EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بڑھتی ہوئی آبادی اور ہماری ذمہ داریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی آبادی ساڑھے 22 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑے ممالک کی فہرست میں چھٹے سے پانچویں نمبر پر آ گیا ہے۔ افزائش آبادی کی تیز شرح سے دنیا کی آبادی کا 2.83 فیصد حصہ پاکستان میں موجود ہے۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی زیادہ آبادی والے شہر ہیں۔ عالمی اداروں کے مطابق افزائش آبادی کی موجودہ شرح کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آئندہ 35 سالوں میں پاکستان کی آبادی دوگنی ہو جائے گی۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 11 جولائی کو آبادی کا دن منایا جاتا ہے۔ مختلف تقریبات کا انعقاد کر کے عالمی اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار پر غور و خوض کیا جاتا ہے۔ شرکاء کو مستقبل میں پھٹنے والے آبادی بم کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ سرکاری طور پر عوام کو حقائق بتلائے جاتے ہیں۔ خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرنے کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ خطیر فنڈز مختص کرنے کا عندیہ بھی دیا جاتا ہے لیکن 12 جولائی کے اخبارات میں شہ سرخیوں کی اشاعت کے ساتھ ہی آئندہ سال کے گیارہ جولائی تک حکومت، سرکاری و غیر سرکاری ادارے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ صرف اس شعبے میں کام کرنے والے محکمے اور غیر سرکاری تنظیمیں دستیاب محدود وسائل میں رہتے ہوئے معمول کے مطابق سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیں۔

اگر سالانہ 2.4 فیصد کی شرح کے ساتھ آبادی میں اضافہ ہوتا رہا تو عنقریب فیصل آباد جتنے چند بڑے شہر آباد کرنے پڑیں گے۔ پانی کی شدید ترین قلت کا سامنا ہوگا۔ ہماری زرخیز زرعی زمینوں میں زراعت کے بجائے رہائشی بستیاں آباد ہوں گے۔ بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو کر معذور و لاغر ہوں گے۔ بے روزگاری اور لاقانونیت کا عفریت قابو سے باہر ہوگا۔ توانائی کی شدید کمی کے ساتھ صوتی اور ماحولیاتی آلودگی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے ڈیرے ڈال لیں گے اور معیار زندگی کی تنزلی سمیت ایسے ایسے مسائل سر اٹھائیں گے جن پر قابو پانا ہمارے بس سے باہر ہوگا۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا شدہ مسائل اور دستیاب وسائل کو متوازن کرنے کے لیے سرکاری سطح پر 1965 سے خاندانی منصوبہ بندی مہم کا آغاز کیا گیا لیکن بد قسمتی سے دیگر آگاہی مہمات کی طرح خاندانی منصوبہ بندی کو بھی شریعت اور فطرت کے خلاف قرار دے کر متنازعہ بنا دیا گیا۔ جس کی وجہ سے پیدا ہونے والا ابہام آج بھی اکثریتی شہریوں کے اذہان میں موجود ہے حالانکہ سرکاری ادارے متعدد بار اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے اعلان کر چکے ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی سے ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بچے کسی مخصوص تعداد میں پیدا کیے جائیں یا آبادی کنٹرول کرنے کی غرض سے حمل ضائع کیے جائیں بلکہ سرکاری و غیر سرکاری ادارے اس بات کی آگاہی دیتے ہیں کہ بچوں کی پیدائش میں اتنا وقفہ رکھا جائے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر بچے کی مدت رضاعت پوری ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی بہترین پرورش، تعلیم و تربیت اور نشوونما ہو سکے تاکہ وہ معاشرے کا کار آمد شہری بن پائے اور زچہ و بچہ کی صحت و خوراک کا بھی مناسب خیال رکھا جا سکے۔

اس کے باوجود بعض عناصر خاندانی منصوبہ بندی کو یہودی ایجنڈا اور امت مسلمہ کی تعداد کم کرنے کی سازش قرار دے کر اسے مسترد کرتے ہیں۔ ہمارے پڑوسی اسلامی ملک ایران اور بنگلہ دیش نے بڑھتی ہوئی آبادی کے مضر اثرات کا ادراک کرتے ہوئے بہترین انداز میں مسئلہ پر قابو پا لیا ہے وہاں بھی مسلمان آباد ہیں کسی نے خاندانی منصوبہ بندی کو یہودیوں کی سازش قرار نہیں دیا بلکہ ان کے جید علمائے کرام نے خاندانی منصوبہ بندی کو فتاویٰ جات کے ذریعے جائز قرار دے کر عوام کے اذہان سے تحفظات و خدشات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بہرحال اب پاکستان میں بھی محکمہ بہبود آبادی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے تشکیل دی جانے والی ٹاسک فورسز کے سفارشات کی روشنی میں خاندانی منصوبہ بندی کی آگاہی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے علمائے کرام و مفتیان عظام کی خدمات حاصل کی ہیں۔ حالیہ دنوں محکمہ بہبود آبادی خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام منعقدہ تربیتی ورکشاپس برائے علمائے کرام کے شرکاء سے خاندانی منصوبہ بندی کے متعلق ان کا نقطۂ نظر جاننے کا موقع ملا۔

علمائے کرام کا کہنا تھا کہ اس سے قبل حکومت کی جانب سے علمائے کرام کو خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق ریاستی بیانیے سے آگاہ ہی نہیں کیا گیا جس کہ وجہ سے بہت ساری غلط فہمیوں اور بدگمانیوں نے جنم لیا ہے لیکن خیبر پختونخوا حکومت نے خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق ابہام، اشکالات اور تحفظات دور کیے ہیں۔ علمائے کرام نے کہا کہ مدت رضاعت کی تکمیل اور زچہ و بچہ کی صحت کی خاطر بچوں کی پیدائش میں وقفہ رکھنا ضروری اور جائز ہے۔ تاہم رزق کی تنگی کے خدشات کے پیش نظر ضبط تولید ناجائز اور غیر شرعی ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سنجیدگی دکھائے اور خاندانی منصوبہ بندی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اسے اولین ترجیحات میں شامل کرے۔ تمام طبقات با الخصوص مختلف مکاتب کے علمائے کرام اور آئمہ و خطباء کی خدمات و مشاورت حاصل کر کے آگاہی مہم کو موثر بنایا جائے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے موضوع کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ اسلامی تعلیمات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے علمائے کرام کی مشاورت سے قانون سازی کر کے عملدرآمد کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ نوجوانوں کو شادی سے قبل ہی کنبے کی تشکیل اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے تعلیمات اور آگاہی فراہم کرنے کے لیے مناسب حکمت عملی مرتب کی جائے۔

ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے باشعور شہری اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی مہم کا حصہ بنیں کم تعلیم یافتہ لوگوں کو شعور و آگاہی دینے میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔ اہم سیاسی و سماجی شخصیات اپنے فالورز کے لیے خصوصی آگاہی پیغامات جاری کر کے عوام کی توجہ اس اہم مسئلہ کی طرف مبذول کروائیں۔ قوم کے کل کو محفوظ بنانے کے لیے ہمیں آج اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے