احمدی خلیفہ کا بلوچستان کو احمدی بنانے اور ہندوستان سے وفاداری کا اعلان


\"\"

قیام پاکستان کے بعد احمدی اور احراری کشمکش پورے عروج پر تھی۔ ڈاکٹر اسرار احمد ان ایام کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس وقت مذہبی جماعتوں کو مسلم لیگ نے شکست فاش دی تھی اور اس شکست سے نکلنے کے لئے وہ مذہبی جذبات کا سہارا لے کر سیاست میں اپنی واپسی چاہتی تھیں۔ جماعت احمدیہ اور مسلم مذہبی جماعتوں کے درمیان قیام پاکستان کے بعد سے ہی ایک شدید کشمکش شروع ہوئی جس کا نقطہ عروج سنہ 1953 میں لاہور میں ہونے والے احمدی مخالف فسادات تھے جس کے بعد لاہور کی حدود میں پاکستان کا پہلا مارشل لا لگایا گیا۔

قیام پاکستان کی جدوجہد میں جماعت احمدیہ نے بھرپور حصہ ڈالا تھا اور احمدی مسلک سے تعلق رکھنے والے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کے پاکستانی حکومت میں عروج میں اس جماعت کو اپنا عروج دکھائی دیتا تھا۔ جماعت احمدیہ کے خلیفہ بشیر الدین محمود اس دور میں بہت نمایاں رہے اور انہوں نے پاکستان میں نفاذ شریعت کا مطالبہ بھی کیا، مسلم لیگ کی ممبر شپ غیر مسلموں کے لئے کھولنے کا بھی کہا، اور پورے بلوچستان کو احمدی بنانے کا ارادہ بھی ظاہر کی۔ آئیے اس دور کی چند جھلکیاں دیکھتے ہیں اور احمدی مخالف جذبات کے ملکی سیاست میں اہمیت اختیار کرنے کی چند وجوہات جانتے ہیں۔

\"\"

جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے کوئٹہ میں 23 جولائی 1948 کو ایک تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’بلوچستان کی آبادی پانچ چھ لاکھ ہے اور اگر ریاستی بلوچستان کو ملا لیا جائے تو اس کی آبادی گیارہ لاکھ ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک یونٹ ہے اس لئے اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ زیادہ آبادی کو تو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کا بہت جلدی احمدی بنایا جا سکتا ہے۔۔۔ یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ہمارا اڈہ مضبوط نہ ہو۔ پہلے اڈہ مضبوط ہو تو پھر تبلیغ پھیلتی ہے۔ پس پہلے اپنا اڈہ مضبوط کر لو۔ کسی نہ کسی جگہ اپنا اڈہ بنا لو۔۔۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنا لیں تو کم از م ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے اور یہ بڑی آسانی کے ساتھ ہو سکتا ہے‘۔

مارچ 1949 کے اوائل میں فرقہ احمدیہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا کہ ’جونہی حالات درست ہو گئے ہم اپنا مرکز فوراً قادیان میں منتقل کر دیں گے اور حکومت ہند کے وفادار شہری بن کر رہیں گے۔ لاہور ہمارا عارضی مرکز ہے۔ ربوہ میں پاکستان کی احمدی تحریک کا مرکز رہے گا لیکن ہم قادیان کے سوا کسی اور جگہ کو دنیا میں احمدی تحریک کے مرکز کی حیثیت دینے کا خیال تک نہیں کر سکتے‘۔

\"\"

نوائے وقت کا اس انٹرویو پر تبصرہ یہ تھا کہ ’عام حالات میں یہ اعلان بالکل بے ضرر ہوتا مگر موجودہ غیر معمولی حالات میں حیرت انگیز ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ مرزا صاحب کا لاہور یا پاکستان میں قیام عارضی ہے اور وہ عارضی طور پر پاکستان کے شہری ہیں اور اس لئے پاکستان سے ان کی وفاداری کی نوعیت بھی عارضی ہی ہے۔ ان کا مستقل مستقر قادیان اور مستقل وطن ہندوستان ہے۔ جناب مرزا صاحب ایک عرصہ سے سیاسیاتِ پاکستان، بالخصوص کشمیر کے معاملات میں بڑی گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ اگر ان کی پوزیشن یہی ہے کہ وہ دراصل ہندوستان کے شہری ہیں تو ظاہر ہے کہ جن صاحب کے دماغ میں ہر وقت یہ بات ہو گی کہ ان کا اصل وطن ہندوستان ہی ہے اور انہیں ہندوستان میں ہی واپس جانا ہے وہ خواہ مخواہ اپنے مستقل وطن ہندوستان کے مفاد کو اپنے عارضی وطن پاکستان کے مفاد پر ترجیح دیں گے۔ اگر یہ بات درست ہے تو مذہبی عقائد کے اختلاف کی بحث کو قطعاً نظرانداز کرتے ہوئے ہم ان کی خدمت میں بڑے ادب کے ساتھ یہ عرض کریں گے کہ وہ پاکستان اور کشمیر کے سیاسی معاملات میں بالکل دخل نہ دیں۔ ان کے قول کے مطابق پاکستان میں ان کی حیثیت ایک ہندوستانی پناہ گزین کی ہے۔ دنیا کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ جب ایک ملک کا آدمی عارضی طور پر دوسرے ملک میں پناہ لیتا ہے تو وہ اس ملک کی ریاست کے معاملات میں دخل دینے سے کلی اجتناب کرتا ہے‘۔

بحوالہ ’پاکستان کی سیاسی تاریخ‘ جلد 11 از زاہد چوہدری


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1502 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
5 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments