اوورسیز پاکستانیوں کا ووٹ
وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے اپنے پرانے وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے غیر ممالک میں بسنے والے لاکھوں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دلوانے کے لئے قانون سازی کردی اور اب یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ حالانکہ اپوزیشن نے اس قانون کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں، کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ ان کو کبھی نہیں ملنے والے۔ لیکن حکومت پاکستان بھی اتنی ہی بھولی ہے کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے کی راہ میں کتنی شرائط رکھ کر یہ سہولت دینے جا رہی ہے جس سے اوورسیز پاکستانیوں کے لئے مشکلات ہی مشکلات اور اپوزیشن کو خوشیاں ہی خوشیاں مل رہی ہے۔
میں وضاحت سے بتانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اوورسیز کی مشکلات کیا ہیں؟ سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ پاکستان کے رہنے والے شہری تو کوئی بھی ایک شناختی دستا ویز مثلاً شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈومیسائل وغیرہ چاہے وہ زائد المیعاد بھی ہو، دکھا کر ووٹ ڈال سکتا ہے۔ لیکن اوور سیز پاکستانیوں کی جانب تو ان کے لئے ایک ساتھ تین تین دستاویزات کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے جس میں NICOP کارڈ سر فہرست ہے۔ اس کے بعد آتا ہے پاکستانی پاسپورٹ اور آخیر میں متعلقہ ملک میں آپ کی رہائش کا قانونی سٹیٹس کا پروانہ۔
یاد رہے ان سب دستاویزات کا اپ ڈیٹ ہونا لازمی ہے۔ یعنی بیرون ملک پاکستانی ووٹر سب سے پہلے اپنے تمام ڈاکومنٹ Validکروائے جس پر سینکڑوں ڈالرز کے برابر رقم خرچ کرے۔ یہاں کینیڈا میں پاکستانی کارڈ کی فیس$ 75 ہے اور اگر کسی ایجنٹ کے ذریعے درخواست دی جائے تو اس کی سروس فیس ملا کر یہ کارڈ $ 125 میں پڑتا ہے۔ اس کے بعد پاکستانی پاسپورٹ جس کی فیس پاکستانی ہائی کمیشن نے $ 90 مقرر کر رکھی ہے۔ اب اگر کسی کے پاس ایک بھی دستاویز ایکسپائر ہے تو اسے پہلے اسے اپ ڈیٹ کروانے کے لئے اپنے باقی کام چھوڑ کر بھاگ دوڑ کرنا پڑے گی۔
اس کے بعد یہ کم نصیب ووٹ ڈالنے کا حقدار ہوگا۔ تارکین پاکستان کی بہت بڑی تعداد پوری فیملی کی صورت میں بھی بیرون ملک آباد ہیں۔ اب اگر وہ سارے بالغ لوگ اپنا ووٹ کا حق استعمال کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس خاندان کے سارے افراد کے ڈاکومنٹس اپ ڈیٹ کروانے ہوں گے، جس پر ان کا کافی بجٹ اور وقت صرف ہو جائے گا۔ ان خاندانوں میں سے 50 %تو اس لمبے خرچے اور خجل خرابی کا سوچ کر ہی ووٹ ڈالنے کو بھول جائیں گے۔
کیا ہی اچھا ہوتا اگر پاکستان میں موجود شہریوں کی طرح صرف ایک ہیValid شناختی دستاویز کے ساتھ ووٹ ڈالنے کا آسان طریقہ غیر ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں پر بھی لاگو کر دیا جاتا۔ اگر تارکین وطن زرمبادلہ بھیج کر پاکستان کی تعمیر اور ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں تو ان کی ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار اور لوازمات کو بھی آسان بنانا ہوگا، تاکہ وہ بھی اپنی پسند کے نمائندوں کو چن سکیں۔ فی الحال تو اپوزیشن کو پاکستانی حکومت کے ان اقدامات پر پھمنیاں ڈالنی چاہئیں کہ ان شرائط کی موجودگی میں اگر تارکین وطن کی 10 %آبادی بھی ووٹ ڈال لے تو بہت ہوگا اور پی ٹی آئی کو بیرون ملک سے ووٹوں کی وہ تعداد کبھی نہیں مل سکے گی جو وہ چاہ رہی ہے۔
اپوزیشن تو ویسے بھی تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کی مخالف ہے جس کے ثبوت کے طور پر احسن اقبال کا تارکین وطن کے بارے میں دیا گیا بیان ہی کافی ہے۔ اب اگر شہباز شریف نے عوامی رد عمل کو دیکھ کر پینترا بدلا ہے تو دودھ میں کافی حد تک مینگنیاں ڈال کر اس کو قبول کیا ہے جس میں ایک بڑی شرط الیکشن کے موقع پر تمام تارکین وطن پاکستان واپس آ کر ووٹ ڈالیں۔ یعنی نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔ اب کون اپنی پوری فیملی کے ٹکٹ خریدے اور وطن کی اڑان بھرے، اب 90 لاکھ پاکستانی یک دم پاکستان آنے سے تو رہے۔
میری پاکستان کی وزارت خارجہ کے افسران اور الیکشن کمیشن کے متعلقہ افسران سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدہ طور پر لیں اور تارکین وطن کی حق رائے دہی کو آسان تر بنانے کی کوشش کریں تاکہ وہ بھی اپنے وطن کی تعمیر اور ترقی میں اپنی توانائیوں کے ساتھ شرکت کر سکیں۔


