بالی وڈ لیجنڈ دلیپ کمار انتقال کر گئے
بالی وڈ کے لیجنڈ اداکار یوسف خان عرف دلیپ کمار 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دلیپ کمار کو سانس لینے میں دشواری پر 30 جون کو ممبئی کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ طبیعت بگڑنے پر انہیں انتہائی نگہداشت یونٹ میں بھی منتقل کیا گیا تھا تاہم چار روز قبل ان کی طبیعت بہتر ہونے لگی تھی۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران دلیپ کمار کو کئی بار بیمار ہونے پر اسپتال میں داخل کرایا جاتا رہا تھا۔
دلیپ کمار کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بدھ کی صبح ان کے انتقال کی تصدیق کی گئی۔
https://twitter.com/TheDilipKumar/status/1412600233062699008
دلیپ کمار نے اپنے فلمی کریئر میں متعدد بلاگ بسٹرز فلمیں کیں جن میں نیا دور، مغلِ اعظم، دیوداس، رام اور شام، انداز، مدھومتی اور گنگا جمنا جیسی فلمیں شامل ہیں۔
دلیپ کمار نے فلمی دنیا کے کئی ایوارڈز اپنے نام کیے تھے اور انہیں پہلا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ فلم فیئر ایوارڈز حاصل کیے تھے۔
یوسف خان عرف دلیپ کمار دسمبر 1922 کو پشاور کے محلہ خداداد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مقامی درس گاہوں میں ہی حاصل کی۔
انہوں نے اپنے فلمی سفر کا آغاز 1944 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘جوار بھٹہ’ سے کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی۔ بعدازاں 1947 میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم ‘جگنو’ نے باکس آفس پر دھوم مچائی۔
دلیپ کمار نے 1966 میں اپنی ساتھی اداکارہ سائرہ بانو سے شادی کی، سائرہ نے دلیپ کے ساتھ فلم گوپی، سگینہ اور بیراج میں کام کیا تھا۔
بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے دلیپ کمار کے انتقال پر اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ دنیائے فلم میں انہیں ہمیشہ لیجنڈ کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور ان کا انتقال بھارت کی ثقافتی دنیا کا نقصان ہے۔
Dilip Kumar Ji will be remembered as a cinematic legend. He was blessed with unparalleled brilliance, due to which audiences across generations were enthralled. His passing away is a loss to our cultural world. Condolences to his family, friends and innumerable admirers. RIP.
— Narendra Modi (@narendramodi) July 7, 2021
بھارت کی حکومت نے 1991 میں دلیپ کمار کو سب سے اعلیٰ سویلین ایوارڈ ‘پدم بھوشن’ سے نوازا تھا جب کہ انہیں بالی وڈ فلم نگری کا سب سے اعلیٰ ایوارڈ ‘دادا صاحب پھالکے’ 1994 میں دیا گیا۔
حکومتِ پاکستان نے بھی 1998 میں دلیپ کمار کو اعلیٰ سویلین ایوارڈ ‘نشانِ امتیاز’ سے نوازا تھا۔


