اداکار کی اوج یہ ہے کہ وہ دلیپ کمار سے میل کھاوے

عود ہندی میں منقول ہے کہ مرزا غالب نے اپنے دوست مرزا حاتم علی مہر کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”سنو صاحب، شعرا میں فردوسی اور فقرا میں حسن بصری اور عشاق میں مجنوں یہ تین آدمی تین فن میں سر دفتر اور پیشوا ہیں“

مجھے یقین ہے مرزا اگر دلیپ کمار کو اداکاری کرتے دیکھتے تو اس نصیحت کو کچھ یوں بیان کرتے،

”سنو صاحب، شعرا میں فردوسی اور فقرا میں حسن بصری اور عشاق میں مجنوں اور اداکاری میں دلیپ کمار، یہ چار آدمی چار فن میں سر دفتر اور پیشوا ہیں، شاعر کا کمال یہ ہے کہ فردوسی ہوجا وے، فقیر کی انتہا یہ ہے کہ حسن بصری سے ٹکر کھاوے، عاشق کی نمود یہ ہے کہ مجنوں کی ہم طرحی نصیب ہوئے اور اداکار کی اوج یہ ہے کہ وہ دلیپ کمار سے میل کھاوے“

میرا ماننا ہے کہ بعض لوگ قدرت کی طرف سے کچھ ایسی صلاحیتیں لے کر آتے ہیں کہ شاید کوئی عام شخص اس صلاحیت کو بے پناہ مشق اور کوشش کے باوجود بھی اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا جو ایسے لوگوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ اب دلیپ صاحب کو ہی لے لیجیے، والد پھلوں کے بیوپاری، خاندان میں کسی شخص کا اداکاری تو دور کی بات فنون لطیفہ کے کسی شعبے سے دور تک کا واسطہ بھی نہیں، لیکن ان کی ابتدائی فلمیں دیکھ کر بھی ایسا محسوس ہوگا کہ گویا ”میتھڈ اداکاری“ کا دیوتا اسکرین پر جلوہ گر ہے۔ فن اداکاری کی باقاعدہ تربیت نہ تعلیم، لیکن مچھلی کے جائے کو تیرنا کون سکھائے؟

دلیپ صاحب کی ابتدائی زندگی میں آپ کو ایسا کوئی عمل انگیز نہیں ملے گا جس نے ان کی اداکاری کی صلاحیت کو مہمیز دیا ہو۔ بمبئی ٹاکیز کی پروڈیوسر دیویکا رانی سے حادثاتی ملاقات ان کو میدان اداکاری میں لے آئی، والد کو پتہ چلا کہ بیٹا نوٹنکی باز ہو گیا ہے تو مرنے مارنے پر تل گئے، پرتھوی راج چوہان کے سمجھانے بجھانے پر بڑی مشکل سے بیٹے کو بطور اداکار قبول کیا، بیٹے کے ساتھ جب نرگس کی فلم جس میں دلیپ کمار نرگس کے مقابل ہیرو تھے دیکھ کر سنیما سے باہر آئے تو دلیپ کمار کو آدھی رات کو زبردستی نرگس کے گھر لے جانے لگے کہ میں آج رات ہی تیرا نکاح نرگس سے کرواؤں گا۔ اس قسم کے پس منظر رکھنے والے لوگوں کو ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے قدرت کے کارخانے میں شاید زمانہ بھی سازش کا حصہ بن جاتا ہے۔

دلیپ صاحب کی مادری زبان ہندکو تھی لیکن پنجابی، پشتو، اردو، ہندی، انگریزی اور فارسی زبان کو اہل زبان کے لب و لہجے میں بولنے پر قدرت رکھتے تھے، کچھ عینی شاہدین کے مطابق دلیپ صاحب کو اپنے جذبات اور احساسات پر اس قدر قابو تھا کہ بیک وقت وہ ایک آنکھ میں آنسو لا سکتے تھے جب کے دوسری آنکھ مسکرا رہی ہوتی تھی، فلم مشعل میں اپنی بیوی وحیدہ رحمان کی جان بچانے کے لیے وہ جس انسانی بے بسی اور لاچاری کا اظہار اپنے جذبات اور احساسات سے اسکرین پر کرتے ہیں، شاید کوئی اور اداکار اس کیفیت کی ترجمانی دوبارہ نہ کر سکے۔

دلیپ صاحب پشاور میں پیدا ہوئے، دیو آنند، راج کپور اور دلیپ کمار ہندوستان کی فلم انڈسٹری کے ستون کہلاتے ہیں اور نہرو ان تینوں کے پرستار تھے، دلچسپی کی بات ہے کہ یہ تینوں افراد آج کے پاکستان میں پیدا ہوئے اور بمبئی میں سکونت اختیار کی۔

شہر پشاور جائے پیدائش ہونے کی وجہ سے دلیپ کمار کی پاکستان سے محبت فطری تھی اور پاکستان سے بھی دلیپ صاحب کو بے پناہ محبت ملی، ان کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کے بھارت اور پاکستان کے تعلقات مثالی ہوں، دلیپ صاحب کی پس پردہ سفارت کاری کے سبب جس کو اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی مکمل تائید حاصل تھی، اعلان لاہور ممکن ہوا اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے مینار پاکستان کے زیر سایہ پاکستان کی حقیقت کو تسلیم کیا، حکومت پاکستان نے دلیپ صاحب کو نشان امتیاز سے بھی نوازا، دورہ پاکستان پر ان کو اسٹیٹ گیسٹ کی حیثیت دی جاتی تھی۔

دلیپ کمار ایک انسان دوست شخصیت تھے، ساری زندگی ضرورت مندوں کے کام آتے رہے، بمبئی میں 1993 کے مسلم کش فسادات کے دوران دلیپ صاحب کا گھر فسادات کے متاثرین کے لیے بلا امتیاز مذہب و نسل ریلیف سنٹر کا کام کرتا رہا۔ 2000 سے 2006 تک مہاراشٹرا کی سیٹ پر رجیا سبھا کے رکن بھی رہے۔

سائرہ بانو نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اتنی طویل رفاقت کے باوجود میں نے دلیپ صاحب کے منہ سے کبھی معذرت کا لفظ نہیں سنا، چاہے غلطی جس کی بھی ہو سوری مجھے ہی کہنا ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود صاحب دل کے بہت اچھے ہیں، دراصل جب کسی انسان پر قدرت کی اتنی مہربانی ہو تو وہ اس کے مزاج میں ایک خاص طرح کا رکھ رکھاو آ جاتا ہے، شاید اسی وجہ سے زندگی بھر میں کوئی مقصد یا مقام پانے کے لیے دلیپ صاحب جھکے نہیں، 1960 کی دہائی میں جب برطانوی ہدایت کار ڈیوڈ لین نے ان کو لارنس آف عریبیہ کے لیے معاون کردار کی پیشکش کی تو شاید ہمیشہ مرکزی کردار ادا کرنے والے دلیپ کمار کے اندر موجود بڑے فنکار نے سمجھوتا نہیں کیا اور کردار کو ادا کرنے سے معذرت کرلی، اس کردار کو بعد میں مصری اداکار عمر شریف نے عمدگی سے نبھایا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کردار کو ادا کرنے کے بعد عمر شریف کو ڈاکٹر زواگو جیسی تاریخ ساز فلم کے مرکزی کردار کی پیشکش ہوئی اور اس فلم کے بعد عمر شریف ہالی وڈ کے صفحہ اول کے اداکاروں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ ہو سکتا ہے اس پیشکش کو مسترد کرنے سے دلیپ کمار کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہو، البتہ ہالی ووڈ اور مغربی فلم بین، فن کے اس بحر بیکراں سے مستفید ہونے سے ضرور محروم رہ گئے۔

دلیپ صاحب کا یہ طرز عمل ان کی ذاتی زندگی میں بھی رہا، انہوں نے تمام عمر اپنے گیارہ بہن بھائیوں کی کفالت کی، لیکن جب دلیپ صاحب کی چھوٹی بہن اختر بیگم نے فلم مغل اعظم کے ڈائریکٹر، کے آصف سے بھاگ کر شادی کر لی تو دلیپ صاحب نے کبھی اپنی لاڈلی بہن کی صورت نہ دیکھی۔

اسی طرح پچاس کی دہائی میں وینس آف انڈین سینما کہلانے والی مدھو بالا اور دلیپ کمار کی محبت کے چرچے زبان زد عام ہونے لگے، گو اس سے پہلے نہایت بڑھی لکھی اور پروقار کامنی کوشل سے بھی ان کا نام جوڑا جاتا رہا، لیکن مدھو بالا سے ان کے تعلق پر ہمیشہ بات ہوتی رہے گی۔

ممتاز جہان محل دہلوی جو مدھو بالا کے فلمی نام سے مشہور ہوئیں یوسف زئی پشتون قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں، ان کے والد عطا اللہ خان کو مدھو بالا کا دلیپ کمار سے تعلق پسند نہ تھا، 1956 میں بی آر چوپڑا نے مدھو بالا کو فلم نیا دور کے لیے دلیپ کمار کے مقابل کاسٹ کیا، فلمی مورخین کے مطابق کیونکہ مدھوبالا کے والد ہر وقت سیٹ پر موجود رہتے تھے اس لیے مبینہ طور پر دلیپ کمار کی ایما پر بی آر چوپڑا نے فلم کا سیٹ چالیس دن کے لیے بھوپال منتقل کر دیا تاکہ دلیپ کمار کو مدھو بالا کے ساتھ تنہائی کے لمحات میسر آ سکیں، لیکن مدھو بالا کے والد نے جانے سے انکار کر دیا جس پر بی آر چوپڑا نے مدھو بالا کی جگہ وجیانتھ مالا کو نیا دور کی ہیروئن کاسٹ کر لیا۔

مدھو بالا کے والد نے فلم کی شوٹنگ کے خلاف اسٹے آرڈر لے لیا، اور بات کورٹ کچہری تک جا پہنچی، جواب میں بی آر چوپڑا نے مدھوبالا اور ان کے والد کے خلاف نقصانات کے ازالے کے لیے تیس ہزار روپے ہرجانہ بھرنے کا کیس دائر کر دیا، کورٹ میں دلیپ کمار نے کھلے عام کہا کہ وہ مدھو بالا سے مرتے دم تک محبت کرتے رہیں گے مگر مدھو بالا اور ان کے والد کے طرز عمل سے فلم کی پروڈکشن کو بھاری نقصان ہوا ہے، اس وقت کے اخبارات نے دلیپ کمار کے اس اعتراف محبت کو شہ سرخیوں میں شائع کیا بعد میں جب معاملہ رفع دفع ہوا تو دلیپ کمار نے مدھو بالا کو شادی کی پیشکش کی، مدھو بالا نے شرط رکھی کے دلیپ کمار کو ان کے والد سے معافی مانگنا ہوگی لیکن دلیپ کمار نے انکار کر دیا، مدھو بالا نے کہا کہ چلیں معافی نہ مانگیں گلے ہی مل لیں لیکن دلیپ کمار نے اس کی بھی ہامی نہ بھری اور اس کے بعد مدھو بالا اور دلیپ کمار کا تعلق ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مدھو بالا نے دلیپ صاحب سے علیحدگی کا بے حد اثر لیا، انہوں نے کشور کمار سے شادی کرلی لیکن فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ مدھو بالا کی خواہش پر دلیپ کمار مدھو بالا سے صرف اس وقت ہی ملے جب وہ اسپتال میں عارضہ قلب کے باعث بستر مرگ پر اپنی آخری سانسیں لے رہی تھیں۔

بعد میں دلیپ کمار نے سائرہ بانو کی شکل میں اپنی مدھو بالا کو ڈھونڈ لیا۔ سائرہ بانو سے دلیپ کمار کے تعلقات کا آغاز بھی کافی ڈرامائی ہے، سائرہ بانو جو فلمی دنیا میں نووارد تھیں ایک دن ان کی والدہ نسیم بانو جو بذات خود بھی اداکارہ تھیں سائرہ بانو کو لے کر دلیپ کمار کے پاس آئیں اور دلیپ کمار سے کہنے لگیں کہ وہ سائرہ بانو کو سمجھائیں کیونکہ سائرہ بانو منوج کمار کے عشق میں مبتلا ہو گئی ہیں، اور منوج کمار پہلے سے ہی شادی شدہ ہیں۔ دلیپ کمار ان کو کیا سمجھاتے الٹا سائرہ بانو کو دل دے بیٹھے اور یہ رشتہ تمام عمر قائم رہا۔ اس کے علاوہ حیدرآباد دکن کی ایک خاتون عاصمہ رحمان دو سال تک دلیپ کمار کے نکاح میں رہیں اور یہ شادی 1983 میں اختتام پذیر ہوئی۔

دلیپ صاحب کے جانے سے فن کا ایک باب بند ہو گیا، تلخ حقیقت ہے کہ زمانہ ایک نہ ایک دن ہر ایک کو بھلا دیتا ہے کچھ کو چند سالوں میں کچھ کو چند دہائیوں میں لیکن دلیپ صاحب کے اثرات زمانہ صدیوں محسوس کرے گا کیونکہ دلیپ صاحب جیسے لوگ لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words