کشمیر کا تنازع، حقائق کی روشنی میں قسط۔ 6

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا جرم ہے میری ساد۔گی۔ یا پھر خطا کوئی اور ہے

ریاست جموں و کشمیر میں سیاست کے دو دھارے نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کی شکل میں، مخالف سمت میں بہ نکلے تھے۔ وہی سیاسی راہنما جو پہلے ایک مشترکہ محاذ پر متحد کھڑے نظر آتے تھے، اب ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑے ہوئے تھے۔ وہ توانائی جو ریاستی مسلمانوں کے حقوق کے حصول پر استعمال ہونی چاہیے تھی، ایک دوسرے سے کھینچا تانی پر صرف ہونے لگی۔ نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کی سیاست کا تجزیہ پہلے کیا جا چکا ہے۔ مسلم کانفرنس، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ریاست جموں و کشمیر، برطانوی ہند کا حصہ نہیں ہے اور تقسیم ہند کی صورت میں کسی بھی خود کار طریقے سے ریاست، پاکستان یا ہندوستان میں ضم نہیں ہو سکے گی، آل انڈیا مسلم لیگ کو اپنا محور و مرکز بنا بیٹھی تھی۔

مسلم کانفرنس کسی فرضی یا تصوراتی اصول کے تحت، ریاست کا الحاق مجوزہ پاکستان سے چاہتی تھی۔ دوسری طرف شیخ عبد اللہ، نہرو سے تعلقات کی بنا پر، ریاست کا ایسا تصفیہ چاہتے تھے کہ ریاست کی سیاست میں ان کی مطلق العنان حیثیت برقرار رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وادی میں شیخ عبد اللہ کی جماعت سے ہندو راہنماؤں کے پارٹی چھوڑ جانے اور میر واعظ یوسف شاہ کے اثر و رسوخ اور عبد اللہ کی نظریاتی مخالفت کی وجہ سے، شیخ صاحب کی قوم پرستانہ سیاست کو دھچکا لگا تھا لیکن مجموعی طور پر ان کی اپنی ذاتی حیثیت، کسی بھی دوسرے سیاسی لیڈر کے مقابلے میں ابھی تک مستحکم تھی۔

لوگ شیخ عبد اللہ کو 1931ء سے دیکھتے چلے آرہے تھے۔ وہ لوگوں کے حقوق کی خاطر اپنی ملازمت سے محروم کر دیے گئے تھے اور بار ہا جیل بھی گئے تھے۔ شیخ صاحب کی جماعت میں پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ لوگ موجود تھے جو لوگوں کو ان حقائق سے باخبر رکھتے تھے۔ ایسی صورت حال میں مسلم کانفرنس کے مسلم لیگ کی طرف جھکاؤ کے باوجود، لوگوں کو یہ باور کروانا کہ شیخ عبد اللہ ان کا بھلا نہیں چاہتے، یعنی انہیں ان کی ذات سے بد ظن کرنا ممکن نہیں تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیریوں کی بڑی تعداد، ڈوگرہ راج کے ظلم و تعدی سے نجات چاہتی تھی اور اس کے لئے وہ مسلم لیگ اور قائد اعظم کی طرف دیکھتی تھی۔ کشمیری قائد اعظم کو اپنے مسیحا کے روپ میں دیکھتے تو تھے لیکن وہ اپنا نصب العین شیخ عبداللہ کی سربراہی میں حاصل کرنا چاہتے تھے۔ مسلم کانفرنس کے پاس شیخ عبد اللہ کا متبادل نہیں تھا۔ یہ بات شاید مسلم لیگ کے ادراک میں نہ آ سکی۔ جب قائد اعظم کے 1944ء میں اس طرف توجہ دلانے پر، آئی تو نہ صرف بہت دیر ہو چکی تھی، بلکہ ڈھنڈیا پڑھنے پر، کوئی اتنی بڑی سیاسی قد و قامت کی شخصیت سامنے نہ آ سکی۔

اس مسلسل چپقلش کے پس منظر میں، دونوں جماعتیں، قائد اعظم سے گفت و شنید کرنا چاہتی تھیں۔ مقصد یہ تھا کہ دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان مخاصمت ختم ہوتا کہ ان کے درمیاں کسی سمجھوتے کی راہ ہموار ہو جائے۔ چناں چہ شیخ عبداللہ نے 1944ء کے اوائل میں اپنے ساتھیوں مرزا محمد افضل بیگ، مولانا محمد سعید مسعودی، خواجہ غلام محمد صادق اور بخشی غلام محمد کے ساتھ مشورہ کے بعد قائد اعظم کو سری نگر آنے کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا۔ اس ضمن میں مولانا محمد سعید مسعودی اور خواجہ غلام محمد صادق دہلی میں قائداعظم

سے ملے۔ اس کے فوراً بعد شیخ عبد اللہ اور قائداعظم کے درمیان ایک طویل ملاقات ہوئی۔ شیخ صاحب کے نمائندے ایک بار پھر ان سے لاہور میں ملے۔ شیخ عبد اللہ کے بقول انہوں نے قائد اعظم سے ملاقات، ریاست کی ایک سیاسی جماعت کے راہنما کی حیثیت میں کی اور انہیں سری نگر آنے کی دعوت دی (یوسف صراف) ۔ قائد اعظم کو ایسی ہی دعوت پہلے ہی مسلم کانفرنس کی طرف سے دی جا چکی تھی۔

قائداعظم، فاطمہ جناح کے ہمراہ 8 مئی 1944ء کو سوچیت گڑھ کے راستے ریاست جموں و کشمیر میں داخل ہوئے۔ ان کا استقبال، مسلم کانفرنس کی طرف سے چوہدری غلام عباس، اللہ رکھا ساغر اور چوہدری حمید اللہ نے اور نیشنل کانفرنس کی طرف سے بخشی غلام محمد نے کیا۔ انتظامی امور، سوچیت گڑھ سے بانہال تک مسلم کانفرنس اور بانہال سے سری نگر تک نیشنل کانفرنس کے ہاتھ میں تھے۔ سری نگر کے مضافات میں ان کا استقبال شیخ عبداللہ، خواجہ غلام محمد صادق اور مولانا محمد سعید مسعودی نے کیا۔

قائد اعظم کے سری نگر پہنچنے پر استقبالی جلسہ پرتاب پارک میں منعقد ہوا۔ شیخ عبداللہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور قائداعظم کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں ہندوستان کے مسلمانوں کا ہر دل عزیز راہنما قرار دیا۔ قائد اعظم نے جواب میں اپنے استقبال کو ’شاہی استقبال‘ کہا اور فرمایا کہ جس شاہی استقبال کا آپ لوگوں نے میرے لئے اہتمام کیا گیا، یہ میرے لئے نہیں، یہ مسلم لیگ کے لئے تھا جس کا میں صدر ہوں۔ آپ کے اس والہانہ استقبال سے ہندوستان کے مسلمانوں کی عزت افزائی ہوئی ہے۔

قائد اعظم، پرتاب پارک سے ڈرگجن (Durgjan) پارک میں گئے جہاں مسلم کانفرنس نے ان کے استقبالیہ کا انتظام کر رکھا تھا۔ یہاں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا : اگر آپ سب ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں، ایک ہی رسول کو مانتے ہیں اور سب کا مقصد بھی ایک ہے تو سب کی آواز بھی ایک ہی ہونی چاہیے۔ میں ایک مسلمان ہوں اور میری ہمدردیاں مسلمانوں کے لئے وقف ہیں۔ (ہفتہ وار ’خالد‘ سر نگر 12 مئی 1944ء)

کچھ دن بعد قائد ا عظم کے اعزاز میں علی گڑھ اولڈ بوائز نے سر نگر میں ایک استقبالیہ کا انتظام کیا۔ اس میں شیخ محمد عبداللہ، مرزا افضل بیگ، خواجہ غلام محمد صادق، خواجہ غلام محی الدین کارا، غلام محی الدین ہمدانی، یوسف بچھ، پنڈت مدھ سودھن کاک، شو نرائن فوتیدار، پنڈت اے این رائنا، پنڈت جی اے لال، جے این چکو اور بہت سے دوسرے لوگ جو علی گڑھ کے فارغ التحصیل تھے، شامل ہوئے۔ اسی محفل میں غلام محی الدین ہمدانی اور قائد اعظم کے درمیان، ایک فی البدیہ اور دلچسپ مکالمہ ہوا۔

ہمدانی :سر! کیا ہندوستان میں ہندؤوں کی واضح اکثریت، پاکستان کے قیام کی اجازت دے گی؟

قائد اعظم: اگر مسٹر ڈی ولیرا (Éamon de Valera) برطانیہ سے آئر لینڈ کو علیحدہ کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے تو ہندوستان کے دس کروڑ مسلمان اپنے لئے ہندوستان سے علیحدہ ہو کر ایک الگ ملک کیوں قائم نہیں کر سکتے؟

ہمدانی: سر! اگر پاکستان بن بھی گیا تو کیا معاشی طور پر ایک پسماندہ ملک نہیں ہو گا؟

قائد اعظم: نہیں، نہیں۔ با ایں ہمہ، پاکستان میں ایک جھونپڑی میں حفاظت کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنا، اس سے کہیں بہتر ہوگا کہ ہندوستان میں ایک بنگلے میں خوفزدہ زندگی گزاری جائے۔

ہمدانی : (ریاست میں مسلمان اکثریت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ کسی بھی جمہوری نظام میں مسلمان ہی غالب قوت ہوں گے ) سر! نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس میں کون سی جماعت ریاست کے مسلمانوں کے مفادات کا بہتر دفاع کر سکے گی۔

قائد اعظم ذرا سا مسکرائے اور کہا: بظاہر تو یہ کام نیشنل کانفرنس ہی کر سکتی ہے، لیکن کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ اس وقت

کتنے ہندو اور سکھ نیشنل کانفرنس میں ہیں؟ ( 1,2,3 ) ۔ اس مکالمے سے نیشنل کانفرنس کے شر کاء نے خفت محسوس کی۔

قائد اعظم 25 جولائی تک، دو ماہ اور سترہ دن، کشمیر میں رہے اس دوران ان کی ملاقاتیں بہت سے سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں، طلباء، صحافتی نمائندوں، مذہبی راہنماؤں اور اقلیتی نمائندوں سے ہوئی۔ نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کے زعماء سے سلسلہ وار ملاقاتیں ہوئیں۔ ان مجالس کا مرکزی نکتہ، دونوں جماعتوں کے درمیان مصالحت کروانا تھا۔ انہی ملاقاتوں میں سے چند ملاقاتیں خورشید حسن، جو اورینٹ پریس (Orient Press) کے نمائندہ تھے، سے ہوئیں۔

خورشید حسن نے ابھی ابھی بی اے کا امتحان پاس کیا تھا اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نمایاں راہنما رہے تھے۔ خورشید حسن کی پر اعتماد شخصیت نے قائد اعظم کو متاثر کیا۔ انہیں قابل بھروسا سمجھتے ہوئے چند ماہ بعد انہیں اپنا پرائیویٹ سیکریٹری مقرر کر دیا۔ خورشید حسن نے یہ ذمہ داری قائد اعظم کی وفات تک نہایت خوش اسلوبی سے نبھائی۔

ریاست کی دونوں سیاسی جماعتوں کے مابین کسی اتحاد کے ضمن میں جو تجاویز سامنے رکھی گئیں، ان میں سر دست دونوں جماعتوں کا ادغام تھا۔ شیخ عبد اللہ نے ہر ممکن کوشش کی کہ ان کی جماعت کو قوم پرست جماعت کے طور پر نہ دیکھا جائے کہ ان کی جماعت ایک مسلم جماعت ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اس جماعت میں غیر مسلم شامل ہوتے ہیں یا نہیں، اس کی مسلم پہچان بہر حال برقرار رہے گی۔ قائد اعظم، شیخ عبد اللہ کی وضاحت کو، آل انڈیا نیشنل کانگریس جو بظاہر قوم پرست جماعت تھی لیکن حقیقت میں وہ صرف اور صرف ہندؤوں کے مفادات کی محافظ تھی، کے مماثل ٹھہراتے ہوئے رد کرتے تھے۔

یہاں میں رک کر ایک محقق کی حیثیت میں اپنی ذاتی رائے کا اظہار کروں گا۔ میرے خیال میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس میں تطابقت درست نہیں تھی۔ ہندوستان کی تقسیم کا ایک طریقہ کار یا فامولہ، انڈین ایکٹ 1935ء کی صورت میں موجود تھا اور اس پر مزید قانون سازی کی برطانوی دارالعوام (پارلیمنٹ) مجاز تھی۔ اور سب سے بڑھ کر ہندوستان کی تقسیم، مسلمانوں کے مفاد میں تھی۔ جب کہ ریاست میں انگریز نہیں، مہاراجہ ہری سنگھ حاکم تھا اور تاج برطانیہ کی ریاست میں قانونی عمل داری نہیں تھی۔

چناں چہ برطانوی دارالعوام، ریاست کے بارے میں کسی قانون کے اجراء یا نفاذ کی مجاز نہیں تھی۔ دلیل معکوس کے طور پر اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ریاست میں ہندو مسلم تناسب ہندوستان کے بالکل بر عکس (تعداد میں الٹا) لیکن برابر تھا۔ یہاں جموں، اودہم پور اور کٹھوعہ میں ہندؤوں کی اکثریت تھی۔ کیا ہندؤوں کے اکثریتی علاقوں میں انہیں ریاست کے اندر ایک اور ریاست بنانے کا اختیار مل سکتا تھا یا اگر ایسا ہوتا تو یہ اختیار مسلمان اکثریت کے مفاد میں ہوتا؟ ریاست کے آئین میں ایسی کوئی قانونی رعایت موجود نہیں تھی۔ ریاست کے عوام اور ہندوستان و پاکستان، دونوں کا مفادپوری ریاست کا متحد رہتے ہوئے، اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں تھا۔

دوسری طرف مسلم کانفرنس، چھوٹی جماعت ہونے کے باوجود، نیشنل کانفرنس کی تحلیل اور اپنی جماعت میں اس کا ادغام چاہتی تھی۔ ابتداء میں شیخ عبد اللہ بھی مسلم کانفرنس سے یہی چاہتے تھے۔ لیکن جب اونٹ کسی کروٹ نہ بیٹھا تو شیخ عبد اللہ نے تجویز دی کہ دونوں جماعتیں، ایک دوسری کے کام میں مداخلت کیے بغیر، اپنے طور پر کام کرتی رہیں لیکن ہندوستانی سیاست کے معاملات میں، دونوں جماعتیں مسلم لیگ کے احکامات کے تابع رہیں اور ان پر عمل کی پابند ٹھہریں۔

اس کے بدلے میں مسلم لیگ کا رویہ دونوں جماعتوں کے ساتھ غیر جانب دارانہ اور مساویانہ رہے۔ مسلم کانفرنس نے یہ تجویز ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلم کانفرنس کی سیاست کا محور و مرکز ہی مسلم لیگ تھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مسلم کانفرنس کی سیاست کی قوت محرکہ اور اس کا عوام میں حمایت کا انحصار ہی مسلم لیگ سے تعاون میں تھا۔ یعنی مسلم کانفرنس کی سیاست، ہندوستان کے مسلمانوں سے یک جہتی و ہم آہنگی پر استوار تھی، اور ریاست کے مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ مسلم لیگ سے تعاون میں دیکھتی تھی۔ گویا اس جماعت کے پاس، ریاست کے مسلمانوں کے لئے، جیسا کہ وقت نے بعد میں ثابت کیا، کوئی نظریہ یا حکمت عملی سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔

قوم کی نمائندگی (ترجمانی) اور راہنمائی میں فرق ہوتا ہے۔ قوم کے نمائندہ (ترجمان) ، ضروری نہیں کہ اس کے راہنما بھی ہوں۔ اول الذکر کو غیر فعال سیاست (Passive Politics) اور ثانی الذکر کو فعال سیاست (Active Politics) کہا جاتا ہے۔ فعال سیاست میں عوام کی نمائندگی کے ساتھ ان کی راہنمائی بھی کی جاتی ہے۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ عوام ہر معاملے میں درست سوچ کے حامل ہوں۔ یہ راہنما کا فرض ہوتا ہے کہ ان کی ترجمانی کرتے ہوئے، ان کے لئے درست سمت کی نشان دہی بھی کرے۔

جب کہ غیر فعال سیاست، راہنمائی کی صلاحیت سے محرومیت کی وجہ سے، محض لوگوں کے جذبات کے بل بوتے پر یا جذبات کو ابھار کر کی جاتی ہے۔ یعنی غیر فعال سیاست کا محور ہی لوگوں کی جذباتیت سے فائدہ اٹھانا ہونا ہوتا ہے۔ اس کی مثال پاکستان میں مذہبی جماعتوں اور ان کے ترجمانوں، جو اپنے آپ کو ان کے راہنما کہتے اور سمجھتے ہیں، سے دی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت بظاہر ملک میں اسلام کا نفاذ چاہتی ہے لیکن یہ سب جماعتیں مل کر کبھی بھی مجموعی طور پر دس فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کر سکیں۔

وہ اس لئے کہ لوگ انہیں اپنا راہنما نہیں سمجھتے اور ملک کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں نہیں دینا چاہتے۔ اسی طرح چوہدری غلام عباس، زیادہ سے زیادہ ریاست کے ایک حلقے کے ترجمان کہے جا سکتے ہیں۔ قوم نے انہیں اپنا راہنما کبھی مانا اور نہ ہی جانا۔ اس کے بر عکس شیخ عبد اللہ کی سیاست میں فعالیت نظر آتی ہے، وہ ایک نظریاتی راہنما تھے۔ وہ قوم کے مفادات کے لئے قوم کی راہنمائی کے داعی بھی تھے اور لوگ انہیں ایسا مانتے بھی تھے۔ ان کی سیاست سے کشمیریوں کو فائدہ پہنچا یا نقصان، اس پر بحث کہیں آگے چل کر آئے گی۔

اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ قائد اعظم کو یہ بتا کر، شیخ عبد اللہ سے بد ظن کیا گیا کہ نیشنل کانفرنس کا آل انڈیا سے لا تعلقی کا اعلان، قابل بھروسا نہیں۔ اس لئے کہ شیخ عبد اللہ، نہرو کو ’کشمیری‘ ہونے کے ناتے، ریاست میں آنے کی دعوت دے سکتے ہیں (یوسف صراف) ۔ قائد اعظم نے یہ تجویز دی کہ شیخ عبد اللہ اور چوہدری غلام عباس کے درمیان، ان کی موجودگی میں مذاکرات ہونے چاہئیں تا کہ ان کے درمیان مفاہمت کی کوئی راہ نکالی جاسکے۔

انہوں نے تین دن بعد ’کوشک‘ میں اس میٹنگ کے لئے دن بھی مقرر کر دیا۔ اس تجویز کو چوہدری غلام عباس نے یہ کہ کر بے اثر کر دیا کہ پہلے ہم آپس میں بالمشافہ بات کر لیں، پھر آپ کی موجودگی میں مل بیٹھیں گے۔ دونوں راہنماؤں کی یہ ملاقات مولانا محمد سعید مسعودی کی موجودگی میں ہوئی لیکن حسب سابق بے نتیجہ رہی اور یہ باب یہیں بند ہو گیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ قائد اعظم کی سامنے کی گئی یہی بات چیت شاید نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی تھی۔

قائد اعظم نے 17 جون 1944ء کو جامع مسجد سری نگر میں مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا :

مسٹر پریزیڈنٹ (چوہدری غلام عباس) اور برادران اسلام، جو عزت آپ لوگوں نے مجھے دی، میرے پاس آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے الفاظ نہیں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ اس جلسے میں ایک لاکھ کے قریب لوگ موجود ہیں۔ ۔ جب میں اس جلسے کو دیکھتا ہوں تو میں خوشی اور اعتماد محسوس کرتا ہوں کہ ریاست کے مسلمان جاگ اٹھے ہیں اور مسلم کانفرنس کے جھنڈے تلے جمع ہو چکے ہیں۔ ۔ آپ کو پتہ ہے کہ میں یہاں ایک ماہ سے ٹھہرا ہوا ہوں۔ مجھے بہت سے لوگ، مختلف مکتبہ ہائے فکر سے، ملنے کے لئے آئے۔

میں نے آپ کے مسائل، آپ پر ڈھانے جانے والے ظلم و ستم اور آپ کی مشکلات کو سنا۔ آپ میں سے 99 فی صد لوگ مسلم کانفرنس کے حامی ہیں۔ ۔ بے شک کچھ لوگ ایسے بھی تھے، جن کا نظریہ تھا کہ مسلمانوں کو نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس کے حق میں کچھ دلائل بھی دیے، جو میں نے سنے اور ان پر غور کیا۔ میں یہاں کسی جماعت کو مضبوط کرنے یا کسی اور کو کمزور کرنے نہیں آیا۔ میں نے یہ بھی کہا کہ آپ کے مسائل برطانوی ہند کے مقابلے میں مختلف ہیں، لیکن چوں کہ آپ نے مجھے ایک مسلمان کی حیثیت سے جانا اور سمجھا، لہذا میرا فرض ہے کہ میں آپ کو صحیح مشورہ دوں کہ آپ کے لئے کامیابی کا کون سا راستہ درست ہو سکتا ہے۔

مجھے علم نہیں کہ نیشنل کانفرنس، اپنے مقاصد کیسے حاصل کر سکے گی، جب کہ چھے سال کے عرصے میں، ہندؤوں اور سکھوں کی بہت ہی معمولی تعداد اس جماعت میں شامل ہوئی ہے۔ ۔ میرا خیال ہے کہ نیشنل کانفرنس کا قیام ایک غلطی تھی، جس کے

نتیجے میں ریاست کے مسلمان تقسیم ہوئے۔ ۔ مجھے یہ بتایا گیا کہ ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ریاست میں کوئی فرقہ واریت نہیں ہے اور یہ کہ نیشنلزم کے پردے میں ہم مسلم کانفرنس کی طرح پاکستان کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ۔ میں یہ کہوں گا کہ نیشنل کانگریس نے بھی یہی طریقہ برطانوی ہند میں اختیار کیا تھا، جب کہ یہ ایک خالص ہندوانہ جماعت ہے۔ جب کانگریس کا فریب مسلمانوں پر نہیں چل سکا تو (شیخ عبد اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے ) تم اس میں کیسے کامیاب ہو سکو گے؟

۔ چناں چہ، میں آپ کو، یہ دیکھتے ہوئے کہ ریاست اور برطانوی ہند میں حالات ایک جیسے ہیں۔ میں آپ سے برملا کہوں گا کہ آپ مسلمان ہیں اور آپ ہی ریاست میں سب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ۔ ۔ برطانوی ہند کی پوزیشن مختلف ہے اور ریاست کی پوزیشن مختلف۔ تاہم میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، باوجودیکہ، مسلم لیگ، ریاست کشمیر میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، میں خود اور مسلم لیگ آپ کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔

قائد اعظم نے، مسلم لیگ کی ریاست میں سیاسی عدم مداخلت کی پالیسی کے باوجود، اپنی تقریر میں بڑے واشگاف الفاظ میں مسلم کانفرنس کی حمایت کی اور کشمیری مسلمانوں کو مسلم کانفرنس میں شمولیت کی تلقین کی۔ شیخ عبد اللہ اور نیشنل کانفرنس کے لئے، ان کی یہ تقریر بڑی مایوس کن تھی۔ نیشنل کانفرنس کے کارکن خاصے برہم ہوئے۔ شیخ عبد اللہ کے نزدیک قائد اعظم کو دونوں سیاسی جماعتوں کے معاملے میں غیر جانب دار رہنا چاہیے تھا۔

عبد اللہ نے ایک مجمع میں خطاب کرتے ہوئے کہہ دیا کہ قائد اعظم کو ریاست کے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے، وگرنہ وہ ان کے راز فاش کر دیں گے۔ کچھ طلباء نے بارہ مولا میں احتجاج بھی کیا۔ یہاں سے نیشنل کانفرنس اور مسلم لیگ کے درمیان معاملات ایسی ڈگر پر چل نکلے، جس سے مستقبل میں مسلم لیگ، پاکستان یا ریاست جموں و کشمیر کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ سب سے زیادہ نقصان ریاست کے مسلمانوں کو ہوا۔ مسلم لیگ اور کانگریس کی ریاستی معاملات میں سیاسی ’عدم مداخلت‘ جس کا اظہار چالیس کی دہائی میں ہوا تھا اور جس کاوعدہ1947ء کے بعد اقوام متحدہ میں سب کے سامنے کیا گیا، کا تسلسل ریاست کی حد متارکہ کے دونوں اطراف میں ہنوز جاری ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ بدؤوں کے خیموں میں دونوں جانب اونٹ پورے جسم و جثہ سمیت داخل ہو چکے ہیں اور بدو خیموں کے باہر سہمے سمٹے بیٹھے، اپنے اپنے خیموں کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔

قائد اعظم نے ریاست سے واپس جاتے ہوئے مظفر آباد میں ایک بیان جاری کیا :

” شیخ عبد اللہ اور ان کی پارٹی اور مسلم کانفرنس نے اپنے معاملات پر، میرے یہاں آنے سے پہلے، دہلی اور لاہور میں میرے ساتھ بات چیت کی اور یہاں آنے پر میرا والہانہ استقبال بھی کیا۔ وہ میرے ساتھ مل کر اپنے اختلافات کو دور کرنا چاہتے تھے، لیکن جب میں نے ان کی باتیں سن کر انہیں یہ مشورہ دیا کہ سب مسلمانوں کو ایک جھنڈے تلے جمع ہونا چاہیے تو صرف یہی نہیں کہ شیخ عبد اللہ کو میری تجویز قبول نہیں تھی، بلکہ جیسے کہ اس کی عادت ہے بلکہ یہ اس کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے کہ وہ میرے خلاف بد زبانی اور دشنام طرازی پر اتر آیا۔ مسلمانوں کو میرا مشورہ ہے کہ اختلافات کو بات چیت، باہمی افہام و تفہیم، استدلال اور دوسروں کو اپنے نقطہ نظر پر قائل کرنے سے دور کیا جاسکتا ہے لیکن غنڈہ گردی سے نہیں۔ میں حکومت جموں وکشمیر کی توجہ اس طرف مبذول کروانا چاہوں گا کہ اس غنڈہ گردی کا خاتمہ ہر حال میں ہونا چاہیے“ (یوسف صراف)

اس بیان نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی اور شیخ عبد اللہ جو پہلے ہی کانگریس کی طرف رجحان رکھتے تھے، کو مکمل طور پراس طرف

دھکیل کر نہرو اور گاندھی کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ اور کشمیر کے مستقبل پر ایک سیاہ مہر، حتمی طور پر ثبت کر دی گئی۔

ڈاکٹر جمیل احمد میر
جاری ہے۔
Refernces:
1. (Yousaf Saraf — Kashmiris Fight for Freedom,
2. Alaitair lamb — Kashir a disputed legacy 1846-1990
3. Flashback by Zahir ud Din


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments