ظاہر شاہ کی خواب گاہ سے افغانستان کی ایک جھلک

‘الفاظ و معانی کی درست تفہیم، لہجے کی نشست و برخواست پر غور اور دوران گفتگو چہرے مہرے کے تاثرات پر گہری نگاہ، سفارتی سرگرمی کو اس کے بغیر سمجھنا ممکن ہی نہیں’ ۔ ڈاکٹر اشرف غنی اپنے منصب کا حلف اٹھا چکے تو کچھ دیر آرام کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان کی پہلی ملاقات صدر مملکت ممنون حسین صاحب سے تھی۔ ممنون صاحب کے قیام کے لیے ظاہر شاہ کا محل مختص کیا گیا تھا۔ یہ عمارت اطالوی فن تعمیر کا شاہکار ہے جس کے صدر دروازے سے داخل ہوں تو نگاہیں ٹھندی ہو جاتی ہیں کیوں کہ یہاںزائر کی ملاقات ایک تالاب سے ہوتی ہے جس میں سفید بطخیں اور راج ہنس آنکھ مچولی کھیلتے ہیں۔ اصل میں تالاب سے پالا بعد میں پڑتا ہے، اس سے پہلے پائیں باغ نگاہیں خیرہ کرتا ہے۔ باغ میں رنگ رنگ کے پودے منظر میں رنگینی بھر تے ہیں تو ہوا میں تیرتے پرندوں کا چہچہا کانوں میں رس گھولتا ہے۔ رہ گئے اس گلشن میں کھلے گلاب کے پھول تو وہ اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ہاتھ میں نہیں سماتے اور خوشبو دار اتنے کہ واپس پلٹنے والے کو دیر تک بلاتے ہیں۔

کہانیاں اور داستانیں کہنے والوں نے کہہ رکھا ہے کہ بادشاہوں کے محلات کی سیڑھیاں اور راہداریاں بہت پیچیدہ، بڑی پیچدار اور پراسرار ہوتی ہیں۔ تالاب سے پہلی منزل تک پہنچتے ہوئے ہم اس سب سے بقائمی ہوش و ہواس گزرے اور دیکھا کہ بادشاہوں کے ذہن کی پیچیدگی اِن کے گرد پیش پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے۔محل کا یہ مختصر سا حصہ ایک راہ داری پر مشتمل تھا جس کے اختتام پر بائیں جانب دیوان خانہ تھا، ڈرائنگ روم سمجھ لیجئے۔ صدر صاحب کچھ دیر کے لیے اس میں فروکش ہوئے، اس دوران میں اس ملک کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے اپنے وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات بھی خوب تھی۔ کسے یاد نہیں ہو گا کہ عبداللہ عبداللہ کسی زمانے میں شمالی اتحاد کے وزیر خارجہ ہوا کرتے تھے اور پاکستان کے خلاف جو جی میں آتا، کہا کرتے تھے۔ ‘ یہ شخص جس نے پاکستان کے بارے میں ہمیشہ تلخ نوائی کی، آج جب یہ اپنی حکومت کی سربراہی کے منصب پر فائز ہو کر پاکستانی قیادت کاسامنا کرے گا تو اس کے جسم و جاں کیا منظر پیش کریں گے؟’۔ میں نے سوچا۔

عبداللہ عبداللہ خوش رو اور متحرک شخصیت ہیں، انھیں دیکھ کر لگا جیسے اس شخص کے جسم میں بجلیاں بھری ہیں ۔چہرے پر کابل کے سیبوں کا گمان گزرتا ہے جن کی سرخی اور سپیدی ان کے ذائقے کا پتہ دیتی ہے، ‘پھر کیوں اس شخص غصے میں اتنا بھرا رہتا تھا؟’۔ میں نے اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوال کی شدت پر سامنے کے منظر کو ترجیح دی اور سفید داڑھی والے اس’ جواں سال’ لیڈر کی نقل و حرکت پر آنکھیں اور ساز و آواز پر کان لگا دیے۔ چہرے پر مسکراہٹ سجائے معزز مہمان سے ملنے کے لیے آنے والے اس شخص کو چہرے پرمسکراہٹ سجائے رکھنے کے لیے بڑی کوشش کرنی پڑی جس پر میں نے اس شخص کو دل ہی دل میں داد دی۔ میرے کانوں نے وہ سب سنا جو مسکراہٹ سے کھلے ہوئے ان ہونٹوں سے جھڑرہا تھا: ‘ جناب صدر! ماضی بیت گیا، اب ہم پاکستان کے ساتھ نئے آغاز کے لیے یکسو اور سنجیدہ ہیں’۔ عبداللہ عبداللہ مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے رخصت ہو گئے تو صدر ممنون حسین کچھ دیر آرام کے لئے اپنے کمرے میں منتقل ہو گئے۔ صدر اشرف غنی سے ملاقات میں ابھی کچھ دیر تھی، اس دوران میں نے دائیں بائیں نگاہ دوڑائی۔ دیواریں روغنی تصویروں سے مزین تھیں جن میں قدیم جنگجو سردار تلوار کے جوہر دکھاتے تھے اور ماضی کے شعرا زلف و کاکل کے پیچ و خم میں الجھے دکھائی دیتے تھے۔ دیکھ کر اچھا لگا کہ جنگ و جدل اور خونریزی کی کم و بیش نصف صدی گزرنے کے باوجود اس دیس کے کاخ کُو ابھی تک اپنے پرکھوں کو یاد کرتے ہیں لیکن یہ خوشی لمحاتی ثابت ہوئی جب میری نگاہ نشستوں کی دائیں قطار کے آخر میں پڑے کوڑے دان پر پڑی۔ یہ حنوط کیا گیا ہاتھی کا پاؤں تھا جسے اندر سے خالی کر کے ڈسٹ بن بنا دیا گیا تھا۔ یہ دیکھ کر میں نے اشیائے آرائش بنانے والے کی خلاقی کی داد دی لیکن یہ بھی سوچا کہ وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جو تھوڑی سی دولت کی خاطر بے رحمی کے ساتھ کسی جاندار کے جسم کا کوئی عضو کاٹ دیتے ہیں یا اس کی جان ہی لے لیتے ہیں؟ یہ سوچ کر میں افسردہ ہوا اور کمرے سے باہر نکل آیا جہاں ایک لمبا تڑنگا محافظ روسی فوجیوں جیسی اونچی پی کیپ سر پر سجائے سیڑھیوں کے کنارے آلکسی کے ساتھ کھڑا تھا، سوچتا ہوگاکہ مہمان رخصت ہوں تو وہ بھی سکون کا سانس لے۔

میزبان ممالک غیر ملکی مہمانوں کی کڑی حفاظت کیا کرتے ہیں اور وفد کے اراکین کو بھی نگاہ میں رکھتے ہیں لیکن دکھائی کبھی نہیں دیتے اور قیام گاہ پر یونیفارم میںتو کبھی بھی نہیں لیکن افغانستان کی بات دوسری ہے، اس دیس کے باسی سکون کا سانس لیں تو ایسی باتوں پر توجہ دیں۔ جانے کیا سبب رہا ہو گا کہ مجھے دیکھ کر یہ سنتری واپس پلٹ کر سیڑھیاں اترنے لگااور میں نے مسکرا کر واپسی کی راہ لی۔ سامنے ایک خواب گاہ تھی۔ معلوم ہوا کہ ظاہر شاہ جب سریرآرائے سلطنت تھے، اس میں استراحت فرمایا کرتے تھے۔ میں نے کواڑوں پر ذرا سا زورڈالا تو دروازہ کھل گیا۔ کمرہ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ دائیں جانب ایک بڑی مرصع مسہری تھی جس پر کندہ پر تکلف نقش ونگار افغان نقاشی و فن کاری کی جھلک دکھاتے تھے۔ مسہری کے عین سامنے دیوار پر ایک پینٹنگ شکار کا منظر پیش کرتی تھی جب کہ بائیں جانب دیوار کے اندر ایک الماری کے پٹ تھے جنھیں کھولا ، الماری کتابوں سے بھری ہوئی تھی۔ کتابیں اپنی ترتیب اور سلیقے سے اچھی لگتی ہیں لیکن اوپر نیچے یہ کتابیں یوں ٹھسی ہوئی تھیں گویا نگاہوں سے اوجھل کرنے کے لیے کسی نے بے دلی سے انھیں یہاں ٹھونس دیا ہو۔ خطرہ تھا کہ کسی ایک کتاب کوبھی چھیڑا تو کہیں یہ ساری کتابیں ہی دھڑ دھڑ کرتی نیچے نہ آ گریں لیکن باوجود اس خطرے کے ایک ایک کر کے میں نے بہت سی کتابیں دیکھ ڈالیں۔ کم و بیش تمام کتابیں ہی انگریزی یا کسی دوسری مغربی زبان میں تھیں۔ پشتو، فارسی، دری یا کسی دیگر مشرقی زبان میں کوئی ایک کتاب بھی دکھائی نہ دے سکی۔ پاک و ہند جیسے معاشروں کوجو کم و بیش دو صدی تک انگریزی سامراج کے دست جبر تلے کراہتے رہے ہیں، ان کے ہاں اگر مغرب سے ایسی مرعوبیت پائی جائے تو اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے لیکن افغان معاشرہ جس کی انا اور آزاد روی کے قصے معروف ہیں، اس کے شاہی محل کا یہ منظر دیکھ کر سمجھ میں آ گیا کہ اس دیس کے دکھوں کا اصل سبب بھی دانش فرنگ سے مرعوبیت اور مقامی دانش سے بے اعتنائی ہی رہی ہو گی۔

بات بہت دور جا نکلی۔ کچھ دیر کے بعد ہم سب اس محل سے باہر تھے اور گھنے ٹھنڈے سایہ دار درختوں تلے پختہ پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے صدارتی محل کی طرف گامزن تھے۔ گارڈ آف آنر کے بعد صدر مملکت ممنون حسین اور اشرف غنی مرکزی دروازے سے مارگ میں داخل ہوئے اور ہم سب بغلی درازے کی طرف بڑھے جو وزرا اور دیگر اعلی حکام کے لیے مخصوص تھا۔ سفید چمچماتے ہوئے سنگ مرمر کی سیڑھیوں کا ٹوٹا ہوا ایک قدمچہ شاید اُن دنوں کی یاد دلاتا تھا جب جنگجو گوریلوں نے ان محلات میں داخل ہو کر اور اچھل اچھل کر فوٹو گرافروں کو پوز دیے تھے۔ میں نے ٹوٹی ہوئی یہ سیڑھی پھلانگی اور جناب سہیل محمود سے دریافت کیا کہ یہ جو ملاقات ابھی ہونے جا رہی ہے یا اس سطح کی ملاقاتیں اور مذاکرات ہوتے ہیں، انھیں سمجھنے کا گُر کیا ہے؟ سہیل صاحب جو اُن دنوں وزارت خارجہ میں افغانستان ڈیسک کے سربراہ ہوا کرتے تھے، وقار سے چلتے ہوئے چند نکات میرے گوش گزار کیے جن کے مفہوم سے میں نے ان سطور کا آغاز کیا ہے۔ آج اتنے برس کے بعد جب اشرف غنی کی حکومت کا چل چلاؤ ہے، میں وہ باتیں یاد کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ واقعات عالم کو سمجھنے اور حکمرانوں کو جانچنے کی کیسی بہترین علامات سہیل محمود صاحب نے مجھے بتائی تھیں۔ اشرف غنی سے اس دن کے بعد کئی بار ملنے اور انھیں دیکھنے کے مواقع ملے، ہر بار میں اسی نتیجے پر پہنچا کہ سادہ دال روٹی سے پیٹ بھرنے والا یہ شخص لہجہ اور آنکھیں بدلنے کی ایسی صلاحیت رکھتا ہے جس کی نظیر شاید ہی کہیں ملے۔

گزشتہ دنوں بدلتے ہوئے افغانستان سے ایک آواز ایسی اٹھی جس میں ہتھیار نہ ڈالنے اور تادیر مزاحمت کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ بیان سنا تو سمجھ میں آیاکہ روح سے محروم الفاظ کیسے ہوتے ہیں؟ شکریہ سہیل صاحب، دنیا کو سمجھنے کا جو طریقہ میں نے آپ سے سیکھا، وہ ا ب بھی میرے کام آ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں کی بات ہے، میرا ایک نوجوان عزیز اپنی تعلیمی اسناد کی تصدیق کے لیے دفتر خارجہ پہنچا۔ ضابطے کی کارروائی کے بعد اسے بتایا گیا کہ تمھارا کام ہو گیا ہے، گھر جا کر اس نے تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ کاغذات پر مہریں تو ثبت کر دی گئی ہیں لیکن انھیں اسکین کر کے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایاگیا۔ معلوم ہوا کہ ان نوجوانوں کے ساتھ ہمیشہ یہی ہوتا ہے، یہ ضرورت مندجب دوبارہ وہاں پہنچتے ہیں تو چالاک ایجنٹ ان سے کچھ نہ کچھ بٹور کر اپنا الو سیدھا کر لیتے ہیں۔ یہ کہانی میرے علم میں آئی تو خیال ہوا کہ یہ عیاشی اسی وقت تک ہے جب تک سیکریٹری خارجہ یعنی سہیل صاحب کے علم میں نہیں آتی، انھیں پتہ چلا تو یہ سارا ریکٹ ختم ہو جائے گا، بس، یہی کچھ سوچتے ہوئے افغانستان کے دورے کی یاد آئی نیز سفارت کاری کو سمجھنے کا وہ ہنر، سہیل کی مہربانی سے جس کی باریکیاں میری سمجھ میں آ سکی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words