EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

سنیل گواسکر کی سالگرہ: ورلڈ کپ میں متنازع اننگز اور عمران خان سے متعلق پیشگوئیاں

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

سنیل گاوسکر

Getty Images

’ریمبو ذرا احتیاط سے۔ آپ ٹی وی پر جس کی نقل اُتار رہے ہیں وہ پاکستان کا اگلا وزیراعظم ہوسکتا ہے۔‘

انڈیا کے عظیم بلے باز سنیل گواسکر کے پاس رنز کا جتنا وسیع ذخیرہ ہے اتنا ہی بڑا خزانہ دلچسپ انداز سے بھرپور واقعات کی شکل میں موجود ہے۔

10 جولائی 1949 کو ممبئی میں پیدا ہونے والے سنیل گواسکر نے اپنے شاندار ٹیسٹ کیریئر کا اختتام 125 میچوں میں 10122 رنز اور 34 سنچریوں پر کیا تو اس وقت وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز اور سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بلے باز تھے۔

گواسکر نے چار کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔ ان کا دلچسپ اور سادہ اسلوب پڑھنے والوں کو اپنے سے دور نہیں جانے دیتا۔

کمنٹیٹر کی حیثیت سے ان کے تجزیے اور تبصرے بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ کرکٹرز کی نقل اتارنے کا فن بھی خوب جانتے ہیں جس سے ان کی حس مزاح کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مچھیرن کے پہلو میں ُپرسکون نیند

سنیل گواسکر نے اپنی سوانح حیات ʹسنی ڈیزʹ کا آغاز بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے۔ ʹمیں کبھی بھی کرکٹر نہ بنتا اور یہ کتاب کبھی بھی نہ لکھی جاتی اگر میرے انکل نارائن مسوریکر کی عقابی نگاہیں میری پیدائش کے دن مجھ پر نہ پڑتیں۔ʹ

واقعہ کچھ یوں ہے کہ سنیل گواسکر کی پیدائش کے دن ان کے انکل نارائن مسوریکر انھیں دیکھنے ہسپتال آئے اور انھوں نے ان کے بائیں کان کی لو پر ایک چھوٹا سا سوراخ دیکھا۔ دوسرے دن جب وہ دوبارہ آئے تو انھیں گواسکر کے کان کے اوپر وہ سوراخ نظر نہ آیا۔

انھوں نے شور مچا دیا کہ یہ وہ بچہ نہیں ہے جسے انھوں نے پہلے دن دیکھا تھا۔ ہسپتال میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور کان کے اوپر سوراخ والے بچے کی تلاش شروع ہوگئی۔ پتا چلا کہ گواسکر ایک مچھیرن کے پہلو میں میٹھی نیند سو رہے تھے۔

دراصل بچوں کو نہلانے اور صفائی کے دوران بچے تبدیل ہوگئے تھے۔

سنیل گواسکر

Getty Images

گواسکر اپنی کتابʹ سنی ڈیزʹ میں لکھتے ہیں ’میں اکثر یہ سوچتا ہوں اگر کان پر وہ سوراخ نہ ہوتا اور میرے انکل میری شناخت نہ کرپاتے تو کیا ہوتا؟ شاید میں کسی مچھیرے کے طور پر پروان چڑھتا اور مغربی ساحل کے قریب کہیں مچھلیاں پکڑ رہا ہوتا۔ʹ

تیز شاٹ سے والدہ کی ناک زخمی

سنیل گواسکر کرکٹ سے اپنے پہلے تعلق کے بارے میں کہتے ہیں ’مجھے بچپن کا وہ زمانہ یاد ہے جب میں اپنے گھر کی چھوٹی سی بالکونی میں والدہ کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ وہ مجھے ہر روز باقاعدگی سے ٹینس کی گیند سے بولنگ کرتی تھیں۔

’ایک دن میں نے زوردار ہٹ لگائی جو سیدھی والدہ کی ناک پر جاکر لگی اور خون بہنے لگا۔ میں گھبرا گیا لیکن میری والدہ نے مجھ پر غصہ کیے بغیر اپنا ناک دھویا اور جیسے ہی خون رک گیا انھوں نے دوبارہ مجھے بولنگ شروع کردی لیکن اس روز کے بعد میں نے دفاعی سٹروکس کھیلنے شروع کردیے۔ʹ

گواسکر کہتے ہیں ʹمیرے ماموں مدھو منتری نے چار ٹیسٹ میچوں میں انڈیا کی نمائندگی کی تھی۔ میں جب بھی ان کے گھر جاتا میں ان کے کمرے میں سجے سووینئرز اور انڈین ٹیم کی جرسی اور بلیزرز کو دیکھ کر خوش ہوتا۔

’ایک دن میں نے ان سے کہا کہ کیا میں ان میں سے ایک لے سکتا ہوں۔ ان کا جواب تھا کہ اس کے لیے پسینہ بہانا پڑتا ہے۔ مجھے اس کے لیے سخت محنت کرنی ہوگی۔ یہ وہ سبق تھا جو میں کبھی نہیں بھولتا۔‘

حریف کھلاڑیوں نے لاٹھیاں اور چاقو نکال لیے

سنیل گواسکر ممبئی کے سینٹ زیویئر سکول اور کالج کے کامیاب ترین بلے باز تھے۔ انھیں ڈبل سنچریاں بنانے کی عادت زمانۂ طالب علمی کی کرکٹ میں ہی پڑگئی تھی لیکن وہ ایک میچ نہیں بھولتے جس میں لاٹھیاں اور چاقو نکل آئے تھے۔

وہ بتاتے ہیں ’فائنل میں سینٹ زیویئر کالج کا مقابلہ سدھارتھ کالج سے تھا۔ ہماری ٹیم کے اشوک منکڈ نے سنچری بنائی تو ہمارے کالج کے کچھ لڑکے میدان کے وسط میں گاڑی لے آئے اور اشوک کو ہار پہنانے لگے۔

’جب سدھارتھ کالج کے کرن ادھیکاری نے سنچری بنائی تو ان کے ساتھی موٹرسائیکل پر گراؤنڈ میں آگئے اور کرن کو ہار پہنانے لگے لیکن جب سدھارتھ کالج کو جیتنے کے لیے بیس رنز بنانے تھے ان کا آخری بلے باز صاف ایل بی ڈبلیو تھا لیکن امپائر نے اسے آؤٹ نہیں دیا کیونکہ اسے اپنی جان پیاری تھی۔

’دراصل سدھارتھ کالج کے باہر بیٹھے لڑکوں نے لاٹھیاں اور چاقو نکال لیے تھے۔ میچ کے بعد بھی ان لڑکوں نے گاڑی کے شیشے توڑ ڈالے۔ حریف کالج کے ایک لڑکے نے مجھ پر مہربانی کی اور وہاں سے محفوظ طریقے سے نکالا۔‘

والدہ کی خواہش پر ٹریپل سنچری

گواسکر نے انٹریونیورسٹی چیمپئن شپ میں ممبئی کی طرف سے پونے کے خلاف 327 رنز کی اننگز کھیلی تھی اس طرح انھوں نے اجیت واڈیکر کے 324 رنز کا بارہ سالہ پرانا ریکارڈ توڑا تھا۔

گواسکر

Getty Images

ان کا کہنا ہے کہ ’جس روز میں نے یہ ریکارڈ توڑا اس سے پچھلی شام کو میری والدہ کا فون آیا اور وہ کہنے لگیں میری ایک خواہش پوری کردو۔ میں نے پوچھا کیا؟ وہ بولیں میں چاہتی ہوں تم 324 رنز کا ریکارڈ توڑ دو ۔‘

وہ کہتے ہیں ʹچیمپیئن شپ کے پہلے میچ میں جب میں 226 رنز پر آؤٹ ہوا تھا تو اس وقت میرے ساتھی بلے باز اوی کامک نے مجھ سے اس ریکارڈ کی بات کی تھی دلچسپ بات یہ ہے کہ میں 327 رنز کی اننگز میں جب 269 رنز پر کھیل رہا تھا تو اوی کامک نے مجھے دوبارہ یاد دلایا کہ اس بار آپ کے پاس اچھا موقع ہے اسے ضائع مت کرنا۔ ’مجھے خوشی ہے کہ یہ ریکارڈ بن گیا اور والدہ کی خواہش بھی پوری ہوگئی۔ʹ

ورلڈ کپ میں 36 رنز کی متنازع اننگز

1975 میں ایک روزہ کرکٹ کا عالمی کپ متعارف ہوا۔ اس عالمی کپ کا پہلا میچ میزبان انگلینڈ اور انڈیا کے درمیان لارڈز میں کھیلا گیا۔ انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ ساٹھ اوورز میں چار وکٹوں پر 334 رنز بنائے۔

انڈیا کی اننگز کا آغاز سنیل گواسکر اور ایکناتھ سولکر نے کیا۔ انڈین ٹیم ساٹھ اوورز بیٹنگ کر کے تین وکٹوں پر صرف 132 رنز بنا سکی لیکن اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ گواسکر اننگز کے آغاز سے اختتام تک محض 36 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے تھے۔ انھوں نے انڈین اننگز کے 60 اوورز میں سے 29 اوورز یعنی 174 گیندیں کھیلی تھیں اور صرف ایک چوکا لگایا تھا۔

جس وقت گواسکر اتنی سست روی سے بیٹنگ کررہے تھے نہ صرف شائقین بلکہ خود انڈین کھلاڑی بھی حیران پریشان تھے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔

اس اننگز کے بارے میں آج بھی یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ اتنا سست کھیلنے کی وجہ کیا تھی۔ کچھ کا خیال ہے کہ گواسکر نے اپنے بجائے وینکٹ راگھون کو کپتان بنائے جانے پر اپنا احتجاج اس طرح ریکارڈ کرایا تھا۔

کچھ کہتے ہیں کہ وہ ٹیم میں تیز بولرز کے بجائے سپنرز کے سلیکشن پر ناخوش تھے لیکن سابق ٹیسٹ کرکٹر ٹونی لوئس کے مطابق اختلافات جو بھی تھے وہ میچ سے قبل دور کیے جاسکتے تھے لیکن ان کا خمیازہ ہزاروں پاؤنڈ خرچ کرنے والے تماشائیوں اور لاکھوں کے سپانسرز کو بھگتنا کسی طور مناسب نہ تھا۔

سنیل گواسکر

Getty Images

انڈین ٹیم کے منیجر رام چند نے اس اننگز کے دو دن بعد انگلینڈ کے اخبار ڈیلی ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ʹیہ شرمناک اور خود غرض کارکردگی تھی جو انھوں نے دیکھی ہے۔ گواسکر نے مجھے اس کی وجہ سلو وکٹ بتائی تھی جس پر شاٹس کھیلنا مشکل تھا لیکن یہ احمقانہ بات تھی کیونکہ اسی وکٹ پر انگلینڈ نے334 رنز بنا ڈالے تھے۔‘

سنیل گواسکر نے خود اس اننگز کے بارے میں اس وقت کچھ نہیں کہا تھا لیکن کچھ عرصے بعد انھوں نے اپنی اس اننگز کو بدترین قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ انھوں نے کئی بار سوچا کہ وکٹوں کو چھوڑ دیں اور آؤٹ ہوجائیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ اننگز کی دوسری ہی گیند پر وہ وکٹ کیپر ایلن ناٹ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے تھے لیکن بولر اور وکٹ کیپر کسی نے بھی اپیل نہیں کی تھی۔

سوبرز بولے آپ کو دوسرا فیلڈر نظر نہیں آتا؟ʹ

گواسکر نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی اولین ٹیسٹ سیریز میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 774 رنز بنائے تھے۔ اس سیریز میں ویسٹ انڈین کپتان سر گیری سوبرز نے ان کے تین کیچز ڈراپ کیے تھے۔

جب تیسری مرتبہ انھوں نے آسان کیچ ڈراپ کیا تو انھوں نے گواسکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ʹآپ میرے ہی پیچھے کیوں پڑگئے ہو؟ کیا آپ کو کوئی دوسرا فیلڈر نظر نہیں آتا؟‘

اداکاری اور گلوکاری

انھوں نے 1980 میں ایک مراٹھی فلم ساولی پریماچی میں ہیرو کا کردار ادا کیا لیکن وہ فلم فلاپ ہوگئی۔ 1988میں وہ ہندی فلم مالا مال میں مہمان اداکار کے طور پر نظر آئے۔

گواسکر نے ایک مراٹھی گانا بھی گایا ہے جس پر لتا منگیشکر نے ٹوئٹ کیا کہ گواسکر کرکٹ کا ایک یادگار باب ہیں لیکن وہ موسیقی کی بھی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔

وہ ایک باصلاحیت گلوکار ہیں۔ ان جیسے زندہ لیجنڈ کم ہی ہیں۔

پاکستان ورلڈ کپ جیتے گا

سنہ 1992 کے عالمی کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا برا حال تھا۔ پہلے پانچ میچوں میں وہ صرف ایک میچ جیتنے میں کامیاب ہوسکی تھی۔

ایسے میں بھلا کون یہ سوچ سکتا تھاکہ یہی ٹیم ورلڈ کپ کی فاتح بنے گی لیکن اس دوران ہوا کے دوش پر صرف ایک آواز گونج رہی تھی جو مسلسل یہی کہہ رہی تھی کہ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ جیت سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جب ویوین رچرڈز کو دیکھ کر انڈین اداکارہ نینا گپتا کا دل دھڑکا

میلکم مارشل: وہ فاسٹ بولر جو ’صرف دو گیندوں میں بلے باز کی کمزوری جان لیتے‘

جب عمران خان نے انڈیا کے خلاف جیت کو جاوید میانداد کے ریکارڈ پر ترجیح دی

ٹیسٹ کرکٹ کے وہ بولنگ سپیل جو کبھی بھلائے نہیں جا سکتے

یہ گواسکر تھے جنھیں نہ جانے کیوں پاکستانی کرکٹ ٹیم پر اس قدر بھروسہ تھا کہ وہ اسے ورلڈ کپ کے فاتح کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ ان کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی۔

ورلڈ کپ کے بعد سنیل گواسکر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر لاہور آئے تھے اور قذافی سٹیڈیم میں ورلڈ کپ کی جیت پر ہونے والی خصوصی تقریب میں شرکت کی تھی۔

گواسکر پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹمجھے اس دوران ڈنر کے لیے عمران خان کے گھر جانے کا بھی موقع ملا تھا جہاں نصرت فتح علی خان بھی آئے تھے اور قوالیاں سنائی تھیں۔ وہ ایک خوبصورت موقع تھا۔‘

عمران کی نقل مت اتارو وہ وزیراعظم بن سکتے ہیں‘

ورلڈ کپ کے بعد سنیل گواسکر کی عمران خان سے متعلق ایک اور پیشگوئی درست ثابت ہوئی جس پر لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ’گواسکر کہیں نجومی تو نہیں ہیں؟‘

سنیل گواسکر

Getty Images

2012 کے ایشیا کپ کے ایک میچ کے دوران سنیل گواسکر اور رمیز راجہ کمنٹری باکس میں موجود تھے۔

اس موقع پر رمیز راجہ عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے ’اس دور میں ویو رچرڈز انتہائی جارحانہ بیٹنگ کرتے تھے اور سنیل گواسکر عمران خان کی سوئنگ گیندوں کی لائن سے خود کو آسانی سے ہٹا لیتے تھے۔

’میں اس وقت شارٹ لیگ پر فیلڈنگ کرتا تھا اس صورتحال میں عمران خان ہر دس منٹ بعد کہتے تھے دیکھو یہ کیسے کھیلتا ہے۔‘

رمیز راجہ نے یہ جملہ بالکل عمران خان کی آواز میں ادا کیا جس پر انھوں نے فوراً کہا ʹریمبو احتیاط سے رہیں، آپ ٹی وی پر جس کی نقل اتار رہے ہیں وہ پاکستان کا اگلا وزیراعظم ہوسکتا ہے۔‘

عمران خان نے ریٹائرنہ ہونے کا مشورہ دیا

عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد گواسکر کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا تھا۔ گواسکر نے ذاتی وجوہ کی بنا پر تقریب میں شرکت سے معذرت کرلی تھی لیکن اسی روز انھوں نے اپنے اخباری مضمون میں عمران خان سے اپنی پرانی دوستی کا تفصیل سے ذکر کیا تھا۔

انھوں نے اس مضمون میں لکھا تھا ʹیہ 1986 کی بات ہے۔ میں اور عمران خان لندن کے ایک رستوران میں کھانا کھا رہے تھے۔

’میں نے عمران خان سے کہا کہ میں انڈین ٹیم کے انگلینڈ کے دورے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا ارادہ رکھتا ہوں جس پر عمران خان نے کہا کہ آپ ریٹائر نہیں ہوسکتے کیونکہ پاکستانی ٹیم اگلے سال انڈیا کا دورہ کرنے والی ہے اور میں انڈین ٹیم کو اسی کی سرزمین پر ہرانا چاہتا ہوں اور اگر آپ اس ٹیم میں نہ ہوئے تو پھر مزا نہیں آئے گا۔‘

عمران خان نے انھیں کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف آخری بار کھیل لیں۔‘

گواسکر کا آخری ٹیسٹ مارچ 1987 میں پاکستان کے خلاف بنگلور میں تھا جس میں انھوں نے 96 رنز کی اننگز کھیلی تھی لیکن پاکستان نے وہ ٹیسٹ ڈرامائی انداز میں 16 رنز سے جیت کر پہلی بار انڈین سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیتی تھی۔

گواسکر نے انضمام کی پریشانی کیسے دور کی؟

پاکستانی بیٹسمین انضمام الحق 1992 کے عالمی کپ میں عمدہ بیٹنگ کے بعد جب انگلینڈ کے دورے پر پہنچے تو انھوں نے محسوس کیا کہ شارٹ پچڈ گیندوں پر وہ اعتماد سے بیٹنگ نہیں کرپا رہے ہیں لہذا انھوں نے گواسکر سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیا جو ان دنوں انگلینڈ میں تھے۔

انضمام الحق کہتے ہیں ʹمیرا یہ انگلینڈ کا پہلا ٹور تھا اور مجھے وہاں کی کنڈیشنز میں شارٹ پچڈ گیندوں کا سامنا کرنے کا کوئی آئیڈیا نہیں تھا۔ میں نے ایک چیریٹی میچ کے دوران گواسکر سے ملاقات کی اور اپنی مشکل بتائی۔

انھوں نے بہت ہی مختصر اور سادہ سا حل بتاتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے ذہن سے شارٹ پچڈ بولنگ اور باؤنسرز کا خیال نکال دیں کیونکہ جب آپ صرف اسی کے بارے میں سوچیں گے تو پھر اس سے نکل نہیں پائیں گے اور بولر آپ کو ٹریپ کرلے گا لہذا ہر گیند کو نارمل انداز سے کھیلنے کی کوشش کریں۔

انضمام الحق کہتے ہیں ʹمیں نے ان کی اس بات پر نیٹ پریکٹس میں عمل کیا اور مجھے اپنے پورے کریئر میں باؤنسر پر کبھی مشکل نہیں ہوئی۔‘

میانداد کی طرف سے میٹھی چھالیہ کا تحفہ

سنیل گواسکر کی عمران خان کے علاوہ ظہیر عباس اور جاوید میانداد سے بھی بہت گہری دوستی رہی ہے۔

انڈیا کے سینئر صحافی سنندن لیلے بتاتے ہیں کہ سنیل گواسکر خوشبو والی میٹھی سپاری (چھالیہ) کے بڑے شوقین رہے ہیں اور کسی زمانے میں جاوید میانداد باقاعدگی سے انھیں پاکستان سے میٹھی چھالیہ بھجواتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19926 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp