پسینہ بن کے بدن سے لہو نکلتا ہے


ہماری حکومتیں بنیادی طور پر آگ بجھانے والے ادارے کا کام کرتی ہیں۔ جب معاملہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو پھر شدید افراتفری میں اس کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی ہے، ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کے دور چلتے ہیں اور سب ایک سے بڑھ کر ایک عوام کے ہمدرد بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اتنی دور اندیشی تو ہے نہیں کہ جب حادثے کے محرکات تشکیل پا رہے ہوں تو ان کا تدارک کیا جائے، اور شروع ہی میں مسئلے کو حادثہ بننے سے روکا جا سکے۔

آج کل اسی طرح کا ایک مسئلہ تیار ہو رہا ہے جو ستمبر اور اکتوبر میں چاول کے بحران کی صورت میں اچانک نمودار ہو گا۔ ستمبر میں یہی احکام بالا یوں حیرت کا اظہار کریں گے کہ گویا انہیں پتہ بھی نہ ہو کہ ہوا کیا ہے۔ بھئی بات یہ ہے کہ وسطی پنجاب، جنوبی پنجاب اور سندھ کے بیشتر علاقے یا تو مکمل طور پر بارانی ہیں یا دھان کی فصل کے لئے ایک بڑی حد تک بارش پر منحصر ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں ٹیوب ویل اور بجلی کی موٹر نے بارش پر انحصار کافی حد تک کم کر دیا ہے جس کی وجہ سے پیداوار اور قابل کاشت زمین میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

اس برس جولائی کا آغاز ہونے کے باوجود پاکستان میں ابھی تک پری مون سون کا سپیل نہیں آیا۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں دھان کی فصل مکمل طور پر زیر زمین پانی پر منحصر ہو گئی ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ ڈیزل 114 روپے لیٹر ہے اور بجلی ہر دس منٹ کے بعد جا رہی ہے۔ نتیجتاً ایک بڑے علاقے میں ابھی تک دھان کی کاشت نہیں ہو سکی۔ اب جو کسان 114 روپے لیٹر ڈیزل پر ٹیوب ویل چلائیں گے، وہ سرکاری نرخ پر چاول کیسے فروخت کریں گے؟ اگر سرکار زبردستی چاول خرید لے گی تو کسان مزید بدحال ہو گا۔

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

یہ تو بات ہوئی ان لوگوں کی جن کے پاس ڈیزل خریدنے اور ٹیوب ویل کا انتظام کرنے کے وسائل موجود ہیں۔ چھوٹے زمینداروں کی اکثریت تو آڑھتی سے ادھار بیچ، کھاد اور کیڑے مار سپرے اٹھا کر فصل لگاتی ہے، ادھار پر ہی ٹریکٹر سے ہل چلواتی ہے۔ ان لوگوں کے پاس ڈیزل اور ٹیوب ویل کے پیسے کہاں سے آئے؟ ان کا واحد آسرا بجلی کی موٹر ہے۔ امید ہے کہ محکمہ زراعت والے یہ بات جانتے ہوں گے کہ بجلی کی موٹر بجلی پر چلتی ہے۔ بجلی کے بغیر کھیت سیراب نہیں ہو سکتے، تو کھیتوں کو اچھا پانی دیے بغیر دھان کاشت نہیں ہو سکتی۔

پچھلے دو برس میں حشرات کش ادویات اور کھادوں کی قیمتوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ سستا ہونے کی وجہ سے ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ یہ سچ ہے کہ پچھلے سال وفاقی حکومت نے یوریا اور ڈی اے پی کی قیمتوں پر 37 ارب کی سبسڈی رکھی تھی۔ اس برس پنجاب حکومت نے ساڑھے سات ارب اس مقصد کے لئے رکھے ہیں۔ یہ ساڑھے سات ارب کا عدد کسان کے اصل مسائل کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہیں۔ کسان کو یہ پتہ ہے کہ سبسڈی کے باوجود یوریا کی فی بوری قیمت سولہ سو روپے سے زیادہ اور ڈی اے پی کی بوری چونتیس سو سے بھی اوپر ہے۔ فصل کی کاشت پر آنے والے اخراجات پر کسان بالکل احتجاج نہ کرتا اگر چاول کی فروخت کے وقت پاسکو مناسب ریٹ پر یہ فصل خود خرید لیتی۔

پچھلے سال کی مثال ہمارے سامنے ہیں۔ پاسکو نے سرکاری نرخ پر خریداری یقینی بنانے کے معاملے پر ایک معنی خیز خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اکتوبر سے لے کر دسمبر تک آڑھتی سپر کرنل دو ہزار روپے من کے حساب سے خریدتے رہے۔ اول تو کسان کے پاس ذخیرہ کرنے کے لئے گودام نہیں تھا، دوسری طرف ضلعی انتظامیہ مسجدوں کے سپیکروں پر اعلان کرواتی پھرتی تھی کہ جس نے فصل فروخت کرنے میں تامل سے کام لیا، اس پر ذخیرہ اندوزی کا پرچہ ہو گا۔ کسان کو فصل ڈیزل پر سیراب کر کے، مہنگی کھاد، بیج اور سپرے خرید کر، آخر میں سرکار نے ڈنڈے کے زور پر آڑھتی کو فصل سستے داموں اٹھوا دی۔ منافع تو بہت دور کا سہانا خواب ہے، پچھلے برس جس کسان کا خرچہ بھی پورا ہو گیا اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور گندم کی کاشت میں جت گیا۔ چار مہینے دوپہر کی لو برداشت کرنے اور اپنے جسم کو جلا کر اناج اگانے کی مناسب قیمت طے کرنا تو دور، سرکار سے تسلی کے دو میٹھے بول بھی ادا نہ ہوئے۔

خطرہ یہ ہے کہ کہیں قابل کاشت زمین وقت پر کاشت نہ ہوئی تو ہر گزرتے دن کے ساتھ فی ایکٹر پیداوار میں کمی آتی جائے گی۔ اب اگر کسان اتنا ہی خرچہ کر کے فی ایکٹر 40 من کی جگہ 30 من فصل اٹھائے گا تو دو ہی راستے ہیں۔ ایک یہ کہ سرکار کم قیمت پر زبردستی خرید لے اور بدلے میں کسان کو غربت بیچ دے۔ دوسرا یہ کہ کسان فصل کو سٹاک کرے گا اور سرکاری نرخ پر نہیں بیچے گا تو مارکیٹ میں چاول کی کمی ہو گی اور برآمدات متاثر ہوں گی۔

یہ بحران اگر ہم لوگوں کو پنپتا ہوا نظر آ رہا ہے تو سرکار ستمبر کا انتظار کیوں کر رہی ہے؟ گھروں اور فیکٹریوں کو دس دن تھوڑا پیچھے کر کے زرعی صارفین کو فوقیت پر بجلی دینی چاہیے کیونکہ خوراک میں خود کفیل ہونے کا یہ ہی ایک مناسب حل ہے۔ زراعت کا شعبہ پاکستان کی پہچان ہے اگر ہمارے کسان بھائی مطمئن ہوں گے تب ہی سارا ملک سکھ چین سے اپنا پیٹ بھر سکے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ ہنگامی بنیادوں پہ کسانوں کے لئے بجلی کے علاوہ باقی سہولیات جیسے سبسیڈیز، چھوٹے کاشتکاروں کو بینکوں سے آسان قرضے، نئی ٹیکنالوجی سے متعلقہ آلات اور ان کے استعمال کے بارے میں جانکاری وغیرہ مہیا کرے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر خوراک کے بحران کو روکا جا سکے اور ان سہولیات کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی پیداوار سے پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافہ ہو سکے۔ لہلہاتا اور سرسبز پاکستان خوشحال کسان کی بدولت ہی ممکن ہے۔

Facebook Comments HS

عابدہ خالق

عابدہ خالق پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل اور قانون دان ہیں۔ آپ خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق اور قانونی تحفظ کے لئے ایک توانا آواز ہیں۔ مختلف لاء کالجز میں تدریس سے بھی وابستہ ہیں۔ ایک ترقی پسند اور منصفانہ معاشرہ کا خواب رکھتی ہیں۔

abida-khaliq has 7 posts and counting.See all posts by abida-khaliq