یوتھینیزیا: وہ رحم دلی جس کی اجازت نہیں دی جاتی
Euthanasia کا لفظ یونانی زبان سے نکلا ہے جس کا لفظی مطلب ہے اچھی موت، تاہم اس کو مرسی کلنگ بھی کہا جاتا ہے۔ جو لوگ سالہا سال کی معذوری یاdegenerative diseases جھیلتے ہیں یا وہ بدقسمت والدین جن کے بچے ذہنی اور جسمانی معذوری کا شکار ہوتے ہیں وہ اس کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں۔
سادہ الفاظ میں جب زندگی اتنی تکلیف دہ ہو جائے کہ موت آسان لگے تو مریض بذات خود، یا ذہنی معذوری کی صورت میں بدقسمت ماں باپ ”آسان موت“ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
ایک مسلمان معاشرے میں شاید یہ خیال بھی قابل گرفت ہو، کیونکہ اسلام اس چیز کی اجازت نہیں دیتا، لیکن بہت سے ترقی یافتہ ملکوں میں اس کی اجازت ہے جن میں سوئزرلینڈ سرفہرست ہے۔
سکاٹ لینڈ میں اس کے لئے بل پیش کیا گیا لیکن نامنظور کر دیا گیا، تاہم اس سلسلے میں ایک خاتون کی طرف سے کوششیں جاری ہیں۔ ان کے خاوند کو سکاٹ لینڈ سے سوئزرلینڈ جا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کروانا پڑا کیونکہ وہ موٹر نیورون ڈیزیز کی وجہ سے مکمل معذور ہو چکے تھے اور یہ تکلیف مزید برداشت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے انھوں نے اپنے لئے ایک آسان موت کا انتخاب کیا۔
مذہبی پابندیوں کے علاوہ بہت سے ڈاکٹر بھی مرسی کلنگ کے حق میں نہیں کیونکہ وہ اس کو باعث ذلت سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں کینیڈا میں بحث شروع ہوئی جب رابرٹ لٹیمر نامی ایک کسان نے اپنی بارہ سال کی ذہنی اور جسمانی معذور بچی ٹریسی کو کاربن مونو آکسائیڈ دے کر قتل کر دیا کیونکہ وہ اس کی تکلیف مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ رابرٹ کو عمر قید ہوئی لیکن باشعور لوگوں نے اس بات کو زیربحث لایا کہ درد برداشت کرنے کی انتہا کیا ہے؟
کیا ایک باشعور شخص کو، جو ایک ناقابل علاج معذوری اور تکلیف میں مبتلا ہے، یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی ناقابل برداشت اذیت کو ختم کر سکے؟
کیا وہ بدنصیب ماں باپ جو اپنی اولاد کو ہلنے جلنے سے معذور درد میں دن رات دیکھتے ہیں، یہ حق نہیں رکھتے کہ وہ اپنے بچے کو rest in peace کہ سکیں؟
پاکستان جیسے مسلم معاشرے میں جہاں اپنی مرضی سے جینے کی اجازت نہیں دی جاتی، اپنی مرضی سے مرنا بھی قابل قبول نہیں ہو گا۔
لیکن well developed ملکوں میں یہ بحث جاری ہے کہ مخصوص حالات میں آپ اپنے لئے یا اپنے پیاروں کے لئے آسان موت کا انتخاب کر سکیں۔


