کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو

پاکستان میں جرائم کی بڑھتی فہرست میں عصمت دری کے واقعات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جنسی جرائم کے رپورٹ شدہ اور غیر رپورٹ شدہ واقعات کی ایک تشویشناک تعداد ہے جس کو ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق گزشتہ چھ سالوں میں ریپ کے 22,000 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان میں حدود آرڈیننس ( 1979 ء) عصمت دری کو جرم کے طور پر

Read more

بہت بے شرم ہے یہ ماں جو مزدوری کو نکلی ہے

وزیراعظم عمران خان صاحب نے چند ہفتے قبل عوام الناس کو حکومتی کارکردگی پر براہ راست اعتماد میں لینے کی غرض سے ایک لائیو کال سیشن کا اہتمام کیا۔ ایک شہری نے وزیراعظم صاحب سے سوال کیا کہ حکومت وقت نے خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟ نیز کیا وزیراعظم صاحب ان اقدامات کو اطمینان بخش سمجھتے ہیں؟ یہ قانون سازی اور حکومتی پالیسی پر مذکورہ شہری کی جانب سے ایک انتہائی مناسب سوال تھا۔

Read more

دیت: انصاف کا نظام یا نا انصافی کا آلہ؟

پاکستان میں طاقتور مجرموں کے لیے قانون کی گرفت سے بچنے کے کئی ایک طریقے ہیں، جن میں سے دیت کی ادائیگی ایک ایسا طریقہ ہے جسے اکثر استعمال کیا جاتا ہے۔ جب بھی کوئی ہائی پروفائل قتل ہوتا ہے تو صحافیوں اور ایکٹیوسٹس کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ باقی کیسز کی طرح اس کیس کو بھی دیت کی آڑ میں دبا نہ دیا جائے اور باقی مجرموں کی طرح اس مجرم کو بھی راہ فرار نہ فراہم کر دی جائے۔ مگر دیت کا قانون آخر ہے کیا، اور پاکستان میں اس کا اطلاق کس طرح کیا جاتا ہے؟

Read more

گھریلو تشدد بل 2021 اور اسلامی نظریاتی کونسل

گھریلو تشدد بل 2021 ء کا مقصد ان خواتین، بچوں اور کمزور افراد کو تشدد سے بچانا اور ان کے لیے محفوظ رہائشگاہ کا بندوبست کرنا تھا جو گھریلو تشدد کا شکار ہوں اور اپنا دفاع نہ کر سکتے ہوں۔ اسی طرح تشدد کرنے والوں کو سزا دلوانا اور ان جرائم کو قابل دست دراندازیٴ پولیس بنانا بھی اس کے مقاصد میں شامل تھے۔ لہذا کسی بھی قسم کا زبانی، جسمانی، جذباتی اور جنسی تشدد جو صدمے، تکلیف، اور خوف کا باعث ہو، وہ اس قانون کی رو سے جرم تصور ہوتا۔ عدالت کو اختیار حاصل ہوتا کہ وہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تشدد کرنے والے پر چھے مہینے سے لے کر تین سال تک کی قید اور ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کر سکتی۔

Read more

پسینہ بن کے بدن سے لہو نکلتا ہے

ہماری حکومتیں بنیادی طور پر آگ بجھانے والے ادارے کا کام کرتی ہیں۔ جب معاملہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو پھر شدید افراتفری میں اس کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی ہے، ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کے دور چلتے ہیں اور سب ایک سے بڑھ کر ایک عوام کے ہمدرد بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اتنی دور اندیشی تو ہے نہیں کہ جب حادثے کے محرکات تشکیل پا رہے ہوں تو ان کا تدارک کیا جائے، اور شروع ہی میں مسئلے کو حادثہ بننے سے روکا جا سکے۔

Read more

ہم گناہ گار عورتیں!

خواتین کی عصمت دری اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ اس کے باوجود دنیا کا کوئی بھی معاشرہ آج تک اس جرم سے مکمل طور پر نمٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 35 فیصد سے زائد خواتین کو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں جنسی اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس موضوع پر بات کرنے میں ہچکچاہٹ سے مجرموں کے حوصلے کو مزید بڑھاوا ملتا ہے۔ پچھلے دس سال میں حقوق نسواں کی تحریکیں اور ہر خاص و عام کی سوشل میڈیا تک رسائی اس گھناؤنے جرم سے پردہ اٹھانے اور مجرموں کو سزا دلوانے کی طرف ایک اہم پیشرفت ہے۔ اگرچہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والوں میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ تمام مرد اس بات کے ذمہ دار ہیں۔ مردوں، کم عمر بچوں، حتیٰ کہ لاشوں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کے کیسز کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

Read more

کچھ اسلامو فوبیا کے بارے میں

چند دن پہلے بینیڈکٹ اینڈرسن کی کتاب ’سماج کا تصور‘ (Imagined Communities) پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کا موضوع ”نیشنلزم (قومیت پرستی) اور حب الوطنی“ ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”چھوٹی سے چھوٹی قوم کے لوگ بھی اپنی قوم کے زیادہ تر لوگوں سے اپنی زندگی میں نہ مل پاتے ہیں، نہ ان کو دیکھتے ہیں اور نہ ہی کبھی ان کو براہ راست سنتے ہیں، اس کے باوجود وہ دنیا کی جس دھرتی پر بھی جا بسیں، ذہنی طور پر وہ اپنی شناخت ’اپنی قوم‘ کے ساتھ پیوستہ رکھتے ہیں۔“

قوم ایک تصوراتی اشتراک کے ذریعہ وجود میں آتی ہے، ہم تصور کر لیتے ہیں کہ ہمارا دوست وہی ہے جو ہماری قوم سے تعلق رکھتا ہے۔ باقی تمام مذاہب، اقوام اور نسلوں کے لوگ دشمنی اور نفرت لائق ہیں۔ یہ دشمنی اور نفرت بنیادی طور پر تشکیک کی انتہائی شکل ہے، نتیجتاً ہر شخص شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے مذہب، قوم، اور نسل کو دوسروں سے ممتاز کرنے میں کوشاں نظر آتا ہے۔ نسلی تعصب انہی امتیازی احساسات سے وجود میں آتا ہے۔

Read more