مریم اورنگ زیب کے دو ہزار روپوں میں روسی حکومت کی دلچسپی

مملکت خداداد میں موسم اور حکومتیں کب بدل جائیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ محکمہ موسمیات والے، کہ جن کے افسران ٹھنڈے کمروں سے باہر ہی نہیں نکلتے اور آج تک کوئی قابل ذکر ایجاد اس حکومتی سفید ہاتھی نے نہیں کی، لاکھ فرماتے رہیں کہ پری مون سون یا مون سون آ رہا ہے لوگو بچاؤ کر لو، کوئی یقین نہیں کرتا۔ بالکل اسی طرح حکومتی ترجمان (وہ بھی ٹھنڈے کمروں سے باہر نہیں نکلتے ) بھلے لاکھ سر

Read more

خیراتی مدرسوں کی چمچماتی ہوئی لینڈ کروزر

مذہب یا کسی فرقے کے بارے لکھنا پاکستان جیسے ملک میں بے حد مشکل کام ہے، یہااں مذہب کیش کروایا جاتا ہے اور اس کی سب سے کم قیمت لوگوں اور سادہ لوح عوام کے جذبات میں ادا کی جاتی ہے۔ لوگوں کو خاص طور پر ایک مخصوص نظریے پر راغب کیا جاتا ہے ، ان کی پوری برین واشنگ کی جاتی ہے اور چونکہ ماننے والے وہ بے چارے عوام ہوتے ہیں جو یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ

Read more

درخواست بنام وزیر اعظم برائے اجتماعی زہر خورانی

آج تک ہم اور آپ نے بہت سی درخواستیں لکھیں ہوں گی، بیماری کی درخواست، شادی، ضروری کام یا کسی فوتگی کی وجہ سے دی جانے والی درخواستیں تو عام ہیں۔ عام طور پر ان درخواستوں میں چھٹی مانگی جاتی ہے کہ کسی خاص وجہ سے ہمیں چھٹی چاہیے۔ اسی طرح سائل کئی طرح کی درخواستیں عدالتوں سے بھی کرتے ہیں اور ریاست کے کئی دوسرے اداروں سے بھی۔ حالات کے تناظر کے مطابق لوگ اپنی اپنی درخواستیں دائر کرتے

Read more

منوبھائی (مرحوم) کے جگنو اور اللہ میاں کا ریفرنس

دنیا میں خوراک اور تعلیم ایسی عیاشیاں ہیں جو رفتہ رفتہ عوام کے لیے کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہیں۔ بے شمار لوگ اپنے بچوں کو پڑھا نہیں پاتے یا خوراک فراہم نہیں کر پاتے اور پھر یا تو ان بچوں کو ساتھ لے کر خود کشیاں کرتے ہیں یا پھر ضمیر کو مردہ کر کے نشے پے لگ جاتے ہیں۔ یہ اور اس طرح کی بے شمار کہانیاں آپ روز سنتے ہیں لیکن اس کے جواب میں

Read more

ابن صفی کا ایکس ٹو اور بنی گالا کے موکل

اپنے ہر دلعزیز ملک میں اور کچھ سستا ہو نہ ہو بدنامی بہت سستی ہے۔ اگر آپ کا آگے پیچھے کوئی نہیں ہے یا آپ کے آگے پیچھے ہر کوئی ہے دونوں صورتوں میں آپ صرف ایک ویڈیو کی مار ہیں، conent کو نہ آج تک کسی نے پرکھا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے جو نظر آ رہا ہے وہی سچ ہے کے مصداق ایک ویڈیو آپ کی زندگی بدل سکتی ہے، یاد رہے کہ یہ

Read more

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومت کا بنگالی جادوگروں سے رابطہ

پہلے ادوار میں حکمران اپنے اقتدار کے آخری سالوں میں (الیکشن سے کوئی ایک ڈیڑھ سال پہلے ) حلقہ بندیوں، مردم شماریوں اور ووٹروں کی لسٹوں پر اپنا فوکس رکھتے تھے اور ان سالوں کو الیکشن کی تیاری کے سال سمجھتے تھے۔ عوام جب دیکھتے تھے کہ گلی کوچوں کی مرمتیں، سڑکوں پر نیا تارکول، ووٹروں کے اہل، نا اہل، پڑھے لکھے یا کم پڑھے نوجوانوں کی بھرتیاں اور حکومتی وزیروں، مشیروں کی اپنے علاقوں میں ہر شادی یا غمی

Read more

خواب نگر کے پرائم منسٹر کی لانڈری

جمہوری اقتدار کا مطلب عوام کی حکومت ہونا تصور کیا جاتا ہے اور اس سلسلہ اقتداریہ میں یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ عوام اپنے ووٹ کے حق سے ایک فرد کو منتخب کرتے ہیں اور وہ فرد ایوان اقتدار میں ان کی آواز بنتا ہے اور ان کے حقوق کے لیے کام کرتا ہے۔ اسی طرح کا ایک ملک دور پار پہاڑوں اور جنگلوں سے پرے وجود میں آیا جس کا نام اب ہمارے ذہن سے اتر چکا ہے

Read more

یو ایس ائر فورس اور طالبان کا ناشتہ

کچھ دن پہلے ایک انتہائی دلخراش ویڈیو الجزیرہ چینل پر دکھائی جا رہی تھی جس میں یو ایس ائر فورس کا جہاز مسافروں کو لے کر جانے لگا تو افغانی عوام کا سمندر اس جہاز کے ساتھ ساتھ بھاگ رہا تھا، کچھ لوگ لینڈنگ گئیر میں دبکے بیٹھے تھے جو بعد میں نیچے بھی گرے۔ اس افسوسناک واقعے پر ہر حساس آنکھ میں نمی ہے۔ لیکن اس کے پیچھے جو سیاست ہے، جو نا اہلی ہے اور جو قومی غیرت

Read more

رنگوں میں الجھتا ہوا اسلام اور باپا جی کی جے!

اسلام دنیا کے ان مذاہب میں شمار ہوتا ہے جو ظاہری رنگ کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ زیادہ زور تقویٰ اور خدا خوفی پر دیتے ہیں۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں رنگ کی اہمیت تب ہی ختم کر دی گئی جب یہ فرمایا گیا کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے اس کے جو اللہ سے زیادہ ڈرتا ہو۔ مگر یاد رہے کہ یہ بات اصل اسلامی تعلیمات کی ہے، جن میں

Read more

علمائے اسلام کی کینیڈین جنت اور پاکستانی دوزخ

عزیزان من، تار یخ دان رومن ایمپائر کی انصاف پسندی کا بہت شور مچاتے رہے ہیں کہ وہاں عوام کو ہر طرح کی بات کرنے کی آزادی ہوتی تھی، لیکن آج کی طرح ان کے مذہبی دانشوروں سے بھی حکومتیں ڈر کے رہا کرتی تھیں حتی کہ جولیس سیزر بھی ان دانشوروں کے خلاف کچھ بولنے سے پہلے سو بار سوچا کرتا تھا۔ چونکہ وقت ہمیشہ گردش میں رہتا ہے اور ایک مخصوص چال میں بھاگتا ہی جاتا ہے تو

Read more

! رنگ برنگی عینکیں

عنوان کو دیکھ کے میلوں ٹھیلوں میں لکڑی کے سٹینڈ پے لگی عینکیں اگر یاد آ گئی ہیں تو میں معذرت چاہتا ہوں میری مراد یہاں ان عینکوں سے نہیں۔ یہاں رنگین عینکیں رے بین، گوچی یا پر اڈا کی بھی نہیں ہیں یہاں رنگ برنگی عینکیں مذہب، غرور، تعصب، انا اور بے شمار ملتی جلتی رویوں کی ہیں۔ پیدائش کے بعد سب سے پہلے جس عینک سے ہمیں دیکھا جاتا ہے وہ عمومی طور پر مذہب کی عینک ہے۔

Read more

اللہ کی رحمت مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی!

آج تو بارش کا زور ٹوٹنے میں ہی نہیں آ رہا تھا، سرد ہواؤں کی نئی لہر سے سردی کی شدت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا تھا۔ ٹاٹ کے پیوند لگانے کے باوجود بارش کا برفیلا پانی، سرد ہواؤں سمیت شیدے کی جھونپڑی میں گھسا جا رہا تھا۔ دھند میں لپٹے سورج سے عاری دن میں ظہر کی نماز ہوئے بھی کافی وقت گزر چکا تھا۔ محلے کی جامع مسجد میں حاجی لیاقت کی والدہ کا چہلم ہو رہا

Read more

اسلام خطرے میں ہے

عمر کی بہت سی بہاریں دیکھنے کے بعد ایک بات تو قطعی ہے کہ بھئی۔ اسلام ہمارا تب سے خطرے میں ہے جب سے ہم اول اول اسکول جانا شروع ہوئے۔ اسکول جانے سے پہلے ہی ہماری مرحومہ والدہ مسجد میں بھیج دیتیں تو وہاں مولوی صاحب فرما رہے ہوتے کہ آج کے انسان میں شرم نام کی تو کوئی چیز رہ ہی نہیں گئی اسلام کو ہر طرف سے خطرہ ہے۔ بھلا بندہ پوچھے (جو کوئی بھی نہیں پوچھ

Read more

اللہ کی رحمت مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی!

آج تو بارش کا زور ٹوٹنے میں ہی نہیں آ رہا تھا، سرد ہواؤں کی نئی لہر سے سردی کی شدت میں بے پناہ اضافہ ہو چکاتھا۔ ٹاٹ کے پیوند لگانے کے باوجود بارش کا برفیلہ پانی، سرد ہواؤں سمیت شیدے کی جھونپڑی میں گھسا جا رہا تھا۔ دھند میں لپٹے سورج سے عاری دن میں ظہر کی نماز ہوئے بھی کافی وقت گزر چکا تھا۔ محلے کی جامع مسجد میں حاجی لیاقت کی والدہ کا چہلم ہو رہا تھا، حاجی صاحب اپنی سخاوت کے باعث پورے علاقے میں مشہور تھے اور آج محلے کے غریب بڑی آ س لگائے بیٹھے تھے کہ آج تو ضرور کچھ اچھا کھانے کو ملے گا۔ شیدے نے اپنے آٹھ سال کے، آدھی پھٹی قمیض پہنے، بیٹے شمس القمر (پتہ نہیں یہ نام رکھنے کی کون سی وجہ تھی مگر شمس اور قمر دونوں ہی شیدے کے بیٹے کا یہ حال دیکھ کر شرماتے ضرور ہوں گے ) کو ٹانگ مارتے ہوئے کہا کر جا کرمسجد کے باہر کھڑا ہو جائے اور ختم کی کم از کم ایک پلیٹ بریانی تو ضرور لے کر آئے۔

Read more