اسلام خطرے میں ہے


عمر کی بہت سی بہاریں دیکھنے کے بعد ایک بات تو قطعی ہے کہ بھئی۔ اسلام ہمارا تب سے خطرے میں ہے جب سے ہم اول اول اسکول جانا شروع ہوئے۔ اسکول جانے سے پہلے ہی ہماری مرحومہ والدہ مسجد میں بھیج دیتیں تو وہاں مولوی صاحب فرما رہے ہوتے کہ آج کے انسان میں شرم نام کی تو کوئی چیز رہ ہی نہیں گئی اسلام کو ہر طرف سے خطرہ ہے۔ بھلا بندہ پوچھے (جو کوئی بھی نہیں پوچھ سکتا تھا، اور آج بھی نہیں پوچھ سکتا) کہ مولوی صاحب آپ نے بے شرمی کا کوئی واقعہ اتنے انہماک سے دیکھا ہی کیوں؟ (ویسے اس بات کا کوئی تعلق جناب انصار عباسی اور محترمہ علیزے شاہ سے نہیں ہے! ) ۔

تو حضرت بات ہو رہی تھی اسلام کو خطرے کی، اس کے بعد جب ہم اسکول، کالج اور پھر یونیورسٹی پہنچے تو وہاں بھی دو گروہ نظر آئے۔ ایک نیک اور پاک سیرت نوجوانوں کا گروہ جو زندہ ہے جمیعت زندہ ہے کے نعرے لگاتا پھرتا اور اسی چھتری کے نیچے بینڈ باجہ اور برات بھی آتی رہی۔ اور دوسری جانب کفار کا گروہ جو درود کی محافل بھی کرواتا تو اس پر بھی فتویٰ سننا پڑتا۔ اسلام کو خطرے کا یونیورسٹی میں بھی سامنا تھا۔ زندگی کے یہ حسین دن صرف نظریں نیچی کر کے ہی گزارنے پڑے کہ ہم ٹھہرے ہمیشہ کے بزدل۔ اگر کسی نے کہا کہ بھئی عورتوں کے پردہ کا حکم ہے تو مردوں کو بھی اپنی نظریں جھکانے کا حکم اسی پاک کلام میں ہے۔ مگر شاید انسان ہمیشہ اپنے پسند کے احکامات ہی مانتا چلا آیا ہے۔

زندگی کی گاڑی تو جیسے تیسے چلتی رہی اور چل رہی ہے لیکن اسلام آج بھی خطرے میں ہے۔ حالانکہ اب تو شرارتی منوں کی بجائے مدنی منے بھی میدان میں آ چکے ہیں۔ اور وہ بڑی تیزی سے بڑے ہو کر اسلامی بہن بھائی بھی بن رہے ہیں۔ لیکن اسلام اب بھی ویسے ہی خطرے میں ہے جیسے آج سے کئی سال پہلے تھا۔ رہی بات جدید میڈیائی رنگینیوں کی تو اس کی بابت ہم تو شاید کچھ لمحات دے پائیں یا کبھی زندگی کی آزمائشوں میں اسے مس کر جائیں مگر بھلا ہو آج کے جدید مولویوں کا (خدارا ہمارا اشارہ پھر انصار عباسی صاحب کی طرف نہیں ہے کہ وہ کس دلجمعی سے کچرے جیسے پروگرام سے بھی عریانی و فحاشی کے تانے بانے ڈھونڈ لاتے ہیں ) ۔

عوام تو بے چارے ہیں ہی افواہوں پے یقین کرنے والے تبھی تو سب نئے آنے والوں کو سر پے بٹھا لیتے ہیں اور ہر طرح کی افواہوں پے یقین کر لیتے ہیں، خواص بھی آج کل کانوں کے کچے ہی نکلتے ہیں۔ جبھی تو ہر بے پر کی اڑانے والا بھی اتنی ہی اہمیت لیتا ہے جتنی شاید ایک ریسرچر سوچ بھی نہ سکتا ہو۔ اسی طرح کے ایک بے پر کی اڑانے والے کی ہمت تو دیکھیں کہ سر محفل فرما رہا تھا کہ حضور تتلیوں کی ہر محفل کو زینت اخبار بنانے میں آج کل ایک بازاری سا نسخہ آزمایا جا رہا ہے کہ محفل کے بعد کچھ مولانا قسم کے حضرات فوراً اس پروگرام میں فحاشی فحاشی کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے پروگرام کی ریٹنگ آسمان کو چھونا شروع کر دیتی ہے اور جس بات کا پتہ چند لوگوں کو ہونا تھا اس کا ڈھنڈورا سارے زمانے میں پیٹا جانا شروع ہو جاتا ہے۔

خوف سے لرزتے ہوئے ہم نے اس عقل سے پیدل شخص کو ڈانٹا کہ بھائی کیوں خود بھی مرنا ہے اور ہمیں بھی اس عمر میں ذلیل کروانا ہے۔ تو ترنت بولا، بڑے ہی کور چشم واقع ہوئے ہو، اتنی سی بات نہیں سمجھتے کہ فحاشی تو جہاں بھی شروع ہوئی ہو وہ تو کام ہی غلط ہے بھلا دین کے دعویداروں نے کیا ٹھیکہ لیا ہوا ہے کہ فحاشی کا انگ انگ کھول کر بیان کیا جائے۔ کیا ان کو پردے کا حکم معاف ہے، ان کی نظریں نیچی کون کرے گا؟

اب اس حد تک پر مغز باتیں تو نہ آج تک کھلے عام ہم نے کیں اور نہ ہی ہم سے ہو سکتی ہیں۔ اس بات کو غنیمت جانا کہ وہ صاحب کسی اور طرف متوجہ ہوئے اور ہم نے وہاں سے رفو چکر ہونے میں ہی فلاح جانی، یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ ہمارا اسلام خطرے میں ہے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments