ہاں اس گرم جولائی میں

چار جولائی کو میرے سی او لیفٹیننٹ کرنل بشیر صاحب نے کہا۔ ”ہمیں ابھی آڈیٹوریم پہنچنا ہے۔ کور کمانڈر صاحب نے سب افسروں کو طلب کیا ہے“ ۔ کرنل صاحب خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے۔ ساتھ والی نشست پر میں اور جیپ کا ڈرائیور پیچھے۔ فاصلہ ہی کتنا تھا، پانچ منٹ میں پہنچ گئے۔ آڈیٹوریم تقریباً بھر چکا تھا۔ کرنل صاحب کو پہلی ہی قطار میں نشست مل گئی۔ میں چونکہ کپتان تھا چنانچہ حسب مراتب پانچویں چھٹی قطار میں جگہ پائی۔ کھسر پھسر ہو رہی تھی لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ طلبی کس ضمن میں ہوئی ہے۔ تھوڑی دیر میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اعجاز عظیم سٹیج پر جلوہ فرما ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں کاغذ تھا۔

ملک میں پی این اے کی تحریک زوروں پر تھی۔ مجھے بھی کسی حوالے سے ”ان“ کے ساتھ کام کرنا پڑ گیا تھا۔ کام تو میں نے خاک نہیں کیا تھا، زبانی کلامی جو بتاتا تھا، یعنی فوج میں کتنے لوگ پی این اے کے حق میں ہیں اور کتنے حکومت وقت کے حامی یا بھٹو کے پرستار۔ اسی طرح شہر کے عام لوگوں میں کس کی کتنی پذیرائی ہے، وہ سب جھوٹ پر مبنی ہوتا تھا مگر چونکہ مجھے جھوٹ بولنا نہیں آتا چنانچہ خود ساختہ جھوٹ میں سچ کی رمق ہوتی ہوگی یا شاید انہیں میری ضرورت تھی، کہ میں بالآخر ان کے مقامی اعلٰی سطحی اجلاس میں شرکت کرنے لگا تھا۔

ایسی ہی ایک ملاقات میں جنرل ریٹائرڈ ٹکا خان کا وہ بلیو پرنٹ زیر بحث آیا تھا جس میں پیپلز پارٹی کے چیدہ چیدہ رہنماؤں جن میں مجھے کوثر نیازی اور حفیظ پیرزادہ کے نام یاد رہے ہیں، اور پی این اے کے رہنماؤں کی اکثریت کو اس پار پہنچائے جانے اور ان کے اعدام کے بعد بھڑکنے والے عوامی احتجاجات کے ہزاروں شرکاء کو ممکنہ طور پر مار دیے جانے کی بات کی گئی تھی۔ ایسے کسی اجلاس میں میں بولا نہیں کرتا تھا لیکن اس بات پر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے ہاتھ کھڑا کر دیا تھا۔

اجلاس کے سربراہ نے بولنے کی اجازت دے دی تھی۔ میں نے کہا تھا، ”سر پاکستان، مشرقی پاکستان نہیں ہے۔ فوج میں بہت زیادہ لوگوں کے رشتے دار ہیں۔ بفرض محال اگر گھنٹہ گھر ( ملتان) کے باہر دس ٹینک کھڑے ہوں گے جن میں سے ایک ٹینک اگر لوگوں کو نشانہ بنائے گا تو باقی نو ٹینک اس ٹینک کو نشانہ بنائیں گے جس نے لوگوں پر وار کیا ہوگا۔ سربراہ نے مجھ سے خشمگیں لہجے میں کہا تھا،“ آپ باہر جائیں ”۔ تب سے میں باہر تھا۔

کور کمانڈر کے ہاتھ میں کاغذ ایر مارشل ریٹائرڈ اصغرخان کا فوج کو لکھا گیا خط تھا جس میں انہوں نے فوج کو حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کی

ترغیب دی تھی۔ کور کمانڈر نے اس خط کو کئی جگہوں پر رنگین قلم سے نشان زد کیا ہوا تھا۔ انہوں نے ایک دھواں دار پر جوش تقریر کی تھی جو اس خط اور خط لکھنے والے کے خلاف تھی اور حکومت وقت سے وفاداری کے عہد نو سے عبارت۔ میں چونکہ منتخب حکومت کے خلاف کی جانے والی شورش کا مخالف تھا اس لیے میرے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے جبکہ میرے سی او جو ذوالفقار علی بھٹو کے شدید مخالف تھے، میں نے دیکھا کہ ان کے دونوں ہاتھ نشست کی ہتھیوں پر شدت رنج سے کس کر جمے ہوئے تھے۔ ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ کورکمانڈر کا منہ بند کر سکتے۔ میں سرخوشی کے عالم میں تھا کیونکہ اس حوالے سے ان کے ساتھ میری تقریباً روز ہی منہ ماری ہوا کرتی تھی مگر کرنل صاحب تھے شفیق شخص۔

تقریر تمام ہونے کے بعد کچھ افسر کدورت بھرے چہروں اور باقی بے پرواہ مہروں کے ساتھ اپنے اپنے ٹھکانے کو روانہ ہو گئے تھے۔ واپسی پر میں پچھلی نشست پر تھا۔ کرنل صاحب خاموش تھے، ظاہر ہے میں بھی کچھ نہ بولا تھا۔ یونٹ میں پہنچ کر ہم اپنے اپنے دفتروں میں داخل ہو گئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد میں اپنے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر شہر میں لوگوں کے تاثرات لینے جا پہنچا تھا۔ مجھے فوج میں کام سے ”انہوں“ نے چھٹی کروائی ہوئی تھی۔ اب تک اس سہولت کو واپس لینے کی کرنل صاحب کو ہدایت نہیں پہنچی تھی۔

اگلے روز پانچ جولائی تھا۔ میں یونٹ پہنچا تو مجھے مارشل لاء لگائے جانے کے بارے میں معلوم ہوا تھا۔ کرنل صاحب نے بتایا تھا کہ گیارہ بجے آج پھر کورکمانڈر صاحب نے افسروں کو آڈیٹوریم میں بلایا ہے۔ میں پھر کرنل صاحب کے ہمراہ گیا تھا۔ آج کورکمانڈر عوام ( پی این اے ) کے حق میں اور چلتی کر دی گئی حکومت کے خلاف جی بھر کے بول رہے تھے۔ چہ عجب۔ چوبیس گھنٹوں پہلے یہی آڈیٹوریم تھا۔ یہی سننے والے لوگ تھے اور یہی کورکمانڈر۔ کل انہوں نے کیا کہا تھا اور آج یہ کیا کہہ رہے تھے۔ آج میرے کرنل صاحب کا چہرہ خوشی سے لال تھا اور میرا بجھا ہوا۔

چند روز بعد مجھے ملتان کی مین مارشل لاء کورٹ کا رکن مقرر کر دیا گیا تھا، یہ اسی عمارت میں واقع تھی جس کے باہر ٹینک کھڑے ہونے کی میں نے ایک ماہ پہلے مثال دی تھی یعنی گھنٹہ گھر کی عمارت میں۔ میں دو ہی روز بعد اس کورٹ سے اوبھ گیا تھا۔ کورٹ کے سربراہ میجر رشید باریش اور اچھے آدمی تھے لیکن دل کے رقیق۔ مقدمے کا جو بھی فریق زیادہ بولتا اور زیادہ آہ و زاری کرتا، وہ اس کے حق میں فیصلہ دے دیا کرتے تھے۔ آخر میں نے ان سے اجازت لے لی تھی کہ عدالت میں نہ آوں۔

میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میں نے فوج میں شمولیت خوشی سے کی تھی لیکن مجھے فوج کی زندگی اچھی لگنے لگی تھی۔ کوئی کام وام تھا نہیں۔ صبح کو چند فوجی مریض دیکھو، دو بجے بیچلر افسر کوارٹرز واپس پہنچ جاؤ اور عیش کرو۔ مارشل لاء تھا۔ فوجی افسر سب پر بھاری ہوتا تھا تاہم مارشل لاء لگائے جانے کے بعد میں بے چین ہو گیا تھا۔ اسی اثناء میں چند روز کے لیے ذوالفقار علی بھٹو کو حفاظتی حراست سے چھوڑ دیا گیا تھا۔ وہ ملتان تشریف لائے تھے اور انہوں نے مارشل لاء لگانے والے جنرل ضیاء کو خاص مقام سے باندھ کر لٹکانے کی دھمکی دے ڈالی تھی۔ اب وہ مستقل دھر لیے گئے تھے۔

میں ایک عام کپتان اور وہ بھی آرمی میڈیکل کور کا، جنرل ضیاء کا کیا بگاڑ سکتا تھا مگر نہیں غصہ تو ظاہر کر ہی سکتا تھا۔ جنرل ضیاء نے ملتان وزٹ کرنا تھا۔ ہیلی پیڈ پر بطور ڈاکٹر مجھے تعینات کیا گیا تھا۔ میں نے اپنی اور ساتھ والی فیلڈ ایمبولینس کے تمام کپتانوں کو اپنے کمرے میں مدعو کر لیا تھا اور جی بھر کے مارشل لاء کے خلاف ان کے کان بھرے تھے۔ باہر ”ان“ کے کارندے بیٹ مینوں کی شکلوں میں کھڑے سن گن لے رہے تھے۔ میں نے ان سب کو جو غالباً تین تھے مختلف چیزیں لینے بازار بھیج دیا تھا اور اپنی تقریر جاری رکھی تھی۔ مدعا یہ تھا کہ ہیلی پیڈ پر کوئی جنرل ڈیوٹی میڈیکل افسر نہ جائے۔ میں کامیاب رہا تھا اور خوش بھی کہ جو کر سکتا تھا کیا۔

چند ماہ بعد کرنل صاحب کو مجھے کورکمانڈر کے سامنے پیش کرنا تھا۔ ہم ڈاکٹر حضرات کو تب زبردستی فوج میں لیا جاتا تھا البتہ دو سال مدت تمام ہونے کے بعد عندیہ لیا جاتا تھا کہ آپ سروس جاری رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں، اس کے لیے عندیہ کورکمانڈر کو دینا ہوتا تھا جو اسے ہیڈ کوارٹر پہنچاتے تھے۔ جنرل اعجاز عظیم کو میں نے اپنی چند بے باک حرکتوں سے زچ کیا تھا اس لیے وہ میری بات سنتے تھے۔ میں نے انہیں تفصیل سے بتایا تھا کہ میں کس شوق سے فوج میں کام جاری رکھنے کا متمنی تھا لیکن گزشتہ جولائی میں ہوئے واقعات کے بعد میں کام جاری نہیں رکھ سکوں گا۔

انہوں نے استفسار کیا تھا کہ ہوا کیا؟ میں نے تڑاق سے کہہ دیا، ”سر فوج کا کوئی دین ایمان نہیں“ ۔ اس فقرے پر میرے کرنل کا چہرہ فق ہو گیا تھا اور جنرل صاحب کا لال۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا، ”کیا مطلب ہے تمہارا؟“ میں نے انہیں چار اور پانچ جولائی 1977 کی ان کی تقریریں یاد دلائی تھیں۔ وہ غالباً شرمسار ہو گئے تھے تبھی تو انہوں نے بہت سبھاؤ کے ساتھ کہا تھا، ”“ Such things happen in the army young man۔

Do not be perturbed ”۔ میں بولا تھا،“ سر واقع ہوتی ہوں گی لیکن میں اتھل پتھل ہو چکا ہوں، مجھے از راہ کرم مرخص کیجیے ”اور انہوں نے مسکراتے ہوئے ہاتھ ملا کر مجھے رخصت کر دیا تھا۔ یوں میں بریگیڈیر یا میجر جنرل ریٹائر ہونے اور لاہور، اسلام آباد یا کراچی کی فوجی کالونیوں میں دو تین بنگلوں کا مالک بننے سے رہ گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words