يکم جولائی: جب 169 برس قبل سندھ سے ايشيا کا پہلا ڈاک ٹکٹ جاری ہوا


 
يکم جولائی نہ صرف مالی سال کا پہلا دن ہُوا کرتا ہے، بلکہ 1948ء میں ”بنک دولتِ پاکستان“ (اسٹیٹ بنک آف پاکستان) کے قیام اور 1970ء میں ”ون يُونٹ“ کے سیاہ دور کے اختتام سميت، کئی اور اہم قومی اور بين الاقوامی واقعات کے رُونما ہونے کا دن بھی ہے۔ اِن اہم تاریخی واقعات ميں سرِّ فہرست ايک واقعہ یہ بھی ہے کہ يکم جولائی ہی کے روز، 169 برس قبل، سندھ سے ہندوستان ہی نہیں، برِّصغير ہی نہیں، بلکہ ايشياء کی تاريخ کے پہلے ڈاک ٹکٹ کا اجراء ہُوا اور خطّے میں ایک نئے مواصلاتی انقلاب کی ابتدا ہوئی۔     
 
1852ء میں ہندوستان، ایشیا کا پہلا اور دنیا کا دسواں ملک بن گیا، جس نے اپنا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ايشيا کا یہ پہلا ڈاک ٹکٹ کلکتے سے جاری نہیں ہوا، جو اُس وقت برطانوی مشترکہ ہندوستان کا دارالحکومت تھا، بلکہ برِّ اعظم ايشيا کا یہ اوّلين ”پوسٹیج سٹمپ“ سندھ سے جاری ہوا، جو گو کہ کلکتے اور دہلی سے بہت دُور تها، مگر اپنے مثالی تعليمی اداروں، ہسپتالوں اور مشاہیر کی وجہ سے بیحد مشھور تھا۔ وادیء سندھُو کی تہذیب (انڈس ويلی سِولائيزيشن) کا گہوارہ ہونے کی وجہ سے اِس کی قديم تاریخی خطّے والی حيثيت تو خير! صديوں سے مُسمّم ہے ہی۔ اس خطہء سندھ کی تاريخی حيثيت و اہميت میں اس امر سے بجا طور پر اضافہ تب ہوا، جب 1852ء میں برِّاعظم ایشيا کا سب سے پہلا ڈاک ٹکٹ یہیں سے جاری ہو کر ہندوستان بهر میں گردش میں آيا۔
 
یہ 1758ء کا سال تھا، جب برطانوی ”اِیسٹ انڈیا کمپنی“ نے، سندھ کے حکمران طبقات کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد ٹھٹھہ میں اپنا پہلا اڈّہ قائم کر کے اِس خطّے میں اپنے تسلُّط کا آغاز کر ليا تها۔ 19 ویں صدی کے پہلے نصف کے دوران، اِس علاقے میں برطانوی تجارتی بالادستی کو افغانی قبائل کے خطرے سے دوچار ہونا پڑا۔ جنہوں نے ہندوستان کے شمال سے برطانیہ کے شاہی مفادات پر براہِ راست حملہ کیا۔ اِن حملوں پر قابُو پانے کے لئے انگریزوں نے سندھ اور پنجاب کے ملحقہ علاقوں کو آپس میں جوڑ لیا۔ جنرل چارلس جیمز نیپئر، 9 ستمبر 1842ء کو سندھ کے دارالحکومت کراچی پہنچا، اور چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں دو جُڑواں جنگوں، ”جنگِ میانی“ اور ”جنگِ دُبو“ (17 فروری 1843ء) کے بعد، وہ سندھ میں برطانیہ کا نو آبادیاتی تسلُّط قائم کرنے میں کامیاب ہوگيا۔ نیپئر کی کاوشوں کی بدولت اسے ”بمبئی پریزیڈنسی“ کی اطلاع دینے کے بعد، سندھ کا پہلا ”سِول ایڈمنسٹریٹر“ تعيّنات کیا گیا۔ 
 
ہندوستانی دریائوں کے کناروں پر آباد واديوں میں موجود متعدد تامل سلطنتوں میں، ڈاک کا قديم نظام پيغام رساں افراد (ڈاکيوں) کے ذریعہ چلا کرتا تھا۔ جن افراد کو انگریز ”ڈاک والاز“ کہتے تھے۔ خطُوط کی نقل و حمل کے لئے وصول کی جانے والی رقم، متعلقہ سفر کی طوالت اور خطوط کے وزن کے مطابق مختلف ہوا کرتی تھی۔ حالانکہ یہ مقدار کبھی ایک جیسی نہیں ہُوا کرتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ، وہ پيغام رساں افراد، سفر کے دوران ڈاک کی حفاظت کے لئے خطوط اور ديگر سامان کو کھجُور کے پتّوں میں لپیٹ کر لے جايا کرتے تھے، تاکہ سامان کو ترسيل کے دوران، موسمی اثرات سے بچايا جا سکے۔
 
اگرچہ اس نظام کو قدیم زمانے سے ہی استعمال کیا جارہا تھا، لیکن یہ نظام ”برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی“ کی نئی فوجی اور تجارتی ضروریات کے لئے جلد ہی غیر مؤثر اور ناکارہ ثابت ہوا۔ اس نئے نوآبادیاتی نظام کے تجارتی اور انتظامی بنیادی ڈھانچے کو خطّے میں ترقی کے اس نئے مرحلے میں زیادہ سے زیادہ کارکردگی کے ساتھ چلانے کی ضرورت کو محسُوس کيا گيا۔ اور اسی طرح، کمپنی بہادر کے انتظامی بورڈ کی جانب سے اُس وقت کے سندھ کے کمشنر، ”سر بارٹل فریئر“ کو اس دائرہء اختیار کے لئے ڈاک کے اس قديم نظام (پوسٹل سسٹم) میں ضرُوری اصلاحات لانے کا حکم دیا گیا۔ 1851ء میں، پُورے خطّے کی تنظیم نؤ کے لئے اصلاحات کا ایک منصُوبہ وضع کیا گیا۔ ڈاک کے اس نظام کی بہتری کے لئے سب سے پہلے تو ڈاک کے مُروّجہ معاوضوں (فی اسٹرکچر) پر نظر ثانی کی گئی، اور معاوضوں کی ایک معیاری شرح طے کی گئی ۔ جس کو ڈاکیوں (رنرز) کی جانب سے طے کئے جانے والے فاصلوں سے ماورا کيا گيا۔ ان مواصلاتی (بالخصوص ڈاک) اصلاحات میں ایک اور قابلِ ذکر اقدام یہ تھا، کہ دریائے سندھ اور ہندوستان کے ديگر درياؤں کے ساتھ واقع وادیوں کے کناروں کے ساتھ اُن ڈاکیوں کے ”رُوٹ“ بنائے گئے، جہاں سے ڈاک کو گھوڑوں یا اونٹوں کی پیٹھ پر رکھ کر لے جانے اور ایک علاقے سے دُوسرے علاقے تک منتقل کئے جانے کا جامع نظام مرتب کيا گيا۔ اسی نئے نظام میں اُن تمام راستوں (رُوٹس)، ڈاکیوں کے لئے بنائے جانے والے قواعد و ضوابط، ٹرانسپورٹ کے ذرائع کے تعيّن کے ساتھ ساتھ، ”ڈاک ٹکٹ“ کا اجراء بھی شامل تھا۔ جو برِّاعظم ایشیاء میں پہلا پہلا تجربہ تھا۔ ہندوستانی ڈاک نظام (پوسٹل سروس) کے آپريشنز میں ان اصلاحات کا مقصد یہ تھا کہ، اس ڈاک کے نظام کے تحت، کراچی جیسے اہم شہر کے ڈاکخانے کے ساتھ (جو اس دور میں بھی ایک اہم بندرگاہ تھی اور یہ شہر انگريز کے بھی اثر و نفُوذ کا مرکز تها۔) کوٹری، حیدرآباد اور پھر آگے سندھ کے شمال میں سکھر تک، ریاست کے ڈاکخانے منسلک ہوسکیں، اور پيغام رسانی (بالخصوص سرکاری خط و کتابت) کے نظام کو زيادہ مؤثر اور محفُوظ بنايا جا سکے۔ تاہم، اس نئے ماڈل نے روایتی ”ڈاکیے“ يا بقول انگريزوں کے ”ڈاک والاز“ کی اہمیت ہی کو نہیں، بلکہ وجُود ہی کو ختم کردیا۔ سندھ سے جاری ہونے والے اس پہلے ڈاک ٹکٹ کی قیمت ½ آنا رکھی گئی تھی۔ اس نئے ڈاک نظام کی ایک بنیادی خصوصیت، ڈاک کے اخراجات کی قبل از ترسيل ادائیگی تھی، جس کے لئے ڈاک ٹکٹوں کی ضرورت تھی۔ جو اس بات کا ثبوت ہوں کہ خط (ڈاک) بھیجنے والے نے ڈاک روانہ کرنے سے پہلے اس کے ڈاک اخراجات ادا کر دئے ہیں۔
 
ايشيا کے اس اوّلين ڈاک ٹکٹ میں ”برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی“ نے اپنا ”خاص نشان“ (مرچنٹ مارک يا لوگو) کندہ کيا تھا ۔  پہلے پہل یہ ڈاک ٹکٹ آج تک مُروّج ”سِيل“ (مُہر) کی صُورت بنايا گيا تها، جسے سُرخ رنگ کی گرم موم پر لگايا جاتا تها اور وہ نشان اُوپر اُبھر کر ایک ڈزائن کی صُورت دکھائی ديا کرتا تھا۔ مگر، جلد ہی اس طرز کی مہر کی خامياں درپيش آنے لگیں۔  خطُوط کھولنے والوں کو اس پريشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا کہ خطوط کھلتے ہی وہ نشان مٹ جاتا تھا۔ پهر اُس ڈاک ٹکٹ کی دوسری صُورت، سفید کاغذ پر اُبھرے ہوئے ایک ڈزائن کی صُورت سامنے آئی، جسے موم والے مُہری نشان کی جگہ پر رائج کيا گيا ۔  مگر جلد ہی اُس طرز کے ڈاک ٹکٹ کو بھی مسترد کرنا پڑا، اور اس میں بھی تبديلی کی ضرورت پيش آئی، کیونکہ اس قسم کے ٹکٹ کو کم روشنی میں دیکھنا بيحد مشکل تھا۔ آخر میں، اُسی ڈاک ٹکٹ ڈزائن میں ایک بار پھر تبدیلی کی گئی  اور  اسے نیلے رنگ کے کاغذ پر اُبھرے ہوئے ڈزائن (لوگو) والے ٹکٹ کے ساتھ شائع کيا گيا اور اسے خطُوط اور ديگر ڈاک پر چسپاں کيا جانے لگا۔
 
اس ٹکٹ پر انگریزی میں یہ الفاظ تحرير ہوا کرتے تھے:
”سندھ ڈسٹرکٹ ڈاک ـ ½ آنا“
 
تمام برِّصغير کے نوآبادیاتی علاقوں میں برطانیہ کے ڈاک ٹکٹوں کو معیاری بنانے کے لئے، دو برس بعد 30 ستمبر 1854ء کو برطانوی پوسٹل انتظامیہ نے ان ڈاک ٹکٹوں پر ”سندھ ڈاک“ کا نام لکهنا بند کردیا۔ بعد ازاں اِیسٹ انڈیا کمپنی نے کمپنی ہی کے نام سے ڈاک ٹکٹ جاری کرنا شروع کئے، جن پر برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ اوّل کی تصویر چھاپی جانے لگی۔ 
 
½ آنے والے سندھ ڈاک کے ان ڈاک ٹکٹوں کو اب پوری دنیا میں موجود کرنسی کے عجائب گھروں یا شائقين کے ذاتی اسٹمپ کليکشن میں ایک نایاب اور کلاسک ڈاک ٹکٹ کے نمونے کے طور پر ديکها جا سکتا ہے۔ جو اس امر کی وجہ سے ممتاز ہے، کہ یہ ايشيا کا سب سے پہلا ڈاک ٹکٹ تھا، اور آج ايشيا کے کئی ممالک ہم سے ڈاک سمیت مواصلاتی نظام کے ديگر شعبوں میں بھلے کہیں زيادہ ترقی يافتہ ہوں، مگر اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اُنہیں ڈاک کا نظام یہیں سے تقليد کے لئے تشکيل دینے کو ملا۔
 
Facebook Comments HS