نگہداشت کا ردعمل،“ ”ڈاکٹر کا ردعمل،“ یا ”شفا یابی کا ردعمل“ کیونکہ یہ طاقت ور ہے، دوا کے اثر سے کچھ کم نہیں ہے اور مریض اور ڈاکٹر کے تعلق کا اہم حصہ ہے۔ نگہداشت کا یہ ردعمل امید فراہم کرتا ہے، مریض کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور یقین دہانی کا وہ اطمینان ہے، جو بیماری میں غیر فعال کردار کی بجائے سرگرم عمل ہوتا ہے۔ یہ بیماری کے مفہوم کی تشریح کرتا ہے۔ یہ غلط ہے کہ ”پلاسیبو“ طبی معالجے کی ایک بنیادی خصوصیت کی وضاحت کرنے کی بجائے دلیل پرستی کا تقاضا کر چکا ہے۔ ہمیں اس کے تدارک کے بجائے اس سے شفا یابی کے ردعمل کے بارے میں تفہیم لینی چاہیے۔ ”

پلاسیبو اثر کے جڑواں کو نوسیبو اثر کہتے ہیں۔ اگر پلاسیبو اثر صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ آپ کو یقین ہے کہ ایک دیا ہوا علاج فائدہ مند ثابت ہوگا، تو بالکل اسی طرح اگر آپ کو کسی علاج سے منفی توقعات ہیں تو اس کے نتیجے میں آپ میں یہی منفی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے آپ کسی کو کولیسٹرول کی دوا دیں اور انہوں نے ٹی وی پر سنا ہو کہ اس سے ٹانگوں میں درد ہو سکتا ہے تو محض یہ جاننے سے ہی ان میں یہ دوا لینے سے ٹانگوں کا درد ہو سکتا ہے۔

ایسے تجربے جن میں شرکاء کو بتایا گیا کہ کوئی کریم یا گولی کچھ لوگوں میں درد میں اضافے کا باعث بنتی ہے، یہ دیکھا گیا کہ نوسیبو اثر بھی اتنا ہی پایا گیا جتنا کہ پلاسیبو اثر دیکھا جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، نوسیبو اثرات حقیقی درد سے نجات دلانے والی ادویات کی موجودگی میں بھی ہوسکتے ہیں۔ ایک مطالعہ میں، شرکا ءکو بتایا گیا تھا کہ درد کی دوا کو روکنے کے بعد ان کا درد بڑھ جائے گا۔ حالانکہ اس درد کی دوا کا جسمانی اثر عام طور پر اگلے کئی دن تک برقرار رہنا تھا لیکن ان شرکاء میں یہ اچانک ختم ہو گیا۔ گویا منفی توقعات نے حقیقی دوا کے اثر کو منسوخ کر دیا۔ پلاسیبو اور نوسیبو اثرات کے حقیقی زندگی پر مضمرات واضح ہیں۔

ہمارے الفاظ طاقت ور ہیں۔ میرے آفس میں آئن سٹائن کی تصویر کے ساتھ ان کا قول لکھا ہوا ہے کہ آپ خود وہ بن جائیں جو اس بات کو بدل دے کہ کیا ممکن ہے۔ اس کے نیچے اجمیر شریف سے لایا ہوا دھاگہ بندھا ہوا ہے جو اس بات کی یاددہانی کرواتا ہے کہ اپنی زندگی بدلنے کی طاقت کسی مزار کی جالیوں میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ پلاسیبو اور نوسیبو اثرات کے بارے میں سیکھ کر بھی میں نے محسوس کیا کہ ہم دنیا کو اپنے الفاظ سے بدل سکتے ہیں۔ یقین انسان کی سب سے قدیم دوا ہے۔ یہ ہماری لامتناہی طاقت ہی ہے جس سے انسان خوف زدہ ہیں۔ اسی وجہ سے محفوظ محسوس کرنے کے لیے خیالی دیواریں، فرش اور چھت تخلیق کیے گئے ہیں۔ ورنہ اگر ہم کہیں کہ ہو جا تو ہوجاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words