EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

طالبان کی پیش قدمی، بھارت نے قندھار قونصل خانے سے عملہ واپس بلا لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طالبان اور افغان فورسز کے درمیان حالیہ دنوں میں لڑائی میں تیزی آئی ہے۔

افغانستان کے شہر قندھار کے اطراف طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جاری لڑائی کے باعث بھارت نے قندھار میں موجود اپنے قونصل خانے سے بھارتی عملہ وطن واپس بلا لیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق بھارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ قونصل خانے میں تعینات تمام اسٹاف کو وقتی طور پر بھارت واپس بلا لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان سے امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کے دوران حالیہ دنوں میں طالبان کے حملوں میں شدت آئی ہے جب کہ جنگجو گروپ نے افغانستان کے کئی اضلاع پر قبضے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

اتوار کو بھارت کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان ارندم باگچی نے ایک بیان میں بتایا کہ قندھار کے اطراف میں شدید لڑائی کے باعث بھارت نے وقتی طور پر اپنا بھارتی اسٹاف واپس بلا لیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بھارت صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے جب کہ فی الحال قونصل خانے کے اُمور افغان اسٹاف سرانجام دے گا۔

ارندم باگچی نے افغانستان میں تشدد کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں عدم استحکام کا براہِ راست اثر خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر پڑتا ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے ‘این ڈی ٹی وی’ کی رپورٹ کے مطابق قندھار کے قونصل خانے سے لگ بھگ 50 اراکین پر مشتمل سفارتی عملے کو بھارتی ایئر فورس کے طیاروں کے ذریعے بھارت واپس بلایا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی ایئر فورس کے طیاروں نے بھارت واپسی پر پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال نہیں کیا۔

بھارتی حکام نے منگل کو کہا تھا کہ کابل میں بھارتی سفارت خانہ بدستور کام کرتا رہے گا۔ البتہ بھارت نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں کو موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں انتہائی احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کی ہدایت کی تھی۔

بھارت نے کرونا وبا کے پیشِ نظر جلال آباد اور ہرات میں قائم اپنے قونصل خانے بند کر دیے تھے جب کہ قندھار اور مزار شریف میں اس کے قونصل خانے اب بھی فعال ہیں۔

طالبان نے جمعے کو دعویٰ کیا تھا کہ اُنہوں نے افغانستان کے 85 فی صد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جب کہ دیگر علاقوں کے کنٹرول کے لیے بھی پیش قدمی جاری ہے۔

البتہ، افغان حکام نے طالبان کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں محض پروپیگنڈا قرار دیا تھا۔

بھارت نے افغانستان کے کئی شہروں میں اپنے قونصل خانے قائم کر رکھے ہیں جن پر ہمسایہ ملک پاکستان اکثر تنقید کرتا رہتا ہے۔

پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ بھارت کے افغانستان میں قونصل خانے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

البتہ، بھارت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے اور افغانستان کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے لی گئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2591 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے