احسن اقبال نے نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس پراجیکٹ سے کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایا: اسلام آباد ہائیکورٹ


اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسلم لیگ(ن)کے جنرل سیکرٹری اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کی نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس کیس میں ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ احسن اقبال کی ضمانت کا تحریری فیصلہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ اور جسٹس لبنی سلیم پرویز نے جاری کیا ہے۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ احسن اقبال کے خلاف نیب کرپشن کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، تسلیم شدہ بات ہے کہ منصوبہ نارووال کی عوام کے استعمال اور فائدے کیلئے شروع کیا گیا۔ منصوبے کی منظوری مجاز فورم سی ڈی ڈبلیو پی نے دی۔ احسن اقبال نے پراجیکٹ سے کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایا۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ احسن اقبال رضاکارانہ طور پر تفتیشی افسر سے تعاون کر رہے ہیں۔ کیس ابھی انویسٹی گیشن میں بھی تبدیل نہیں کیا گیا۔ انکوائری کے موجودہ مرحلے میں پٹیشنر معصوم تصور کیا جاتا ہے۔ نیب نے احسن اقبال کو گرفتار کر کے اختیار سے تجاوز کیا۔ خیال رہے کہ احسن اقبال کی نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس کیس میں ضمانت 25 فروری 2020 کو ہوئی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے اس فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ آئے روز آنے والے فیصلے گواہی دے رہے ہیں کہ کیسے نیب اور ریاستی اداروں کو سیاسی انتقام کے لئے برملا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس طرح کے جعلی اور بے بنیاد مقدمات بنانے اور بنوانے والوں کو وہی سزا دی جائے جو نیب کے قانون میں موجود ہے۔

Facebook Comments HS