EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

شکنتلا کون تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنید کے بارے میں کوئی اندازہ لگانا اس کے دوستوں کے لیے بھی مشکل تھا۔ وہ اپنے احساسات اور جذبات بہت سنبھال کر دل کے نہاں خانوں میں رکھتا تھا۔ بہت کم بولتا تھا شاید تولتا زیادہ تھا۔ دوست بھی گنے چنے تھے، وہی جو اس کے دفتر کے ساتھی تھے۔ سکول اور کالج کے دوست تو مدت ہوئی دنیا کی بھیڑ میں گم ہو چکے تھے۔ در اصل جنید خود کسی سے رابطہ رکھنے کا قائل نہیں تھا۔ ایسا شاذ ہی ہوتا تھا کہ وہ کسی کو فون کرے یا کسی سے ملنے جائے۔

اس کے جاننے والے یا دوست کسی کام کے سلسلے میں خود اس سے رابطہ کرتے تو وہ ان سے ملتا اور خندہ پیشانی سے ملتا لیکن کام ختم ہو جانے کے بعد وہ پلٹ کر ان کی خبر تک نہ لیتا۔ شاید یہ کہنا مناسب ہو گا کہ اس کا کوئی دوست نہیں تھا۔ دفتر کے ساتھیوں سے روز ملاقات ہونا تو ملازمت کی وجہ سے تھا۔ چھٹی کے دن دفتر جانا نہیں ہوتا تھا اس لیے کسی سے ملاقات نہیں ہوتی تھی۔

وہ ایک ٹیکسٹائل مل میں بطور اکاؤنٹنٹ کام کرتا تھا۔ صبح آٹھ بجے دفتر جاتا اور شام پانچ بجے ڈیوٹی آف ہونے کے بعد سیدھا گھر آ جاتا۔ شہر کے ایک اچھے علاقے میں سن رائز کے نام سے ایک پندرہ منزلہ عمارت تھی۔ اس عمارت کی پہلی تین منزلیں شاپنگ مال پر مشتمل تھیں۔ جہاں خریداری کے لئے صرف متمول افراد ہی آتے تھے۔ کشادہ سڑکیں اور خوبصورت لوکیشن کی وجہ سے جنید نے اس جگہ کا انتخاب کیا تھا۔ اس عمارت کی گیارہویں منزل پر اس کا فلیٹ تھا۔

اس فلیٹ کے حصول کے لیے اسے اپنے وراثتی گھر کو بیچنا پڑا تھا لیکن اسے اس بات کا کوئی غم نہیں تھا کیوں کہ وہ گھر اندرون شہر میں واقع تھا جہاں کی تنگ گلیاں اور ماحول اسے ذرا بھی پسند نہیں تھا۔ یوں بھی وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا اور والدین بھی اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ چناں چہ اس نے یہ فیصلہ کرنے کے لیے صرف ایک فرد سے مشورہ کیا تھا اور وہ اس کی بیوی تھی۔

نادرہ سے اس کی شادی دس سال قبل ہوئی تھی۔ تب اس کے والدین حیات تھے۔ انہوں نے اس کی ملازمت کے پہلے سال میں ہی اس کی شادی کر دی تھی۔ نادرہ ایک طرح سے جنید کا نسوانی ورژن تھی۔ وہ بھی ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی اور کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتی تھی۔ وہ گھر کے کام کاج اور کھانا بنانے کے بعد بچ جانے والا سارا وقت ٹی وی دیکھنے میں صرف کرتی تھی۔ اب اس کے والدین بھی انتقال کر چکے تھے۔ جنید اور نادرہ ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے مگر ان دونوں نے اس کمی کو سوہان روح نہیں بنایا تھا۔ زندگی پرسکون انداز میں چل رہی تھی۔ دن کے بعد رات آتی اور رات کے بعد دن طلوع ہوتا اور کیلنڈر پر تاریخ بدل جاتی۔ اسی طرح دن، مہینے اور سال گزرتے چلے جاتے۔ پھر جنید کی زندگی میں وہ دن آیا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔

وہ اتوار کا دن تھا۔ صبح ناشتے کے بعد جنید چھٹی کی روٹین کے مطابق اخبار پڑھنے لگا اور نادرہ نے کپڑے دھونے شروع کیے۔ اخبار کی ایک ایک سطر پڑھ لینے کے بعد اس نے ٹی وی پر نیوز چینل لگایا۔ وہی معمول کی خبریں چل رہی تھیں۔ نادرہ کی واشنگ مشین کی آواز بتا رہی تھی کہ وہ ابھی تک کپڑے دھونے میں مصروف ہے۔ جنید کو اچانک محسوس ہوا کہ وہ بوریت کا شکار ہو رہا ہے۔ نیوز کاسٹر کی آواز معدوم ہوتی چلی گئی اور اس کے ذہن میں گزشتہ برسوں کی تصویریں آوازوں کے ساتھ چلنے لگیں۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کی زندگی ایک بلیک اینڈ وائٹ فلم کی طرح ہے جس میں کوئی رنگ نہیں۔ پتا نہیں اس کی سوچوں کا سلسلہ کتنے وقت پر محیط تھا وہ تو اس لمحے چونکا جب نادرہ نے اسے آواز دی۔

”جنید! کہاں کھو گئے؟ کن سوچوں میں گم ہیں؟“

اس نے ہڑبڑا کر نگاہ اٹھائی۔ اس کے سامنے نادرہ بکھرے بالوں اور بھیگے کپڑوں میں کھڑی تھی۔ نادرہ متناسب جسم اور دلکش خد و خال کی حامل تھی۔ شادی کے دس سال بعد بھی اس کی خوب صورتی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔

”تم اس حلیے میں بھی بہت پیاری لگ رہی ہو۔“
نادرہ مسکرا اٹھی۔ اس نے چہرے پر بکھری ہوئی زلفوں کی سر کی ہلکی سی جنبش سے پیچھے ہٹایا اور بولی۔
”خیریت ہے، آج کئی دنوں کے بعد آپ نے مجھ پر توجہ دی ہے۔“
”ہاں ہاں خیریت ہے۔ دراصل میں سوچ رہا تھا کیوں نہ ہم باہر گھومنے چلیں۔“

”گھومنے؟ نہیں نہیں ابھی نہیں۔ ابھی تو مجھے بہت سے کام نمٹانے ہیں۔ شام کو دیکھیں گے۔“ نادرہ نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔

”او کے تم کام نمٹاؤ میں ٹی وی سے دل بہلاتا ہوں۔“ جنید نے اصرار کرنا مناسب نہ سمجھا۔ نادرہ کچن میں چلی گئی اور جنید چینل بدلنے لگا۔

شام کو جنید نے نہا دھو کر نئی پینٹ شرٹ پہنی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا۔ نادرہ شاید دوسرے کمرے میں تھی۔ اس نے نادرہ کو آواز دی تو وہ ہاتھ میں بانس کی لمبی سی چھڑی لیے اندر داخل ہوئی۔ اس کو یوں تیاری میں دیکھ کر چونک اٹھی۔

”اف میں تو بھول ہی گئی تھی۔ میں تو گھر کے جالے اتارنے لگی تھی۔ اتنے دن ہو گئے ہیں روز یہ کام رہ جاتا ہے۔“

”چھوڑو باہر چلتے ہیں۔“

”اونہوں۔ چھوڑ بھی دوں تو مجھے تیار ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ آپ تو تیار ہیں۔ واک کرنا چاہتے ہیں تو کر آئیں۔ میں نے ابھی کھانا بھی بنانا ہے۔“

”واک نہیں میرا پروگرام تو کچھ اور تھا، ہم باہر کہیں گھومتے پھر کھانا کھا کر آتے۔ خیر تم کھانا مت بنانا۔ میں باہر سے کچھ لے آتا ہوں۔ سارا دن گھر میں بیٹھے بیٹھے بہت بور ہو گیا ہوں۔“

”ہائے یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ آج میں واقعی بہت تھک گئی ہوں۔ باہر جانے کا بالکل بھی موڈ نہیں ہے۔ اچھا ہے کھانا بھی باہر سے آ جائے گا۔“

”ٹھیک ہے تو میں پھر نکلتا ہوں۔“

جنید نے باہر کی طرف قدم بڑھا دیے۔ نیچے جانے کے لیے لفٹ موجود تھی۔ سیڑھیاں بھی تھیں لیکن جنید ہمیشہ لفٹ استعمال کرتا تھا۔ لفٹ کوری ڈور کے دوسرے سرے پر تھی۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے ایک موڑ سے گزرنا پڑتا تھا۔ جیسے ہی وہ موڑ تک پہنچا اسے ایسا لگا جیسے کوئی لفٹ کے دروازے سے اندر داخل ہوا ہے۔ وہ اندازہ نہیں لگا سکا تھا کہ وہ کون ہے اسے بس نیلے لباس کی ہلکی سی جھلک دکھائی دی تھی۔ وہ تیزی سے لفٹ کی طرف لپکا تاکہ اسے لفٹ کی واپسی کے لیے انتظار نہ کرنا پڑے۔

لفٹ کے اندر داخل ہوا تو اس پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ لفٹ میں سوار ہونے والی ایک لڑکی تھی۔ لڑکی نے ڈارک بلیو جینز کے ساتھ لائٹ بلیو شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ دوپٹے سے بے نیاز تھی۔ چہرہ اس قدر خوبصورت تھا کہ ایک لمحے کے لیے اسے یوں لگا جیسے چاند زمین پر اتر آیا ہو۔ لفٹ میں ہلکی سی دلفریب خوشبو پھیلی تھی جو یقیناً لڑکی کے پرفیوم کا کمال تھا۔ جنید بہت تیزی میں اندر داخل ہوا تھا شاید اسی لئے لڑکی نے بھی اسے غور سے دیکھا۔

”آپ بہت جلدی میں معلوم ہوتے ہیں۔ کوئی ایمرجنسی ہے کیا؟“ اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

”جی نہیں ایسی کوئی ایمرجنسی تو نہیں۔ بس لفٹ کا انتظار کرنا مجھے پسند نہیں۔ سوری اگر آپ کو برا لگا ہو تو۔“ خلاف معمول جنید نے وضاحت کی اور گراؤنڈ فلور کا بٹن دبا دیا۔

”اس میں برا لگنے کیا کیا بات ہے۔“ لڑکی مسکرا اٹھی۔ جنید اس کے بھرے بھرے سرخ ہونٹ، سرخ و سپید گال، کالی آنکھیں اور شانوں پر لہراتے ہوئے تراشیدہ بالوں کو دیکھ کر کھو سا گیا۔ اسے وہ بہت اپنی اپنی سی لگی تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ میں نے اس لڑکی کو پہلے کہاں دیکھا ہے۔ شاید میں اسے جانتا ہوں۔

”کیا سوچ رہے ہیں؟“ لڑکی شاید باتونی تھی۔

”آپ مجھے اجنبی نہیں لگ رہیں لیکن یہ بھی یاد نہیں آ رہا کہ آپ سے کب اور کہاں ملاقات ہوئی ہے۔“ جنید بولے بغیر نہ رہ سکا۔

اس بار لڑکی ہنس پڑی۔ ”آپ نے مجھے اسی بلڈنگ میں دیکھا ہو گا۔ میں بھی یہیں رہتی ہوں۔“
”ہاں۔ شاید اسی لیے آپ جانی پہچانی سی لگ رہی ہیں“
”جان پہچان کا کیا ہے۔ اگر پہلے سے نہیں تو اب کر لیتے ہیں۔“ لڑکی بولی۔

”او کے۔ تو پھر میں اپنا تعارف کروا دیتا ہوں۔ میرا نام جنید ہے اور میں ایک عام سا آدمی ہوں۔“ جنید نے ایک بار پھر خلاف معمول مزاحیہ انداز اختیار کیا۔

”ہوں۔ تو آپ ایک عام آدمی ہیں لیکن میں بہت خاص لڑکی ہوں اور میں ہر کسی کو اپنا نام نہیں بتاتی۔“ لڑکی کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ وہ شرارت پر آمادہ ہے۔

”تو نہ بتائیے۔ میرا کیا جاتا ہے۔ ویسے بھی لفٹ سے اترنے کے بعد میں کہاں اور آپ کہاں“ جنید کا لہجہ خوشگوار تھا۔

”لیکن میں اسی بلڈنگ میں رہتی ہوں تو آپ کو نام جاننے میں دلچسپی تو گی۔“
”تو پھر آپ بتا کیوں نہیں دیتیں“
”کیوں کہ میں اجنبیوں کو اپنا نام نہیں بتاتی۔“ لڑکی جیسے صورت حال سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔
”نام تو اجنبیوں کو ہی بتایا جاتا ہے۔ جاننے والے تو نام سے واقف ہوتے ہیں۔“ جنید نے دلیل دی۔

”ہوں۔ بات میں دم ہے۔ چلیے اسی بات پر میں اپنا نام بتا دیتی ہوں۔ میرا نام۔“ اس سے پہلے کہ وہ اپنا نام بتاتی لفٹ رک گئی اور اس کا دروازہ کھل گیا۔ باہر دو تین آدمی کھڑے تھے۔

”اچھا پھر کبھی۔“ لڑکی نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور آگے بڑھتی چلی گئی۔ تین آدمی اندر داخل ہوئے۔ جنید باہر نہیں نکلا تھا۔ اس نے بیسمنٹ میں جانا تھا۔ لہٰذا اس نے بیسمنٹ کا بٹن دبا دیا۔ چند سیکنڈ کے بعد وہ بیسمنٹ میں تھا۔ یہاں اس بلڈنگ کے رہائشی اپنی گاڑیاں پارک کرتے تھے۔ جنید کے پاس بھی سفید رنگ کی ایک چھوٹی گاڑی تھی جو اس کی ضرورت کے لیے کافی تھی۔ وہ گاڑی سٹارٹ کر کے باہر لایا تو نہ جانے کیوں اس کی نگاہیں اس لڑکی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔

وہ سوچ رہا تھا کہ شاید اس لڑکی کو لفٹ کی ضرورت ہو۔ ایک ہی بلڈنگ کے رہائشی ہونے کے ناتے وہ اس کی اتنی مدد تو کر ہی سکتا تھا لیکن وہ کہیں نظر نہ آئی اور وہ مین سڑک پر آ گیا۔ دو تین کلو میٹر کی ڈرائیو کے بعد وہ ایک بڑی مارکیٹ میں پہنچ گیا، یہ اس کی فیورٹ مارکیٹ تھی۔ یہاں مہنگے برانڈز کی دکانیں کم تھیں اور سستی اشیا کی دکانیں بے شمار تھیں۔ کار ایک جگہ پارک کر کے یونہی مارکیٹ میں گھومنے لگا۔ مارکیٹ میں خاصا رش تھا۔ جنید سرشاری کے عالم میں یوں گھوم رہا تھا جیسے آج بہت سی چیزیں خرید لے گا۔ مگر وہ محض قیمت پوچھ کر آگے بڑھ جاتا۔

آخر وہ ایک ریسٹورانٹ میں داخل ہوا۔ یہاں سے اس نے بریانی، چکن روسٹ اور کباب وغیرہ خریدے پھر واپسی کی راہ لی۔ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اسے محسوس ہوا کہ سارا وقت اس لڑکی کی تصویریں اس کی آنکھوں میں پھرتی رہی ہیں اور اس کے کہے ہوئے جملے اس کے کانوں میں گونجتے رہے ہیں۔ کار بیسمنٹ میں پارک کر کے وہ لفٹ میں سوار ہوا تو اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ شاید گراؤنڈ فلور پر وہ پھر لفٹ میں مل جائے۔ لفٹ گراؤنڈ فلور پر رکی تو دو خواتین اور ایک مرد لفٹ میں سوار ہوئے۔ انہیں دیکھ کر جنید بجھ سا گیا۔ ”میں خواہ مخواہ ایک اجنبی لڑکی کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ مجھے اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔“ جنید نے سر جھٹکتے ہوئے سوچا۔

اپنے فلیٹ کی بیل بجائی تو نادرہ نے دروازہ کھولا۔ نادرہ نے کام ختم کرنے بعد نہا کر نیا شلوار سوٹ پہنا تھا۔ اس کے گیلے بالوں سے ابھی تک پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ جنید نے تعریفی نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا اٹھی۔

”واہ کیا خوشبو ہے۔ بہت بھوک لگ رہی ہے۔“ اس نے شاپنگ بیگ جنید کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا۔

کھانا کھانے سے سونے تک جنید اس اجنبی لڑکی کے بارے میں بھول چکا تھا لیکن صبح جب وہ دفتر جانے کے لیے بیدار ہوا تو اچانک اس لڑکی کی تصویر اس کی نگاہوں میں پھرنے لگی۔ بہرحال وہ ناشتہ کر کے فلیٹ سے نکلا۔ لفٹ میں داخل ہوتے ہی اسے حیرت کا جھٹکا لگا لین اس نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔ اسی مخصوص خوشبو کے ساتھ وہ لڑکی لفٹ میں موجود تھی۔ اس نے چست لباس پہنا ہوا تھا۔ کھلے بالوں میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ لڑکی اسے دیکھ کر مسکرائی۔

”آپ کو میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ میں نے آج پھر آپ کو انتظار کی زحمت سے بچا لیا۔“
”جی وہ کیسے؟“ جنید نے حیرت ظاہر کی۔

” میں نے آپ کو دیکھ لیا تھا۔ اس لیے دانستہ رک گئی۔ اگر میں گراؤنڈ فلور کا بٹن دبا دیتی تو آپ کو لفٹ کی واپسی کا انتظار کرنا پڑتا۔“

”اوہ! تھینکس“ جنید نے فوراً کہا۔
”کہاں جا رہے ہیں؟“ لڑکی نے پوچھا۔
”دفتر کے سوا اور کہاں جا سکتا ہوں۔ ویسے آپ کہاں جا رہی ہیں؟“ جنید بولا۔
”سوری! میں اجنبیوں کو کچھ نہیں بتاتی۔“ لڑکی نے شوخ لہجے میں کہا۔
”اب ہم اتنے بھی اجنبی نہیں رہے۔“ جنید نے دھیرے سے کہا۔
”اچھا تو بتائیے میرا نام کیا ہے؟“
”نام تو آپ نے بتایا ہی نہیں تھا۔“
”آپ پوچھتے تو میں بتاتی کہ میرا نام شکنتلا ہے۔“
”شکنتلا۔ شکر ہے آپ نے نام تو بتایا مگر۔“ جنید کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
”مگر کیا؟“ شکنتلا نے بھنویں اچکائیں۔
”کچھ نہیں بہت اچھا نام ہے۔“ جنید نے بات بنائی۔

وہ اس سے کچھ اور باتیں کرنا چاہتا تھا لیکن لفٹ گراؤنڈ فلور پر رکی تو وہ باہر نکل گئی اور جنید کو بیسمنٹ میں جانا تھا۔ اس دن جنید کا دفتر میں زیادہ جی نہ لگا۔ اس کے بعد تو ایسا بار بار ہونے لگا۔ ایسا نہیں کہ وہ ہر بار لفٹ میں ملتی تھی لیکن اکثر مل جاتی تھی۔ کئی بار دوسرے لوگ بھی ہوتے تھے۔ ایسے میں وہ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے بس ہلکی سے مسکراہٹ سے سر خم کرتے اور اپنے اپنے فلور پر چلے جاتے۔ جنید کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے لیکن اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ بار بار اس لڑکی سے ملے، اسے دیکھے اور اس سے باتیں کریں۔ اب وہ سارا وقت گھر میں نہیں گزارتا تھا۔ بلکہ مختلف بہانوں سے کئی بار فلیٹ سے باہر نکلتا ہے۔ اس کی کوئی نہ کوئی کوشش کامیاب ہو جاتی تھی اور شکنتلا مل جاتی تھی۔

ایک شام جنید اس امید پر فلیٹ سے نکلا۔ لفٹ میں کچھ لوگ تھے مگر شکنتلا نہیں تھی۔ صبح سے وہ نظر نہیں آئی تھی۔ جنید بے چینی سی محسوس کر رہا تھا۔ وہ گراؤنڈ فلور پر آ گیا اور شاپنگ مال میں گھومنے لگا۔ پھر اچانک اسے شکنتلا دکھائی دی۔ وہ فوراً اس کی طرف لپکا۔

”شکنتلا“ اس نے قریب پہنچ کر پکارا۔ شکنتلا نے فوراً مڑ کر اسے دیکھا۔
”خوب تو آپ بھی یہاں ہیں“ وہ مسکرائی۔
”جی اتفاق سے بلکہ حسن اتفاق سے“ جنید نے فوراً کہا۔
”کچھ خریدنا ہے؟“ اس نے پوچھا۔
”جی نہیں شاپنگ تو نہیں کرنی“
”او کے۔ میں بھی کچھ ہلکا پھلکا کھانے پینے کے لیے نکلی تھی۔“

”چلیں پھر مجھے میزبانی کا شرف بخشیں“ شکنتلا اس کی آفر پر مسکرا اٹھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ اسی مال کے ایک ریسٹورانٹ میں بیٹھے تھے۔ ہلکے پھلکے کھانے کے ساتھ ہلکی پھلکی گفتگو جاری رہی۔ پھر انہوں نے واپسی کی راہ لی۔ جب وہ لفٹ میں آئے تو اتفاق سے ان کے سوا کوئی اور نہ تھا۔

”آپ کس فلور پر رہتی ہیں“ لفٹ کے حرکت میں آتے ہی جنید نے سوال کیا۔ شکنتلا اس کا سوال سن کر چند سیکنڈ خاموش رہی۔ پھر سنجیدگی سے بولی۔

”میں بہت ریزرو قسم کی لڑکی ہوں۔ کسی سے ربط بڑھانے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں لیکن پتا نہیں کیوں آپ کے معاملے میں ایسا کیوں نہیں کر پا رہی۔ بہرحال اگر آپ مجھ سے ملتے رہنا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں مجھ سے کبھی میرے بارے میں یا ذاتی نوعیت کا کوئی سوال نہیں پوچھیں گے۔ جس دن آپ نے ایسا کیا، اس دن کے بعد میں آپ سے کبھی نہیں ملوں گی۔“

جنید ایک گہری سانس لے کر رہ گیا۔ اس کے دل میں بہت سے سوال مچل رہے تھے لیکن وہ ان سوالوں کی اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا لہٰذا خاموشی میں ہی عافیت تھی۔ اپنے فلیٹ میں آیا تو نادرہ کھانا تیار کر کے اس کا انتظار کر رہی تھی۔ جنید کو تھوڑا افسوس بھی ہوا مگر شکنتلا کے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں کی مسرت اس ملال پر غالب تھی۔ رات کو وہ سونے کے لیے لیٹے تو جنید کے تصور میں پھر شکنتلا آن کھڑی ہوئی۔ اس نے سوچا کہ مجھے شکنتلا سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے اگر کسی دن نادرہ کو اس بارے میں علم ہوا تو وہ کیا سوچے گی۔ سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادی میں اتر گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صفحات: 1 2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے