EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

تبدیلی کیسے آئے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ڈائجسٹ میں ایک سے موضوع کیوں چھپتے ہیں کچھ تو مختلف ہو بس نمرہ احمد کا جنت کے پتے ہٹ کر تھا ورنہ وہی گھسے پیٹے موضوعات۔ نتاشا نے اونچی آواز میں خودکلامی کرتے ہوئے کہا۔

موضوعات ہمیشہ ایک سے ہوتے ہیں مگر منگوانا اور پڑھنا ہر مہینہ ہوتا ہے۔ مدثر نے بہن کی خودکلامی کا جواب دیا۔

یہ تم دونوں کس بات پر بحث کر رہے ہو۔ فضہ جو نتاشا سے بڑی تھی اور باورچی خانہ میں مصروف تھی فارغ ہوئی تو لاؤنج کا رخ کیا جہاں نتاشا اور مدثر بات کرنے سے زیادہ ہمیشہ کی طرح لڑنے مرنے کو تیار بیٹھے تھے۔

میں کہہ رہی تھی ڈائجسٹ میں کبھی کچھ منفرد نہیں ہوتا تو یہ کہنے لگا کہ مجھے منگوانا اور پڑھنا ہی نہیں چاہیے۔

منفرد سے مراد؟

آپی ہمیشہ ساس بہو کی چپقلش، جہیز، رسمیں، رشتوں کے مسائل، خاندانی لڑائیاں، شوہروں کی بیویوں سے بدسلوکی، لڑکیوں کا بے ڈھنگا پن، خانہ داری یا پھر کزنز کی محبت یہ باہر لڑکے نہیں ملتے لڑکیوں کو جو جہاں رومانس ہو وہ چچا، خالہ، پھوپھو، ماموں کی بیٹے سے ہو گیا اور عجب دستور ہے کزنز میں محبت کو جائز قرار دیتے ہیں اور جہاں کوئی باہر کا لڑکا ہوا وہاں محبت کو ناجائز اور غلط قرار دے دیا۔ اب تو موضوعات بدلنے چاہیے بوریت ہوتی ہیں کچھ مختلف اچھوتا ہو۔

نتاشا تمھارے خیال میں ایک مصنف موضوع اور کہانی کہاں سے ڈھونڈتا ہے؟ اور کردار کہاں سے بنتا ہے؟

آپی میرے خیال سے معاشرہ میں بسنے والے لوگوں کا رہنا سہنا، طور طریقہ، واقعات اور رنگ ڈھنگ کو دیکھ کر۔ نتاشا نے فضہ کو جواب دیا۔

تو پھر تمھیں پتا ہے کہ اخبار اور ٹی وی پر چلنے والی خبریں ہوتی ہیں کہ لڑکی کو جہیز نہ لانے پر سسرال والوں نے تیزاب پھینک کر جلا دیا، شوہر نے بیوی کو سرعام پیٹ کر تماشا بنا دیا، جائیداد کے بٹوارے کو لے کر خوں ریزی ہو گئی، پسند کی شادی کرنے کی بنیاد پر رشتہ داروں اور بھائیوں نے تین ماہ کی حاملہ کو پتھر مار مار کر موت کی نیند سلا دیا اور جہاں تک لڑکیوں کے بے ڈھنگے پن کی بات ہے تو لڑکی ہمارے معاشرہ میں غلطی سے خراب چائے بھی بنا دے تو سخت سست سنائی جاتی ہے۔

ہمارے معاشرہ میں خاندانی محبتیں اور شادیوں کو غلط نہیں جڑے رہنے کا سبب سمجھا جاتا ہے اس لیے کزنز والدین کی آنکھوں کے سامنے بھی افیئر چلائے تو رکا ٹوکا نہیں جاتا اس لیے مصنف بھی اسے صحیح ثابت کر دیتے ہیں۔ ایک مصنف کا کام ہی معاشرہ میں وقوع پذیر ہونے والی چیزوں کو لکھنا اور قارئین تک پہنچانا ہے۔ اس لیے جب تک ہمارے معاشرہ میں رشتوں میں حادثات رونما ہوتے رہے گے مصنف بھی انھیں لکھتے رہے گے اچھوتے اور منفرد موضوعات پر لکھنا اکثر و بیشتر مصنفوں کا روگ نہیں۔

آپی اس کا مطلب تو انتہائی صاف اور واضح ہے کہ ہمیں اپنے معاشرہ میں موجود بے جا اور فضول رسمیں، بد نما روئیے اور خود ساختہ جہالت کو ختم کرنے کی کوشش کرنی ہوں گی تبھی مجھے ڈائجسٹ میں کچھ الگ پڑھنے کو ملے گا ورنہ یہ سب پڑھ کر بور ہونا پڑے گا۔

جی ہاں! نتاشا بیگم ایسا ہی ہے اور تبدیلی صرف ہماری پڑھی لکھی اور نوجوان نسل ہی لا سکتی ہے جہیز، بری، لین دین پیسوں کا ضیاع اور والدین کے بوجھ کو ختم کرنا انھی کے ہاتھ میں ہے اگر یہ سمجھے کیونکہ ہمارے معاشرہ کی بیشتر برائیاں صرف فضول کی رسمیں اور خود ساختہ پیدا کردہ جہالت کے باعث ہیں جن کو ختم کرنا مشکل سہی ناممکن نہیں یہ کہتے ہوئے فضہ کھڑی ہو گئی اور نتاشا سوچ رہی تھی دیکھتے ہیں کب تک یہی موضوعات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے