EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کراچی کا زوال: کیسی آباد تھی دنیا تیری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1966 میں اس وقت کے مشرقی پاکستان کے شہر چٹاگانگ میں ایک مشاعرہ گورنر عبدالمنعم خان نے منعقد کروایا۔ جس کا واحد مقصد پاکستان کے خلاف بنتی فضا کی شدت کو کم کرنا تھا۔ کراچی کر نمائندگی کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر شہرت بخاری نے کی۔ انہوں نے اس مشاہرے میں جو نظم پڑھی اس کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :

راکھ بھی پائے نہ کوئی اپنی

اب کہ وہ آگ لگادی ہم نے
آس کے بجھتے ہوئے دیے کو
کتنے سلیقے سے ہوا دی ہم نے
کوئی غنچہ کسی گوشے میں کھلا

باغ میں دھوم مچا دی ہم نے
کیسی آباد تھی دنیا تیری

شہرت کیسی سنسان بنا دی ہم نے۔

بدقسمتی سے آج یہ اشعار عمومی طور پر پورے ملک پر اور خصوصی طور پر شہر کراچی پر صادر آتے ہیں۔ میں اگر گزشتہ الیکشن کے دوران کی گئی تبدیلی سرکار کے نمائندہ لوگوں کی تقریریں جن میں موجودہ صدر پاکستان، وزیراعظم۔ وزیر منصوبہ بندی، گورنر سندھ اور وزیر جہاز رانی شامل ہیں، کا جائزہ لوں اور پھر برسر اقتدار آنے کے پورے تین سال مکمل ہونے کے بعد کا موازنہ تین سال پہلے کے کراچی سے کروں تو آپ یوں سمجھئے کہ ریاست مدینہ کے تین سال کراچی کی بربادی کے سال ہیں۔

کراچی میں ان تین سالوں میں ریکارڈ تجاوزات ہوئیں، قبضے کرنے والوں کو اس طرح چھوٹ تھی اور ہے کہ قبضہ کرنے والوں کی روک تھام کے ادارے خود تجاوزات کروانے میں معاون و مدد گار ہیں اور قبضہ کرنے والوں کو تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔ کراچی میونسپل کارپوریشن جو شہر کی ایک بڑی وارث ہے۔ اس کا ہیڈ ایک ایسا شخص تھا۔ جس کی شہرت ہی قبضے کرنے کرانے، بھتہ خوری اور قتل و غارتگری کی ہے۔ اس نے اپنی مدت پوری کی، اور آج بھی اس کا اثر و رسوخ بڑی حد تک قائم ہے۔

کراچی کے باقی ترقیاتی منصوبوں کو تو فی الحال چھوڑ دیں، اور ہونے کی توفیق و توقع بھی نہیں ہے، کراچی کی فلاح و بہبود کے لئے کراچی میونسپل کارپوریشن جس کے تحت دو لاکھ سینیٹری ورکرز باقاعدہ تنخواہیں اور دیگر مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ وہ اگر صرف چھ گھنٹے آج سے شہر کی صفائی کرنی شروع کر دیں۔ جس کی وہ تنخواہ لیتے ہیں تو صرف ایک ہفتے میں شہر کی حالت تبدیل ہو جائے۔ مگر بدقسمتی سے کوئی مربوط نظام موجود ہی نہیں۔

اب اس بگڑے ہوئے نظام کو کوئی بھی آدمی بے شک وہ پوری دیانتداری سے کام کرنا چاہتا ہو اور کراچی کو سنوارنا بھی چاہتا ہو کچھ نہیں کر سکتا۔ اب اگر کراچی کو کسی نہ کسی حد تک بہتر کرنا مقصود ہو تو ڈنڈا درکار ہے۔ اس شہر کے بگاڑ کا دوسرا بڑا مسئلہ جیالوں کی حکومت ہے جو جس مستعدی سے اپنے نظام کو چلاتی ہے اسی میں اس کی فلاح ہے۔ آپ یوں سمجھیں پوری حکومتی مشینری ایک مربوط نظام کے تحت چلتی ہے۔ جو کچھ بھی نہیں ہونے دیتی مگر سب اچھا کا واویلا اتنی یکسوئی سے کر رہی ہوتی ہے، جسے سننے والا شرمندہ ہو جاتا ہے۔

پی پی حکومت کے تمام کارندے اتنی فصاحت و بلاغت سے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں اپنا تیسرا پنج سالہ مکمل کرنے جا رہے ہیں۔ کراچی کی سڑکیں کاغذوں میں ہر سال بنتی ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں کراچی کی تمام سڑکوں پر ہر طرح کا کاروبار ہو رہا ہے، مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب پورے شہر کی سڑکیں ہر طرح کے کاروبار کے لئے موزوں جگہ ہیں اور اس مکروہ دھندے میں چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کاروبار ہو رہا ہے۔

اور ان سڑکوں پر کاروبار کرنے کا کرایہ گورنمنٹ کے وہ اہلکار لیتے ہیں جو اس کی روک تھام کے ذمہ دار ہیں اور پورے شہر میں سارے ناجائز کام کو جائز بنا کر کروانے والے سرکاری اہل کار پورے وثوق کے ساتھ پیسے وصول کرتے ہیں۔ مگر افسوس یہ بھی ہے کہ ریاست مدینہ والے ایک دوسری ترجیح رکھتے ہیں، یعنی وہ نیا پاکستان اپنی طرح کا بنانا چاہتے ہیں۔ روٹی ملے یا نہ ملے۔ تن ڈھانپے یا نہ ڈھانپے، مکان دینے کی نوبت تو بعد میں آئے گی فی الحال بنے بنائے گھر گرانے کا زمانہ ہے۔

اور ریاست مدینہ میں اسے عدالتی تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے۔ ناجائز جگہ پر بلڈر قبضہ کرتا ہے، پلاٹ تیار ہوتا ہے، نقشہ منظور کروایا جاتا ہے، سیوریج سسٹم، پانی، گیس اور بجلی کی تمام سرکاری اداروں سے منظوری لی جاتی ہے، پھر کراچی کے تمام اخبارات میں اس بلڈنگ کے اشتہارات چھپتے ہیں، کراچی کی ساری سڑکوں پر بینرز آویزاں ہوتے ہیں، بیچارے سادے لوگ من مانی قیمت پر بکنگ کرانا شروع کر دیتے ہیں، پچاس لاکھ لاگت والا یونٹ ایک سو پچاس لاکھ میں بکتا ہے، پروجیکٹ چار سال میں مکمل ہوتا ہے، جب تمام پیمنٹ مکمل ادا کرنے کے بعد اس یونٹ میں رہائش اختیار کرنے کا وقت آتا ہے تو پروجیکٹ جعلی نکل آتا ہے۔ پہلے کسی کو بھی علم نہیں ہوتا اب عدالت کو بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے انصاف پر حرف آ رہا ہے۔ اربوں روپے کے پروجیکٹ کو گرانے سے دل خوش ہوتا ہے۔ یہ کیسی حکومت ہے۔ آخر میں انور مسعود کے شعر پر ختم کرتا ہوں :

اس کی تلوار نے وہ چال چلی ہے اب کے

پاؤں کٹتے ہیں اگر ہاتھ بچاؤں اپنے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے