ایک تھا جنگل ۔۔۔ (غیر سیاسی حکایت)
چار دفعہ کا ذکر ھے بلکہ ھر دفعہ کا ذکر ھے کہ ایک جنگل پر ہاتھیوں کی حکمرانی تھی اور یہ اس زمانے کی یادگار تھی جب قد کاٹھ اور طاقت ھی حکمرانی کا معیار بنتا تھا۔ بعد میں زمانے کے ارتقا نے دوسرے جنگلوں کو مہذب طرز حکمرانی سکھا دیا لیکن ہاتھی صاحبان نے اس جنگل کو زمانہ جاہلیت سے نکلنے نہیں دیا۔
چونکہ اس پورے جنگل کا انتظام و انصرام اور اختیار و اقتدار ہاتھی صاحبان کے پاس تھا اس لئے جنگل کا بھی وہی حال ہوا جس کی توقع قبیلہ ہاتھیان سے کی جاتی ھے یعنی چشموں میں صاف اور شفاف پانی کی بجائے لید بہتی رہی، ہری بھری گھاس کی جگہ چٹیل اور بد رنگ میدان نظر آتے اور طویل قامت اشجار کی بجائے گڑھے اور کھائیاں دکھائی دیتے ۔
اس جنگل میں سیاست کی اجازت صرف گدھوں جبکہ صحافت کی اجازت صرف بندروں کو حاصل تھی اس لئے وہ اپنے اسلاف کی روایت کے مطابق صبح و شام "حکمران طبقے” کی خوشامد اور قصیدہ گوئی میں نہ صرف ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے بلکہ اشارہ پاتے ہی شیر زیبرا بارہ سنگھا زرافہ اور ہرن حتی کہ چڑیوں کے بھی پیچھے پڑ جاتے۔
انصاف کا ترازو چونکہ نیولوں کے ھاتھ میں تھا، اس لئے وہ کچلے جانے کے خوف سے وہی فیصلے کرتے جو ہاتھیوں کی حیرت انگیز بصیرت اور ذہن رسا سے پھوٹتے ۔ ظاہر ہے کہ ان فیصلوں کا بھی وہی حال ہونا تھا جو جنگل کے دوسرے معاملات کا ہوا تھا مثلا ایک شیر کو اس "جرم ” کی بنیاد پر جیل میں ڈال دیا گیا کہ جنگل کی ساری گھاس شیر کھا گیا جس کی وجہ سے سارا جنگل چٹیل میدان بن گیا ۔
اس پر جنگل کے دانا پرندوں نے اپنی اپنی درختوں سے صدائیں بلند کیں کہ حضور ذرا عقل کو بھی ہاتھ ماریں کیونکہ شیر گھاس کھاتا کہاں ہے بلکہ اس کی خوراک تو گوشت ھی ہے۔
اس زبان درازی پر یہ پرندے گستاخ قرار دیئے گئے اور انہیں شکاریوں کے ذریعے درختوں سے گرا کر کسی کے چونچ سی دیئے تو کسی کے پر کاٹ دیے گئے ۔
البتہ جنگل کے عوام کی بوریت دور کرنے کے لئے درختوں پر لنگور چڑھا دیئے گئے لیکن جب یہ لنگور اپنی "خوش الحانی” دکھاتے تو پورا جنگل اس سے محظوظ ہونے کی بجائے ان سےنجات کی دعائیں مانگنے لگتے۔
اس عجیب و غریب "ریاست ” میں ایک زرافہ اس جرم کی پاداش میں مارا گیا کہ اس کا قد عزت ماب ہاتھی سے بلند کیوں ہے اور زرافہ نے پوچھے بغیر اتنا لمبا قد کیوں نکال لیا۔
شیر کو بھی اسی جرم کی بنیاد پر زنجیروں میں جکڑا گیا کہ اس کی آواز پوری جنگل میں کیوں سنائی دیتا ہے اور وہ اس منفرد جنگل کی "عظیم روایات ” کا باغی کیوں ہے۔
راوی کا بیان ہے کہ جنگل کا قانون پہلے پہل تو عوام کی بے خبری اور بعد میں خوف اور خاموشی کی وجہ سے ایک عرصے تک بدستور چلتا اور باقی جنگلوں کے لئے ہنسی کا سامان پیدا کرتا رہا لیکن وقت گزرنے اور زمانہ تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ جنگل کے عوام کو بھی شعور آتا گیا۔
رفتہ رفتہ تبدیلی کی ہوا چل پڑی اب پرندے کٹی ہوئی زبانوں اور کترے ہوئے پروں کے ساتھ بھی زمین پر بیٹھ کر آزادی کے نغمے گانے لگے۔ درختوں پر بیٹھے لنگور غل مچاتے رہتے لیکن جنگل کے عوام پھر بھی پرندوں کی آوازوں کو سنتے اور ان پر یقین رکھتے ۔
شیر زنجیروں میں جکڑا ہوا بھی پوری قوت کے ساتھ آزادی کا پیغام دیتا دھاڑتا اور جنگل کو جگاتا رہتا۔ ہرنیاں قلانچیں بھرتی پیغام کو جنگل کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچانے لگیں۔ زیبرے اور زرافے بھی خوف کا لبادہ پھینک کر زرہ بکتر پہننے لگے۔ ریچھ بھی مدتوں بعد غاروں سے نکل کر سر میدان آ گئے ۔
ان نئے حالات سے حکمران ہاتھیوں میں قدرے کھلبلی مچ گئی لیکن اس سے پہلے کہ دانش اور بصیرت کے ساتھ معاملات کو سمجھا جاتا بلوں سے رینگتے ہوئے بوڑھے سانپ نمودار ہوئے اور بوڑھے ہاتھیوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ اب معاملات سمجھداری کی بجائے جبر کی طرف چل پڑے لیکن دوسرا فریق بھی پیچھے نہیں ہٹا۔ سو انجام وہی ہوا جو ایسے معاملات میں تاریخ کے لئے اجنبی قطعا نہیں۔
راوی جنگل کا اگلا منظر نامہ یوں بیان کرتا ہے کہ
جنگل میں ھری بھری گھاس گھنے پھلدار درختوں اور صاف شفاف چشموں کے درمیان ایک پر امن اور قابل رشک زندگی تھی ۔ شیر عوام کی طاقت سے جنگل کا نظم و نسق سنبھال کر اسے باوقار اور مضبوط بنانے میں مگن تھا ۔ ہاتھی جنگل کے کناروں پر اپنی ریاست کی نگہبانی کرتے اور عوام کی آنکھوں کے تارے بنے رہتے۔ ہرن، زرافہ، زیبرا اور ریچھ سمیت جنگل کے تمام عوام اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ البتہ سانپ اپنے بلوں میں گھس کر زمین دوز ہو گئے تھے اور پھر دکھائی نہیں دیے ۔
راوی کو گدھوں بندروں اور لنگوروں کے بارے صرف اتنا معلوم ہے کہ ان کی آئندہ نسلوں کو منہ چھپا کر جینا پڑ رہا تھا کیونکہ جنگل میں کوئی انہیں منہ لگانے کو تیار نہ تھا جبکہ باہر کی دنیا کے پاس ان کا جینیاتی ڈیٹا موجود تھا۔


