آو میری آنکھوں سے دیکھو


آؤ کہ میں تمھیں دیکھنا سکھاوں، کس کو کیسے دیکھتے ہیں، پرندے کیسے دیکھتے ہیں، کیڑے کیسے دیکھتے ہیں اور انسان کیسے دیکھتے ہیں، کھجور کا درخت ہے، کیڑا اس کی بلندی کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے اتنی زیادہ اونچائی تک جاتے جاتے تھک جاؤں گا، بہتر ہے جب اس کا پھل پک کر تیار ہوگا تو کھا لیں گے، انسان کچھ اس طرح دیکھتا ہے کہ جھوٹے یار دی یاری، یاری وانگ کھجور دھپ لگے چھاں کوئی نہ بھک لگے پھل دور، اور جب پرندہ اس کو فضا سے دیکھتا ہے تو وہ سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھتا ہے کہ اللہ کی شان ہے یہ کیسا درخت ہے جو اوپر سے بالکل سبز رنگ کا پھول نظر آتا ہے اور جب اس کو پھل لگتا ہے تو پیلے رنگ کا پھل اور سبز رنگ کا درخت اور بھی پیارا لگتا ہے.
ہر ایک کے دیکھنے کے طریقے ہیں، پر میں تو ہر نظارے کو تین طرح سے دیکھتا ہوں زمین پر لیٹ کر کہ کیڑے کیسے دیکھتے ہیں، زمین پر کھڑے ہو کر کہ انسان کیسے دیکھتے ہیں اور بذریعہ ڈرون دیکھتا ہوں پرندے کیسے دیکھتے ہیں، میرے اندر ایک دیہاتی بچہ رہتا ہے، جو ہر تصویر خود بنا کر دیکھنا چاہتا ہے، وہ کتابوں میں چھپی تصویروں پر یقین نہیں رکھتا، وہ نانگا پربت کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے باتیں کرتا ہے اور راکا پوشی کھڑکی کے سامنے رکھ کر سوتا ہے، کچھ لوگ مجھ جیسے دیہاتی لوگوں کو ڈرانے پر لگے ہوئے ہیں کہ جی یہ نانگا پربت تو ایک کلر پہاڑ ہے، کے ٹو بیس کیمپ تک ٹھیک ہے، مجھے کے ٹو سگریٹ کی ڈبی پر بنی کے ٹو کی تصویر بالکل پسند نہیں ہے مجھے تو وہی کے ٹو دیکھنا ہے جہاں علی سد پارہ رہتا ہے.
جب میں سیاچین گیا تو مجھے بتایا گیا کہ راستہ بھولنے والوں کی شہدا راہنمائی کرتے ہیں کہ اس طرف چلے جائیں آپ کو پوسٹ مل جائے گی، میں چاہتا ہوں کہ میں کے ٹو سر کرنے جاؤں اور راستہ بھول جاؤں مجھے علی سد پارہ صاحب راستہ بتانے آئیں اور میں ان کی زبانی وہ سارا منظر نامہ سنوں کیا اور کیسے ہوا تھا، ہوا کی رفتار کیا تھی پہلے کون کدھر کو گیا تھا، میں ان کی آنکھوں سے یہ سب دیکھ کر آپ سب کو دکھانا چاہتا ہوں، مجھے بہت سفر کرنا ہے اور آپ کو پاکستان کی سب جھیلیں اور چوٹیاں دکھانی ہیں، میں لے چلوں گا آپ کو ہرن مینار اور دکھاوں گا تین زاویوں سے ہرن مینار کو کیسے دیکھتے ہیں، ہرن مینار کو بقول ہمارے دوست علی حسن بخاری صاحب چار زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ وہاں جنات بھی تو رہتے ہیں، تو وہ کیسے دیکھتے ہیں ہرن مینار کو یا پھر وہ صرف وہاں رہائش پذیر ہیں اور ہم جیسوں کو آتے جاتے ہی دیکھتے ہیں.
گھر کی مرغی دال برابر، جس طرح اکثر رہائشی اپنے گھر کو مکمل طور پر نہیں دیکھ پاتے اسی طرح انھوں نے بھی ہرن مینار کو نہ دیکھا ہو، جب فضا سے ہرن مینار کو دیکھتے ہیں تو پینٹاگون پاکستان میں نظر آتا ہے اور اس کے چاروں اطراف میں چکور پانی کے تالاب ہیں، اگر انسانی آنکھ سے دیکھنا چاہتے ہیں تو بہتر ہے وہاں موجود مینار یا برجیوں میں سے دیکھیں بہت دلفریب مناظر نظر آئیں گے، سورج کا غروب ہونا اس کا بہت حسین ہے، کیڑے کی آنکھ کی نسبت اگر آپ سانپ کی آنکھ سے یا مچھلی کی آنکھ سے اس مینار کو دیکھیں تو فش آئی کا مزا لے سکیں گے کیونکہ ان تالابوں میں مچھلی اور سانپ کثرت سے پائے جاتے ہیں.
مجھے دریائے سندھ بھی مختلف جگہوں سے دیکھنے کا اتفاق ہوا، سکھر بیراج پر فضائی مناظر بھی دیکھے اور انسان کی آنکھ سے بھی مناظر دیکھے لیکن دل اس وقت بہت تکلیف میں چلا گیا جب میں نے ڈولفن کی آنکھ سے سکھر بیراج کو دیکھنے کی کوشش کی منظر کالا سیاہ تھا تب احساس ہوا یہ تو سب اندھی ہیں اسی لئے ان کو بلائنڈ ڈولفن کہا جاتا ہے، میرے ساتھ ساتھ رہیے، میں آپ کو مختلف آنکھوں سے دنیا دکھاتا رہوں گا، اور یہ ایک دیہاتی بچہ ہی ہوتا ہے جو بار بار ایک ہی فلم کو دیکھتا ہے اور نئے دیکھنے والوں کو سب سین پہلے سے بتا کر اپنے کامل عالم ہونے کی داد چاہتا ہے.

 

Facebook Comments HS