افتخار عارف کا کثیر الابعاد شعری پرتو!
یک رخا شعر جلد موت سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔ چونکہ معنیاتی پہلوؤں کے بغیر اس میں صرف ایک لفظی پرت ہوتی ہے، جو اس کے سطحی چہرے سے فوراً پردا اٹھا دیتی ہے۔ عروس سخن کا یوں عریاں ہونا اس کے باطنی اور ظاہری حسن کو نہ صرف وسعت پذیر ہونے سے روکتا ہے بلکہ قاری کی لذت اندوزی کا سارا ذائقہ بھی کرکرا کر دیتا ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ یک رخا شعر جس کی جڑیں لاشعور کے گہرے وجدان سے نمو نہیں پاتیں، آیا وہ شعر ہے بھی کہ نہیں۔
اس سے ہر گز یہ مراد نہیں نہیں کہ ایک اچھا شعر دور از کار تشبیہات سے مزین ہوتا ہے۔ وہ چیستان تو ہو سکتا ہے شعر نہیں۔ اگر لفظ و معنی کے اختلاط میں ربط نہیں تو شعر اندھا ہو جائے گا۔ کیونکہ بے جا صناعی و مرصع سازی معنی کے آگے دبیز چادر تان دیتی ہے۔ جیسے سورج کی روشنی گہرے سیاہ بادلوں میں چھپ جاتی ہے۔ اگر سورج کے گرد بادل کم ہوں اور روشنی گہرے سیاہ بادلوں سے چھن کر نکل رہی ہو اور سورج کبھی عیاں کبھی نہاں ہو رہا ہو تو بادلوں میں تصویر کاری کا جادوئی کھیل شروع ہو جاتا ہے جو نہ صرف افق پر قوس قزاحی رنگ بکھیر دیتا ہے بلکہ بادل کے ٹکڑے میں رنگ برنگے قمقمے روشن کر دیتا ہے۔ یہی لفظ اور معنی کا کھیل ہے جو کسی شعر میں پہلو دار معنویت کو پیدا کراتا ہے۔
ایک عظیم شعر تغیر پذیر معنی کے ساتھ زمانوں میں سفر کرتا ہے یا زمانے اس میں سفر کرتے ہیں۔ ایسے اشعار لا شعوری قوتیں شاعر سے لکھواتی ہیں، شاعر محض آلہ کار ہوتا ہے۔ ہمارے عہد میں اس پہلو دار سخن کا علم بردار افتخار عارف ہے۔ کلاسیکی ادب نے ولی دکنی، میر و سودا، ذوق و غالب، آتش و ناسخ، انیس و دبیر اور اقبال و فیض کے بعد مشعل سخن اس کے ہاتھ میں دی ہے، جس کا اسے پورا احساس ہے۔
انیس و آتش و اقبال سے مسلسل ہے
یہ سادہ کاری یہ صناعی ء نگینۂ خواب
اسے آپ خود شناسی یا اپنی ذات کا کوہ گراں تیشہ ء لفظ سے کھود کر معنی کی جوئے شیر لانا بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ وہی مقام ہے جہاں ایک بڑا شاعر اعتبار ذات کا پرچم اٹھا کر لفظ و معنی پر حکم چلاتا ہے، اور یقین کے کشت زاروں کو سیراب کرنے کے لیے غزل کا ساز چھیڑتا ہے،
غزل بعد از یگانہ سرخرو ہم سے رہے گی
انیس و آتش یگانہ محرمان عالم حرف
اور اب اس سلسلے کی آبرو ہم سے رہے گی
افتخار عارف کا شعر تغیر پذیر معنوی پرتو کے ساتھ لفظ کے آئینہ میں زمانے کی مناسبت سے آشکار ہونے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اس لیے کہ شعر کی وجد آفریں تجلی میں اسلوب بیان کثیر الابعاد ہے۔ ایسا شعر صدیوں کا فاصلہ طے کرتا ہے اور اس کی تازہ کاری ختم نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کے کئی پہلو ہوتے ہیں جو کبھی عام اور کبھی خاص قاری کے ذہن پر نقش طرازی کرتے ہیں۔ ایسی تخلیقات جہاں تہذیب پرور ہوتی ہیں وہاں انسانی عقل کو سچ کی طرف ہانکتی ہیں۔ مثلاً یہ شعر دیکھیے
یہ جو پتھروں میں چھپی ہوئی ہے شبیہ یہ بھی کمال ہے
وہ جو آئینے میں ہمک رہا ہے وہ معجزہ بھی تو دیکھتے
اس میں کوئی نقاد پتھر میں نہاں شبیہ اور آئینہ میں ہمکتا ہوا معجزہ پر حتمی اور قطعی رائے قائم نہیں کر سکتا۔ کیونکہ شعر میں معنوی عکس قاری کے ذہن کے مطابق تغیر پذیر ہے۔ جب شعر اپنا معنیاتی پہلو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو زمانے کی دست برد سے ماورا ہو جاتا ہے۔ افتخار عارف کے اشعار تہہ در تہہ معنیاتی روشنیوں کے ساتھ قاری کے ذہن میں نہ صرف باغ چراغاں کا منظر پیدا کرتے ہیں بلکہ پہلو دار مسافت کے ساتھ ہر قاری کو اس کی ذہنی سطح کے مطابق معنی سے سیراب کرتے ہیں۔
بلیغ شعر وہی ہے جو خاص و عام ہر دو کے لیے ان کی واردات قلبی کا غماز ہو۔ اگر شعر صرف خاص اہل ذوق کے لیے لطف اندوزی کا سامان فراہم کرے تو اس کے اعلیٰ اسلوب سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور اگر عام ذہن کو بھی ذرا سا چھو جائے تو وہ مکمل شعر ہے۔ اگر صرف عام ذہن کو متاثر کرے تو اس کے شعر ہونے میں شک ہے۔ شاعر ہمیشہ بڑے دماغ کو متاثر کرتا ہے۔ تہذیب اپنا بیانیہ شعرا سے مستعار لیتی ہے۔ مندرجہ ذیل اشعار پہلو دار ہونے کی وجہ سے انسانی ذہن کو متاثر کرنے کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔
ذرہ ہوں منسوب ہوا ہوں مہر کے ساتھ
روشن رہنا مجھ پر واجب آتا ہے
منظر سے ہیں نہ دیدۂ بینا کے دم سے ہیں
سب معجزے طلسم تماشا کے دم سے ہیں
حجاب شب میں تب و تاب خواب رکھتا ہے
درون خواب ہزار آفتاب رکھتا ہے
جو ہاتھ اٹھے تھے وہ سبھی ہاتھ تھے میرے
جو چاک ہوا ہے وہ گریباں بھی مرا ہے
استعاراتی زیور کے ساتھ ساتھ اشارہ و کنایہ کا میک اپ عروس سخن میں تصویر کاری کا طلسم پیدا کر دیتا ہے۔ ایک ذہن میں شعر کی جو تصویر ظاہر ہو گی دوسرے ذہن میں اس کا رنگ بدل جائے گا۔ افتخار عارف کا شعر آئینہ خانے میں طلسماتی رنگوں کا فانوس ہے جو قاری کو مختلف زاویوں سے مختلف نظر آتا ہے۔ ایک دفعہ آدمی سمجھتا ہے شعر کا مفہوم یہ ہے، دوسری بار کوئی اور پہلو دریافت ہو جاتا ہے۔
خروش گریہ ء بے اختیار ایسا تھا
تڑخ کے ٹوٹ گیا رات آبگینۂ خواب
سیاہ خانۂ خوف و ہراس میں اک شخص
سنا رہا ہے مسلسل حدیث زینۂ خواب
شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں
مگر لہجوں میں ویرانی بہت ہے
محولا بالا اشعار میں تصویریت معنیاتی پیکر تراشی میں کئی زاویوں سے ذوق جمال کے لیے لطف و نشاط کا سمان پیدا کر رہی ہے۔ ایک بڑا شاعر جب کسی لفظ کو چھوتا ہے تو اسے تغیر پذیر رنگ و نور کے پیرہن پہنا دیتا ہے۔ ہر مصرع میں بحر مواج سفر کرتا ہے۔ ایسے اشعار ان نفسیاتی اور خیالی تصویروں کی طرح ہوتے ہیں جو مختلف زاویۂ نگاہ سے مختلف نظر آتی ہیں۔ چونکہ شعر میں منظر کشی کا عنصر پوری قوت سے موجود ہوتا ہے، اس لیے یہ مختلف ذہنوں میں مختلف منظر پیدا کر دیتا ہے۔ افتخار عارف کے شعر نے شہرت کے سفر اسی زینے سے طے کیے ہیں۔
شاعر کا لا شعور پوری قوم کا اجتماعی لا شعور ہوتا ہے۔ قوموں کے احساسات و جذبات جنھوں نے ابھی زینۂ خواب طے نہیں کیا ہوتا ہے، شاعر ان کی تعبیر بتاتا ہے۔ افتخار عارف کا ایک نعتیہ شعر ملت اسلامیہ کے اجتماعی شعور کی مکمل عکاسی کرتا ہے
رحمت سید لولاک پہ کامل ایمان
امت سید لولاک سے خؤف آتا ہے
نعت کا لطیف قرینہ احتجاج اور مزاحمت کی روایت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ نعت میں شاعر اپنی عجز و انکساری اور پیغمبر اسلامﷺ کے اوصاف حمیدہ بیان کرتا ہے۔ لیکن اس شعر کے دوسرے مصرع میں احتجاج اور مزاحمت چلا چلا کر اعلان کر رہے ہیں کہ امت مسلمہ راہ اعتدال سے ہٹ گئی ہے۔ اس شعر میں میانہ روی کا سبق بھی ہے اور ملت کے درد کا درماں بھی۔ یہ شعر اردو ادب میں ایک منفرد مقام کا حامل شعر ہے۔ افتخار عارف کی شہرت کا سورج جہاں طاقت ور وجدان کے افق سے طلوع ہوا ہے، وہاں ان کا منفرد اسلوب انھیں اردو ادب میں ایک ممتاز مقام پر فائز کرتا ہے۔ افتخار عارف کی شاعری مروجہ اسالیب کا تسلسل نہیں ہے۔ نہ ان کے اشعار میں کسی بڑے شاعر کا اسلوبیاتی شائبہ نظر آتا ہے۔ جس طرح دلہن بہت سی حسیناؤں میں اپنے پیرہن کی وجہ سے مختلف نظر آتی ہے۔ اسی طرح ان کا شعر سب سے الگ اور منفرد ہے۔
خلق نے اک منظر نہیں دیکھا بہت دنوں سے
نوک سناں پہ سر نہیں دیکھا بہت دنوں سے
سچے سائیں ہمارے حضرت مہر علی شاہ
بابا ہم نے گھر نہیں دیکھا بہت دنوں سے



