پاکستان میں بجلی کی صورتحال کا تجزیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی ملک میں بجلی کی کھپت ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا اہم اشاریہ ہے، یعنی جس ملک میں بجلی کی کھپت زیادہ ہو گی اس ملک کی شرح نمو اور مجموعی قومی پیداوار اسی قدر زیادہ ہو گی، ذیل میں کچھ ملکوں کی مجموعی بجلی کی کھپت کا چارٹ دکھایا گیا ہے :

جیسا کہ اس چارٹ سے واضح ہے کہ پاکستان اس تناظر میں بہت سے ملکوں سے پیچھے ہے جس کے باعث مجموعی قومی پیداوار کم ہونے سے ملک بے روزگاری اور غربت کا شکار ہے، اس لئے لازم ہے کہ اس شعبے پر توجہ دی جائے تاکہ غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہو۔

نیپرا کی2020 ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گھریلو اور صنعتی شعبوں کی کل طلب تقریباً پچیس ہزار میگا واٹ ہے جب کہ بجلی کی تنصیب شدہ استعداد تقریباً اڑتیس ہزار میگا واٹ ہے لیکن ترسیل کا نظام صرف تئیس ہزار میگا واٹ کی صلاحیت رکھتا ہے، اس طرح بجلی کی پیداوار، ترسیل اور طلب میں تقریباً تین ہزار میگا واٹ کا فرق ہے جس کے باعث ملک میں لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے گھریلو صارفین کے علاوہ صنعتی شعبہ بری طرح متاثر ہوتا ہے، یوں ہماری مجموعی قومی پیداوار انتہائی کم سطح پر ہونے کی وجہ سے ہمارے ملک کو غربت اور بے روزگاری کے مسائل کا سامنا ہے۔

اس وقت ملک میں بجلی کل پیداوار کا تقریباً 2۔ %65 تھرمل ( فرنس آئل، قدرتی گیس، کوئلہ) ، 4۔ %25 پن بجلی7۔ %3 ایٹمی توانائی، 5۔ %5 متبادل ذرائع (ہوا، شمسی توانائی، بائیو گیس ) سے حاصل ہوتا ہے، اس سے ظاہر ہے کہ پن بجلی کی پیداوار کا تناسب انتہائی کم ہے، جب کہ مہنگے اور ماحول دشمن توانائی کے ذرائع کا تناسب زیادہ ہے، پن بجلی کے علاوہ دیگر ماحول دوست ذرائع کی ابتدائی لاگت بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بجلی کے استعمال کی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے، جب کہ پن بجلی انتہائی سستا اور ماحول دوست توانائی کا ذریعہ ہے مگر بدقسمتی سے ملک میں معاشی اور سیاسی عدم استحکام، قومی عدم یک جہتی کے باعث بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کی طرف توجہ نہیں دی گئی جس کی باعث بجلی اور زراعت کے لئے درکار پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ بڑے آبی ذخائر اور پن بجلی کے تعمیری منصوبوں کے لئے بہت زیادہ وسائل، مربوط پالیسی، منصوبہ بندی اور وقت درکار ہوتا ہے جب کہ ملک پہلے سے ہی مالی وسائل کی کمی کا شکار ہے۔

2040ء تک بجلی کی طلب کا تخمینا اسی ہزار میگا واٹ ہے جس کو پورا کرنے کے لئے چند بڑے منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں جن میں دیامر بھاشا، داسو، مہمند، گلپور، آزاد پتن، اور کراچی میں لگائے جانے والے ایٹمی بجلی گھر قابل ذکر ہیں لیکن ان سب منصوبوں کی تکمیل کے بعد بھی بجلی کی طلب پوری نہیں ہوگی اس لئے ابھی سے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

بدقسمتی سے ہماری ناقص قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں کی وجہ سے ہمارا پڑوسی ملک ہمارے حصے کے دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر کر رہا ہے اور ہم صرف ڈیموں کی تعمیر پر سیاست کرتے رہے ہیں جس کے باعث ہمیں مستقبل میں پانی اور بجلی کے شدید بحران کا سامنا ہو گا، علاوہ ازیں زیر زمیں پانی کی سطح میں بھی مسلسل کمی ہو رہی ہے جس کے باعث زیادہ تر آبادی کو پینے کے صاف پانی کی کمی کا سامنا ہے، جس کا حل بڑے آبی ذخائر کی تعمیر ہے۔

نیپرا کی رپورٹ کے مطابق شمالی علاقوں میں 12314 میگاواٹ، آزاد کشمیر میں 4635 میگاواٹ اور خیبر پختونخوا میں 18698 میگاواٹ پن بجلی کی پیداوار کی استعداد موجود ہے، بڑے ڈیموں کی تعمیر پر کثیر لاگت کے باعث، اس امر کی ضرورت ہے کہ چھوٹے اور قلیل مدتی منصوبوں پر توجہ دی جائے، یہ علاقے زیادہ تر پہاڑوں پر مشتمل ہیں اس لئے قدرتی اونچائی موجود ہونے کی وجہ سے ڈیموں کی تعمیر کے بغیر پانی کے بہاؤ پر بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کی تعمیر سے، سستی توانائی کا حصول ممکن ہے۔

ملک میں سستی بجلی کے حصول میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں، جن میں گردشی قرضے اور بجلی کا بوسیدہ ترسیلی نظام سر فہرست ہے، جن پر اشد توجہ کی ضرورت ہے، تا کہ ملک میں سستی بجلی کی پیداوار اور فراہمی کے ذریعے مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کی ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments