افغانستان: تاریخ خود کو دہرانے جا رہی ہے

افغانستان میں نوے کی دہائی پھر دہرائی جانے لگی ہے اور تاریخ کا پہیہ آگے جانے کی بجائے دہائیوں پیچھے کی جانب مراجعت کرنے کو ہے۔ اس ٹریجڈی میں کامیڈی صرف یہ ہے کہ اس میں شامل تمام وہ بڑے کردار جو اس خوفناک ڈراپ سین کے ذمہ دار ہیں اب ہاتھ ملاتے نظر آرہے ہیں۔ سب سے نمایاں المیہ کردار صدر بائیڈن کا ہے جو اپنی مفصل پریس کانفرنس میں پشیماں دکھائی دیے۔ انہوں نے بات کچھ یوں ختم کی کہ افغان جانیں اور افغانوں کا کام کہ امریکہ کے القاعدہ کے خلاف مقاصد کب کے پورے ہوئے۔

جنوبی ویت نام کے شہر سائیگان سے امریکیوں کے شرمناک انخلا کے دہرائے جانے سے صرف اس طرح بچا جا سکا کہ راتوں رات افغان حکومت کو بتائے بنا بگرام کے فوجی اڈے سے انخلا اس طرح ہوا کہ اس کے خالی ہونے پر مال غنیمت کو افغان اٹھائی گیر لے دوڑے اور افغان فوجی دستے پہنچے بھی تو اس وقت جب لوٹ مار ہو چکی تھی۔ بگرام کے فوجی اڈے سے انخلا کا منظر افغانستان کے طول و عرض میں پھیلتا نظر آ رہا ہے اور اس خلا کو پر کر بھی رہے ہیں تو وہ طالبان جن کی سرکشی کچلنے امریکہ اور نیٹو کی افواج بیس برس پہلے افغانستان پہ حملہ آور ہوئی تھیں۔

1988 میں جب افغانستان پر افغان مجاہدین اور صدر نجیب اللہ کے مابین جنیوا معاہدہ ہوا تھا تو تب بھی وہی سوال اٹھے تھے جو اب اٹھ رہے ہیں۔ سوویت فوجوں کے انخلا کے بعد دھرتی کے بیٹے کامریڈ نجیب اللہ تو پھر دو برس تک براجمان رہنے میں کامیاب رہے، افغانی نژاد امریکی صدر اشرف غنی کی حکومت بارے خود پنٹاگون کہہ رہا ہے کہ یہ چھ ماہ گزارنے سے رہی۔ بیس برس میں ( 2 کھرب ڈالرز) پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے چھ گنا سے زیادہ افغانستان کی ”قومی تعمیر“ پہ خرچ کرنے اور افغانستان سکیورٹی فورسز پر پاک فوج کے سالانہ اخراجات سے 11 گنا ( 80 ارب ڈالرز) خرچ کرنے کے باوجود اور نیشن بلڈنگ پر سینکڑوں ارب ڈالرز جھونکنے کے بعد بھی، آج افغانستان پھر سے غاروں کے مجاہدوں کے نرغے اور دور وحشت میں گھرنے جا رہا ہے۔

امریکی نیو قدامت پسندوں کا ”نیشن بلڈنگ“ کا خواب قرون اولیٰ کا دور واپس لانے والے افغان طالبان کے پیروں میں ہے۔ سوویت یونین اور واحد سپر پاور امریکہ کو شکست دے کر افغان جنگجوئیت کا سر تو بلند ہوا لیکن افغان باقی رہا نہ کوہسار۔ تباہی و بربادی کے جلو میں ابھرے بھی ہیں تو کالی دستار والے افغان طالبان جن کی معیت میں نظر آ بھی رہے ہیں تو تحریک طالبان پاکستان و دیگر پاکستانی دہشتگرد تنظیموں کے بکھرے ہوئے عناصر۔

31 اگست تک مشن مکمل ہونے پر صدر بائیڈن کو امید ہے کہ امریکہ کی نہایت تربیت یافتہ تین لاکھ افغان فوج ستر ہزار طالبان پہ حاوی رہے گی، لیکن وہ بھول گئے کہ اس فوج کو نہ تو قابل اعتماد قیادت میسر ہے اور نہ دل کو گرمانے والا نظریہ جو انہیں کسی بڑے کاز کی خاطر کھڑا ہونے پہ اکسائے۔ لیکن فتح مندی کے جوش میں طالبان بھول ر ہے ہیں کہ افغان فوج کے تربیت یافتہ فوجی اپنی اپنی مقامی ملیشیاز کے ساتھ مل کر طالبان کو تگنی کا ناچ نچا دیں گے اور شہروں میں قلعہ بند ہوجائیں گے۔ افغانستان میں ایسی طوائف الملوکی پھیلے گی کہ پچھلی تمام خانہ جنگیوں کا خون خرابہ ماند پڑ جائے گا۔ طالبان موجودہ افغان ریاست کے بندوبست کا حصہ بننے یا اسے قیادت فراہم کرنے پہ مائل نہیں۔

ایسے میں اگر سراسیمگی اور خفگی کی انتہا دیکھنے لائق ہے تو وہ ہمارے ذوق خدائی والے تذویراتی ماہرین ہیں کیوں کہ گزشتہ بیس برس میں جنرل مشرف اور بعد ازاں ان کے محترم نائبین نے جو کیا، اس کا نتیجہ اب سامنے ہے۔ افغان مجاہدین کی فتح کا پھل پک کر تیار ہو چکا تو سوویت یونین کو پسپا کرنے کے بعد واحد سپر پاور کے خلاف اپنی عظیم الشان کامیابی پہ اتنی گھبراہٹ کیوں؟ چہ معنی دارد! ہفتوں نہیں تو مہینوں میں کابل پر طالبان کا قبضہ ہونا ہی ہے۔

انہیں روکنے والے انخلا کر چکے اور جو موجود ہیں وہ بکھرنے کو تیار۔ خانہ جنگی کا دائرہ کار کتنا وسیع ہوگا یا کم اس کا دار و مدار بھی طالبان پر ہے کہ وہ کتنوں کو، کیسے اور کن شرائط پر امارات طالبان میں شامل کرتے ہیں۔ مشرق اور مغرب میں فتوحات کے بعد وہ ایران، روس اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کو بقائے باہمی کا یقین دلا رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر داعش و دیگر عالمی دہشت گردوں کے خلاف امریکہ کو طالبان کی ضرورت ہو گی اور طالبان کو امریکہ کے ڈالروں کی۔

بدخشاں پہ قابض ہو کر وہ چین کو بھی جتلا رہے ہیں کہ ہم سے معاملہ کرو۔ بھارت کے ساتھ اب ان کا کیا جھگڑا جب اشرف غنی حکومت ہی چلتی بنے گی۔ لیکن پاکستان کو کیا ملا؟ 70 ہزار شہری اور 5 ہزار فوجی جوان شہید کروانے کے بعد ملی بھی تو ایک اور افغان طوائف الملوکی، مہاجرین کا ایک اور ریلا اور دہشت گردوں کی حیات نو۔ اب ہم کہتے ہیں کہ امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد طالبان پر ہمارا اثر و رسوخ کم ہو چلا ہے۔ جب وہ ماضی میں اقتدار میں لائے گئے تھے تو تب بھی پاکستان کا ان پر کتنا کنٹرول تھا؟

اتنا بھی نہیں کہ وہ آخری وقت میں بھی ہمارے دباؤ کے باوجود اسامہ بن لادن اور القاعدہ سے تعلق توڑنے پہ رضا مند ہوتے۔ یہاں تک کہ کرسی میز سجا دی گئی تھی کہ امیر المومنین ملا عمر ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے کے معاہدے پہ دستخط کردیں گے، لیکن یہ آخری خواہش خواہش ہی رہی۔ تین طرح کے امکانات ہیں۔ اول: طالبان تیزی سے چھ ماہ کے اندر اندر کابل پہ قبضہ کر کے اپنی امارات کی کامیاب واپسی کا اعلان کردیں اور ہم سمیت دنیا منہ تکتی رہ جائے اور اس کے ساتھ کاروبار کرنے پہ مجبور ہو یا اسے ایک دہشت گرد ریاست قرار دے۔ دوم: خانہ جنگی طول پکڑ جائے جس میں تمام علاقائی قوتیں بھی کود پڑیں اور سیاسی سمجھوتے کی کوئی راہ نکلے گی بھی تو جانے کیسے؟ سوم: افغانستان تقسیم ہو کر رہ جائے اور مختلف علاقائی قوتوں کے زیر اثر خطوں میں بٹ جائے۔

اب اس پر پاکستان کی حکومت اور مقتدرہ کو اگر کچھ سجھائی نہیں دے رہا تو کوئی کیا کرے۔ ایسے میں سینیٹ کی فارن افیئرز کی کمیٹی میں امریکہ اور چین کے مابین توازن قائم کرنے کی پھرتیوں پہ کوئی سر دھنے تو کیسے؟ کوئی ان جغادریوں سے پوچھے کہ امریکہ کو آخر آپ کی ضرورت ہے کیا، سوائے افغانستان پہ نظر رکھنے کے لئے اور نظر رکھنے کے لئے امریکہ کو اڈے دینے سے گریزاں ہے کہ امریکہ کا بڑا ہدف چین ہے۔ ایسے میں توازن کے پلڑے میں آپ امریکہ کے پلڑے میں ہوں گے یا چین کے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words