افغان باقی، کہسار باقی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری نسل کے لوگوں نے افغانستان میں روس، امریکہ اور افغان گوریلا المعروف مجاہدین کی کھیل کبڈی اور اس میں اپنی مداخلت ایسے ہی دیکھی ہے جیسے اپنے ملک میں کیبل کے ڈرامے۔

جی بھر کے کوستے رہے، اس کھیل کو اپنی تہذیب اپنے ملک اور اپنی روایات کے خلاف سمجھنے اور یہ جاننے کے باوجود کہ یہ دائرے کا سفر ہے اور انجام کار وہیں آئیں گے جہاں سے شروع کیا تھا، کچھ نہ کر پائے فقط دیکھا کیے۔

آج اس کھیل کو پانچواں عشرہ ہونے کو آیا ہے اور کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ سوائے اس کے کہ ہم سب کی عمروں میں کئی دہائیوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔

امریکہ بیس برس کی لاحاصل جنگ کے بعد جوتے چھوڑ کے جا رہا ہے۔ افغانستان میں کھیلا گیا یہ خونی کھیل مبینہ طور پر ویتنام کی جنگ کا بدلہ لینے کے لیے ستر کی دہائی سے کھیلا گیا۔ روس کے ساتھ جو ہوا سو ہوا، امریکہ کے لیےانجام یہ ہوا کہ ویتنام جنگ سے زیادہ تھو تھو تھڑی تھڑی ہو گئی۔

شاید القاعدہ تباہ ہو گئی، شاید اسامہ بن لادن مارا گیا۔ یہ کام تو کسی کرائے کے قاتل کو دوچار لاکھ دے کر بھی کرایا جا سکتا تھا۔ امریکی عوام بھی ہماری طرح بھولے بادشاہ ہیں۔ اپنے ٹیکس کے پیسے پہ چند لوگوں کو جنگ جنگ کھیلتے دیکھ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے۔

ادھر ہمارے ہاں ایک پٹس پڑی ہوئی ہے۔ ہائے طالبان آ جائیں گے، وائے طالبان آجائیں گے۔ آجائیں گے تو آپ کا مزید کیا بگاڑ لیں گے؟

افغان عورتوں کے جن حقوق کو آپ رو رہے ہیں کیا آپ کے ہاں خواتین کو وہ سب حقوق حاصل ہیں؟ جس جمہوریت کی فکر میں آپ ہلکان ہیں، کیا وہ آپ کے ہاں پائی جاتی ہے؟ جن سزاوں اور سخت گیری سے انسانی حقوق مسخ ہوتے نظر آتے ہیں کیا آئے دن آپ کف اڑا اڑا کےاس قسم کی سزاوں کے حق میں تقریریں نہیں کرتے پائے جاتے؟

افغانستان کا اسی فیصد حصہ مبینہ طور پر طالبان کے قبضے میں آ چکا ہے۔ افغان فورسز رضا کارانہ طور پہ بھی ہتھیار ڈال رہی ہیں۔ اپنے گھر میں جنگ کوئی نہیں چاہتا۔

جنگ ختم ہو چکی ہے۔ امریکہ بہادر اور اس کے ہاری حواری، اپنے ہتھیار آزمانے اور خون گرم رکھنے کو کوئی اور جولان گاہ ڈھونڈیں گے۔ امید ہے اس نئی شکار گاہ کے جغرافیائی حالات پہ خوب غور کر لیا جائے گا۔

دلدلی اور پتھریلی شکار گاہوں کی بجائے، میدانوں کو ترجیح دیجئے گا اور آئندہ جو بیٹر ساتھ رکھیں اس کے بارے میں یہ تسلی کر لیں کہ وہ کم سے کم اپنے ملک اور قوم سے مخلص ہو۔ جو اپنے آپ سے مخلص نہیں وہ آپ کا وفادار بھی نہیں ہو گا۔ یہ میرا مشورہ ہے ،التجا نہیں۔

انسانی حماقتوں کو خارجہ حکمت عملی کا نام دے کر جنگیں مرتب کی جاتی ہیں جن کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ معاشرے ختم ہو جاتے ہیں اور جب معاشرے ختم ہو جاتے ہیں تو اپنی بقا کے لیے گروہ باہر نکل آتے ہیں۔ ان گروہوں کے قوانین سخت ہو تے ہیں اور جہد للبقا کے اصولوں پر استوار ہوتے ہیں۔

چند ہی دن جاتے ہیں کہ افغانستان میں پھر سے طالبان کی حکومت ہو گی اور پہلے جن تین ممالک نے اس حکومت کو تسلیم کیا تھا اس بار یہ تعداد تین سے کہیں زیادہ ہو گی۔

جس طرح دائیں بازو کے لوگوں کو اسرائیل کے ساتھ نئے روابط پر اعتراض رہے گا، اسی طرح بائیں بازو کے لوگوں کو طالبان حکومت پسند نہیں آئے گی۔

لیکن جب تک طالبان اور امریکہ کے مفادات آپس میں نہیں ٹکراتے، طالبان کے لیے کچھ خاص مسائل نہیں ہوں گے۔ رہی بات امریکہ کی تو اس کی توپوں کا رخ کسی اور طرف ہونے والا ہے۔

پوری دنیا دم سادھے افغان ڈرامے کا ڈراپ سین دیکھنے کی منتظر ہے۔ نوائے وقت میں سالہا سال شائع ہونے والی ایک شہ سرخی جو پھر فقط سرخی بن کے رہ گئی تھی یاد آگئی: ’افغان باقی، کہسار باقی الملک للہ، الحکم للہ۔‘

پیچھے رہ گئے ہم، تو افغانستان کے سفیر کی بیٹی کے ساتھ جو ہوا وہ ہماری پالیسی اور بے بسی دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔
یوں بھی ہمارا یہ ہے کہ وہی پرانا نعرہ لگائیں گے، جو اب ہماری پالیسی کم اور پہچان زیادہ بن چکا ہے ’شیا للہ! شیا للہ!‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).