پاکستان کو افغانستان کے شر سے بچانے والی جادو کی چھڑی

نہ جانے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے پاس ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہے کہ انہوں نے اہل پاکستان کو یقین دلایا ہے کہ انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ افغانستان میں جو بھی حالات ہوں حکومت، پاکستان کو ان سے محفوظ رکھے گی۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں فرمایا ہے کہ ’ افغانستان میں بدلتی صورتحال پر گہری نظر ہے۔ پوری کوشش ہے کابل میں پر امن اور سب کی رائے پر مبنی نظام حکومت کے ذریعے آگے بڑھا جائے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو بھی پاکستان کے اندر اس کے اثرات نہیں آنے دیں گے۔ ہماری افغان پالیسی پاکستان کے مفاد پر ہے‘۔

کسی نے موجودہ حکومت پر یہ الزام عائد نہیں کیا کہ اس کی پالیسی پاکستان کے مفاد پر استوار نہیں ہے یا موجودہ قیادت پاکستان کا بھلا نہیں چاہتی تاہم اس بارے میں شدید شبہات اور اندیشے پائے جاتے ہیں کہ وزیر اعظم سمیت حکومت کے بیشتر نمائیندے جو باتیں کرتے ہیں اور جس طرح ہر سرکاری عہدیدار قومی سلامتی اور خارجہ امور جیسے نازک معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے یقین دہانیاں کرواتا ہے، ان سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جیسے ملکی معیشت کو نعروں کے ذریعے ترقی یافتہ ملکوں کے معیار پر لے جانا چاہتی ہے ، اب پاکستان کی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان کا معاملہ پیچیدہ اور گمبھیر ہے۔ پوری دنیا کی نگاہیں اس وقت افغانستان کے مختلف گروہوں اور خاص طور سے طالبان اور اشرف غنی کی حکومت کے درمیان تعلقات کی نوعیت پر ٹکی ہوئی ہیں۔ چند ہفتوں میں امریکی افواج مکمل طور سے افغانستان چھوڑ چکی ہوں گی۔

امریکہ چاہتا ہے کہ ان حالات میں افغان حکومت ملکی سیکورٹی اور نظام حکومت کے بارے میں کوئی قابل عمل اور قابل قبول حل تلاش کرے۔  زمین پر طالبان کی عسکری سرگرمیوں اور ایک کے بعد دوسرا علاقہ فتح کرنے کی اطلاع کے بعد یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ طالبان تمام تر وعدوں اور دعوؤں کے باوجود طاقت کے زور پر کابل پر قبضہ کر کے اپنی حکومت کا اعلان کر سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کو یہی پریشانی لاحق ہے۔ تاہم اس صورت حال سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوگا۔ لیکن پاکستان کے لیڈر اس حوالے سے کوئی واضح اور شفاف پالیسی سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہو رہے۔

اب یہی دیکھ لیا جائے کہ چند روز پہلےسینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کو بریف کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے افغانستان میں صورت حال بگڑنے کا شدید اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں خانہ جنگی کی کوئی نئی شکل سامنے آنے کے بعد اس پریشانی کا اظہار کیا تھا کہ افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد پاکستان کا رخ کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مزید پناہ گزینوں کو قبول نہیں کرسکتا۔ بلکہ پاکستان تو پہلے سے ملک میں موجود تیس لاکھ پناہ گزینوں کی افغانستان واپسی کا خواہشمند ہے۔ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے ان دونوں نمائیندوں کی گفتگو پریشان کن تھی۔ ان کی باتوں سے واضح تھا کہ افغانستان میں انتقال اقتدار کا کوئی فوری اور مناسب معاہدہ سامنے نہ آیا تو پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم سے لے کر پاک فوج کے ترجمان تک یہ اعتراف کرتے ہیں کہ افغانستان میں بگڑتے ہوئے حالات کے براہ راست اثرات پاکستان پر پڑیں گے۔ اب وزیر اطلاعات یقین دلا رہے ہیں کہ افغانستان میں جیسے بھی حالات ہوں، پاکستان کو ان سے محفوظ رکھا جائے گا۔

افغانستان کے سوال پر ٹوئٹ پر قوم کو تشفی دیتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’ وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ امن میں حصہ دار ہوں گے لیکن جنگ میں نہیں۔ پاکستان کی زمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی اور امید ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ سیاسی پارلیمانی قیادت عدم مداخلت کے اصول پر متفق ہے‘۔ اس بیان میں کہی گئی سب باتوں پر کسی نہ کسی سطح پر اختلاف موجود ہے۔ لیکن سب سے پہلے تو کسی بھی حکومت سے یہ پوچھا جائے گا کہ قومی سیکورٹی اور خارجہ امور سے متعلق اہم ترین معاملات پر وزیر اطلاعات کو ٹوئٹ بیان جاری کرنے اور قوم کو یقین دہانی کروانے کی اچانک ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ کیا متعلقہ وزیر اور ادارے اس حوالے سے بیان دینے اور سرکاری پالیسی و طریقہ کار کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے کہ فواد چوہدری کو بیچ میں کودنا پڑا۔ یا انہوں نے ایسی کوئی جادو کی چھڑی دریافت کرلی ہے جسے گھماتے ہی پاکستان کو کم از کم افغانستان کی طرف سے پیش آنے والے ہر خطرہ سے محفوظ کرلیا جائے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب تمام متعلقہ اور غیر متعلقہ وزیر کسی معاملہ پر کسی واضح رہنما اصول کے بغیر بیان بازی کر رہے ہوں تو قوم کو مطمئن ہونے کی بجائے پریشان ہی ہونا چاہئے۔ کیوں کہ اس کا ایک ہی مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت اس معاملہ کی اہمیت کو سمجھنے اور معاملات کی سنگینی کا ادراک کرنے سے قاصر ہے۔ اسی لئے بیان بازی سے کام نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

فواد چوہدری نے وزیر اعظم کے جس دعوے کی طرف اشارہ کیاہے کہ ’ہم امن کے شراکت دار ہیں ، جنگ میں حصہ دار نہیں بنیں گے‘ اس کا تعلق افغانستان میں برسرپیکار گروہوں سے نہیں بلکہ یہ بیان امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے دیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی میں افغانستان کے سوال پر ماضی میں اختیا رکی گئی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے درحقیقت ماضی کی پاکستانی حکومتوں ہی کا احتساب کیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ماضی میں غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو دہشت گردی اور تخریب کاری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب ہم کسی جنگ کے حصہ دار نہیں بنیں گے۔ یہ بیان سہانا ہونے کے باوجود پاکستان کو سرحد پر موجود مسئلہ سے نجات دلانے کا سبب نہیں بن سکتا۔ امریکہ نے پاکستان کو کسی نئی جنگ میں حصہ داری کی دعوت نہیں دی ہے بلکہ افغانستان میں امن کے لئے وہ پاکستان کو اہم ’فریق ‘ سمجھتا ہے۔ پاکستان اس ذمہ داری سے یہ کہتے ہوئے گریز کرنا چاہتا ہے کہ ’ہم امن کے سہولت کار تھے ، اس کے ضامن نہیں ہیں‘۔

جیسے پاکستان کابل حکومت کو طالبان کے ساتھ معاملات کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے بالکل ویسے ہی افغانستان کی حکومت بھی پاکستان پر یہ الزام عائد کرتی ہے کہ وہ افغانستان میں بامقصد مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ پاکستان پر طالبان کی سرپرستی کرنے اور پاکستان میں طالبان لیڈروں اور ان کے اہل خاندان کو پناہ دے کر افغان حکومت اور امن کے لئے مسائل پیدا کرنے کے الزام بھی کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ ان الزامات کو بے بنیاد کہا جاسکتا ہے لیکن ان دعوؤں کی موجودگی میں فواد چوہدری کا یہ بیان کسی حجت کے بغیر قبول نہیں کیا جاسکتا کہ ’پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہوتی، اس لئے امید ہے کہ افغانستان کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی‘۔

صرف کہہ دینے سے اگر زمینی حقائق اور معاملات کی تفہیم کو تبدیل کیا جاسکتا تو دنیا میں کوئی بڑا اختلاف رائے پیدا نہ ہوتا۔ پاکستان چاہے یا نہ چاہے، اگر افغانستان کے حالات خراب ہوتے ہیں، ان کا الزام بھی پاکستان پر عائد ہوگا اور ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا بھی پاکستان ہی ہوگا۔ حکومت کے لئے بیان بازی سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ اہل پاکستان کو واضح طور سے یہ بتائے کہ وہ افغان بحران حل کرنے کے لئے کیا ٹھوس اقدامات کررہی ہے۔ اور اگر خدا نخواستہ اس میں کامیابی نہیں ہوتی تو پناہ گزینوں سمیت ملک میں تخریب کاری کی روک تھام کے لئے کیا ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔

فواد چوہدری کی یہ بات بھی غلط ہے کہ افغانستان کے سوال پر پوری قوم کا ایک ہی بیانیہ ہے۔ بدقسمتی سے حکومت تو کسی بھی معاملہ پر ایک بیانیہ تشکیل دینے کے لئے اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کرنے اور کسی متفقہ نتیجہ پر پہنچنے کے لئے آمادہ ہی نہیں ہے۔ فوجی قیادت نے ضرور یکم جولائی کو اس معاملہ پر پارلیمانی لیڈروں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی تھی لیکن وزیر اعظم نے اس بریفنگ سے غیر حاضر رہ کر قومی یک جہتی کے بنیادی تصور کو پاش پاش کیا تھا۔ بعد میں اس کی جو بھی وضاحت کی جائے لیکن ایسے اقدام سے پڑنے والی دراڑوں کو پاٹنا آسان نہیں ہوتا۔ اس دوران وزیر اعظم عمران خان متعد بیانات میں ملک کے پارلیمانی نظام پر انگشت نمائی کرنے کے علاوہ اٹھارویں ترمیم کے نقصانات کی تفصیل بتا چکے ہیں۔ کیا ایسے ہی بیانات سے کسی جمہوری ملک میں ایک منتخب حکومت اپوزیشن کے ساتھ اعتماد کا ماحول پیدا کرتی ہے؟

آج ہی افغانستان کے سوال پر زوردار ٹوئٹ کرنے سے پہلے فواد چوہدری نے وزیرتوانائی حماد اظہر اور مشیر احتساب مرزا شہزاد اکبر کے ساتھ مل کر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا تھا۔ تینوں حکومتی نمائیندوں نے اس موقع پر اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہیں بھگوڑے سے لے کر چور تک قرار دیا گیا۔ نہ جانے ٹوئٹ پیغام میں وزیر اطلاعات کس قومی یک جہتی اور اتفاق رائے کی بات کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words