EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

داتا گنج بخش کی نگری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر سید احسان کاظمی کی لاہور کے بارے میں ایک کتاب جو اب آؤٹ آف پرنٹ ہے۔ اس سے لاہور کے بارے میں ایسا بہت کچھ جاننے کو ملتا ہے جو اب وقت کی گرد میں کھو گیا ہے۔ یہ کتاب ہم سب پر قسط وار پیش کی جا رہی ہے۔

پیش لفظ

اس کتاب میں لاہور شہر کی تاریخ، جغرافیہ، درسگاہوں، عمارات، تنصیبات، شاہراہوں، دینی، ادبی، سیاسی، معاشرتی، سماجی وغیرہ وغیرہ سرگرمیوں کے متعلق پاکستان کے معرض وجود سے پہلے اور بعد زمانہ حال تک کچھ کچھ بیان کیا ہے۔ یہ ایک لاہور شہر کی pot pouri ہے۔

لاہور ایک بڑا شہر ہے۔

اس کے مغرب کے ایک کونے میں حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کا مقدس مزار اور ان کے تعمیر کردہ مسجد ہے۔ اس کے شمال، جنوب اور مغرب میں اس کی قربت، اردگرد کچھ محلہ جات، درس گاہیں، اور تاریخی اہمیت کی حامل سڑک، ایک خوبصورت تاریخی، سیاسی اور سماجی اہمیت کی حامل عمارت موجود ہیں۔ ان محلہ جات میں مختلف شعبہ جات کے متعلق کئی قد آور، مشہور و معرف اور غیر معروف لیکن قابل ذکر اور تعریف شخصیات رہا لٔش پذیر رہیں یا اس چھوٹے سے علاقہ میں اپنی وقتا فوقتاً آمد، موجودگی اور تقاریر نے ہندوستان کی آزادی اور پاکستان کے معرض وجود میں آنے کیا ایک نئی تاریخ رقم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوئے۔ ان شخصیات کا ایک مختصر خاکہ، وجہ شہرت کا تھوڑا سا ذکر کیا ہے۔ یہ کتاب کا اول حصہ ہے۔

لاہور ایک بہت بڑا شہر ہے۔

اس کے حدود میں وقت کے ساتھ ساتھ ماضی سے حال تک مسلسل اور متواتر اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پھیلاؤ کی وجہ سے پچھلی صدی کے کئی قابل ذکر گاؤں نہ صرف اپنا نام بلکہ شناخت بھی کھو چکے ہیں۔ شہر کی حدود میں مسلسل اضافے سے میرے دیکھتے لا تعداد ذیلی ٹاؤن، ٹاؤن شپ، آبادیاں، بستیاں، کالونیز، سوسائٹیاں وغیرہ اس اضافہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس اضافے نے شہر کو جدید طرز تعمیر کی عمارات کے ساتھ نئے نئے انداز ہور تقاضوں نے ایک دلکش خوبصورت اور باوقار رخ دیا ہے۔

لیکن کیا کہتے ہیں۔ لاہور ہے۔ پرانے شہر لاہور کا جمال، شان، تاریخ عمارات، تنصیبات، اس کے تیرہ دروازے او ر اندرون شہر کی سج دھج اب بھی روشن ہے۔ کتاب کے حصہ دوم میں اس کا کچھ کچھ ذکر ہے۔ لاہور کو داتا کی نگری کہا جاتا ہے۔ میں داتا کے لفظ کے بعد حضرت علی ہجویری کے لقب ”گنج بخش“ کا اضافہ کرنے کی جسارت کر رہا ہوں اور اسے داتا گنج بخش کی نگری لکھ رہا ہوں۔ کیونکہ داتا تو صرف رب السموٰت ولارض ہی ہے۔

میں نے اپنی حیات کا بچپن سے لڑکپن، آغاز جوانی، جوانی، اعتدال، آغاز بڑھاپہ اور بڑھاپہ کا بیشتر حصہ اسی شہر میں گزارہ ہے اور گزار رہا ہوں۔ اس کتاب میں جو کچھ تحریر کیا ہے۔ لکھا ہے وہ میری اپنی یادداشتوں اور آوارہ گردیوں کا نچوڑ ہے۔ گو کچھ تھوڑی سی تحقیق بھی اس میں شامل ہے۔ امید ہے۔ خیال ہے(خام نہیں ) آپ اس کو پسند فرمائیں گے۔ اگر نہیں تو۔ ۔ ۔ ۔

سید احسان کاظمی

اس سیریز کے دیگر حصےداتا گنج بخش کی نگری – ابتدائیہ
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید احسان کاظمی

سید احسان کاظمی سنہ 1935 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ لاہور میں ہی تعلیم پائی۔ ان کی خاص دلچسپی تاریخ و ادب میں ہے۔ انہوں نے تقسیم سے پہلے اور بعد میں لاہور کو جس طرح بنتے بگڑتے دیکھا، اور یہاں کے ادیبوں اور مشاہیر سے جو تعلق رہا، اسے انہوں نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔

syed-ahsan-kazmi has 3 posts and counting.See all posts by syed-ahsan-kazmi

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے