EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کم سنی میں تبدیلی مذہب: کیا مسلمان بچوں کو بھی یہ حق دیا جائے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے اقلیتی حقوق پر سینیٹ کمیٹی کو مطلع کیا ہے کہ حکومت 18 سے کم عمر بچوں کے تبدیلی مذہب کی روک تھام کا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہتی۔ ان کے خیال میں ایسی پابندی اسلام کی روح کے خلاف ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی ایک علیحدہ معاملہ ہے جسے اب اسلامی نظریاتی کونسل سے مشورہ کے لئے بھیجا گیا ہے۔

کم عمر بچوں کےتبدیلی مذہب کا معاملہ حال ہی میں سندھ اور بلوچستان سے ایسی اطلاعات سامنے آنے کے بعد موضوع بحث بنا تھا کہ وہاں پر بعض مذہبی لیڈر ہندو بچوں کو تبدیلی مذہب پر مجبور کرتے ہیں۔ سینیٹر دنیش کمار نے سینیٹ کمیٹی کو مطلع کیا کہ بلوچستان میں اقلیتی عقیدہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تبدیلی مذہب پر مجبور کرنے کی ایک نئی روایت استوار کی جارہی ہے۔ دال بندین کے علاقے میں ایک مذہبی لیڈر صفائی کا کام کرنے والے اہلکاروں کو یہ بتاتا ہے کہ اگر وہ مسلمان ہوجائیں تو انہیں صفائی کا کام نہیں کرنا پڑے گا۔

اقلیتی حقوق کے بارے میں سینیٹ کمیٹی قبل ازیں یہ سفارش کرچکی ہے کہ تبدیلی مذہب کا حق صرف بالغ لوگوں کو حاصل ہونا چاہئے۔ بچوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی حوصلہ شکنی کے لئے اس طریقہ کار پر پابندی لگائی جائے۔ تاہم وزیر مذہبی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت ایسی پابندی کی حمایت نہیں کرتی۔ اگر کوئی 14 سال کا بچہ مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے روکا نہیں جاسکتا۔ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ کوئی شخص اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے ہی اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اسلام میں بلوغت سے پہلے تبدیلی مذہب کی بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ تبدیلی مذہب کے لئے کوئی قید نہیں ہونی چاہئے۔ کیوں کہ اگر کوئی شخص بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ ان کا دعویٰ تھا کہ اٹھارہ سال سے پہلے نکاح کا معاملہ بالکل مختلف معاملہ ہے جس پر اب اسلامی نظریاتی کونسل غور کررہی ہے۔ واضح رہے اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک سابق سربراہ کم عمر بچیوں کی شادی کو اسلامی طریقہ قرار دیتے رہے ہیں۔

سندھ میں جبری طور سے اقلیتی بچوں کو مسلمان بنانے کی مہم کے بارے میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پیر آف برچوندی شریف میاں مٹھو پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے۔ ’انہیں کمیٹی میں بلا کر بات کرنی چاہئے ۔ اور انہیں بتایا جائے کہ ان کے اس طرز عمل سے اسلام اور پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے‘۔

 وفاقی وزیر کا یہ مشورہ انسانی حقوق کی بنیادی تشریح و تفہیم سے متصادم ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف مسلمہ انسانی حقوق، عالمی کنونشنز اور اصولوں سے برعکس ہے بلکہ ملکی آئین کی بھی خلاف ورزی ہے جو ہر شخص کو اپنا عقیدہ قائم رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص صرف بچوں ہی کو نہیں بلکہ بالغ غیر مسلموں کو بھی کسی دباؤ یا لالچ سے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرتا ہے یا ایسا ماحول پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے کہ کسی بھی اقلیتی عقیدہ سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنا مذہب بدلنے اور اکثریت کا مذہب اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں تو وہ ملکی آئین اور قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے۔ لیکن وفاقی حکومت کا وزیر جو خود بھی مذہبی لیڈر ہے ، سینیٹ کمیٹی کو یہ بتا رہاہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بجائے انہیں سمجھانے بجھانے کی ضرورت ہے۔ یہ طریقہ ملک میں قانون شکنی عام کرنے اور اقلیتوں کے لئے حالات سنگین بنانے کا سبب ہوگا۔ کسی بھی حکومت کا تعلق خواہ کسی بھی عقیدہ یا مسلک سے ہو لیکن اس کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک میں آباد سب شہریوں کی زندگی، عقیدے اور بہبود کی ضامن ہو۔ پیر نور الحق قادری کے سینیٹ میں بیان کی روشنی میں اس صورت حال کو پرکھا جائے تو حکومت ملک کی اقلیتوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے صریحاً گریز کرنے کا اشارہ دے رہی ہے ۔ یہ مؤقف وزیر اعظم عمران خان کے بیانات اور وعدوں سے بھی متصادم ہے۔

پیر نور الحق قادری کا سینیٹ کمیٹی کے سامنے مؤقف ایک فرد کا بیان نہیں ہے بلکہ ایک حکومتی نمائندے کی رائے ہے ۔ اس لئے اس بیان کو ملکی اقلیتوں کے بنیادی شہری حقوق پر براہ راست حملہ تصور کیا جائے گا۔ خاص طور سے جب وفاقی وزیر مذہبی امور کو نہ صرف یہ کہ کم عمر بچوں کے تبدیلی مذہب پر کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہ اسے انسانی حق اور عین اسلامی طریقہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے وہ دراصل جدید جمہوری ریاست میں عقیدہ کی ضرورت اور اسے اختیار یا مسترد کرنے کے بنیادی تصور سے ناشناسائی کا اظہار بھی کررہے ہیں۔ ایک حکومتی ترجمان کی طرف سے ایسی گمراہ کن باتیں کسی دور دراز علاقے میں بعض لوگوں کو تبدیلی مذہب پر مجبور کرنے والے کسی اکا دکا شخص کے مقابلے میں ملک اور اسلام کی شہرت کے لئے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ اس بیان کو درحقیقت اس طرح سمجھا جائے گا کہ حکومت معاشرےکی کمزور اور شدید سماجی دباؤ کا سامنا کرنے والی مذہبی اقلیتوں کی حفاظت کاعزم کرنے کی بجائے ، کسی حد تک اس طریقہ کو قبول کرنے کا اعلان کررہی ہے۔ وفاقی وزیر جبری تبدیلی مذہب کو سنگین مسئلہ سمجھنے کی بجائے اسے کم سن بچوں کا ’حق‘ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا تجویز کردہ حل بھی اتنی ہی بڑی لاعلمی کا مظہر ہے جس کا مظاہرہ وہ بچوں کے تبدیلی مذہب کو جائز قرار دے کر کررہے ہیں۔

یہاں یہ بات کہنے اور نمایاں کرنے کی ضرورت ہے کہ وزیر موصوف کا یہ مؤقف اقلیتی عقیدہ یعنی ہندوؤں یا عیسائیوں وغیرہ کو ذبردستی مسلمان کرنے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ پیر نور الحق قادری اگرچہ یہ کہتے ہیں اگر کوئی بچہ 18 سال سے پہلے مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسلام اسے یہ حق دیتا ہے۔ لیکن وہ یہ ’حق‘ صرف اقلیتی عقیدہ کے لوگوں کو دینا چاہتے ہیں ، مسلمان بچوں کو یہ حق تفویض کرنے کی بات نہیں کررہے۔ پاکستان میں جو سماجی و مذہبی تصور نافذ ہے اس میں کوئی مسلمان بچہ تو کیا کوئی بالغ بھی مذہب تبدیل کرنے کا تصور نہیں کرسکتا۔ جس حکومت میں پیر نور الحق قادری جیسا شخص مذہبی امور کی وزارت کا ذمہ دار ہوگا ، اس میں حکومت کی طرف سے حفاظت فراہم ہونے سے پہلے ہی کسی مسلمان کے تبدیلی مذہب کا قصد کرتے ہی ، عام شہری یا خدائی فوجدار اس کا سر قلم کرنے پہنچ جائیں گے ۔ پھر کوئی عدالت یہ کہتے ہوئے ایسے مجرموں کو باعزت بری کردے گی کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کیا تھا۔

پیر نورالحق قادری کم سنی میں تبدیلی مذہب کے لئے استدلال کرتے ہوئے اگر خاص طور سے یہ صراحت بھی کرتے کہ وہ صرف اقلیتی عقیدہ کے بچوں کے حق کی بات نہیں کررہے بلکہ اگر کوئی کمسن مسلمان بھی کسی جبر کے بغیر اسلام ترک کرنا چاہتا ہے تو حکومت اس کے اس حق کی حفاظت کرے گی، پھر بھی ان کی باتوں میں توازن تلاش کرنے کی کوشش کی جاسکتی تھی۔ لیکن پیر صاحب خود بھی اس بات سے خوب اچھی طرح آگاہ ہوں گے کہ ایسا کوئی بیان دینے کی صورت میں خود ان کی زندگی نشانے پر ہوتی ۔ حیرت ہے کہ جس معاشرے میں مذہبی جبر کی یہ صورت حال موجود ہے ، اس کاحکومتی نمائندہ کیوں کر اقلیتی عقیدہ کے خلاف ہونے والے اس شرمناک جرم کو تحفظ فراہم کررہا ہے۔ کیا دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان میں اسلام کے سوا کسی عقیدہ کے لوگوں کو امن و سکون سے رہنے کا حق حاصل نہیں ہوسکتا۔ پھر عمران خان کس منہ سے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہندتوا پالیسی کے تحت زور زبردستی کا شکوہ کرتے ہیں یا مغرب میں پائے جانے والے اسلاموفوبیا کے خلاف وکیل بننے کا اعلان کرتے ہیں۔

مغرب کےجن ممالک پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب عام کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے ،وہاں کوئی وزیر تو کیا کوئی سیاسی کارکن بھی اقلیتوں کے خلاف ایسے ظلم کی وکالت کا تصور نہیں کرسکتا۔ انتہائی شدت پسند نظریات کے حامل سیاسی عناصر بھی معاشرے کے ہر فرد کو اپنی مرضی کا عقیدہ اختیا رکرنے کا حق دینے کی بات کریں گے۔ لیکن پاکستانی سینیٹ میں اقلیتوں کی حفاظت کے لئے کام کرنے والی پارلیمانی کمیٹی میں نئے پاکستان اور مدینہ ریاست کا نمائندہ پیر نور الحق قادری اقلیتی بچوں کو زبردستی مسلمان کرنے کے طریقہ کار پر کوئی پریشانی محسوس نہیں کرتا۔ اور اس کے لئے اسلام سے حجت لارہا ہے۔ اسلام کے یہی نمائندے درحقیقت پوری دنیا میں مسلمانوں کی اصل پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ یہ مغرب میں آباد مسلمانوں کو اسلاموفوبیا سے کیا نجات دلوائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1912 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے