EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

حالیہ افغانستان کے تناظر میں ایمل ولی خان کا انٹرویو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیو ٹی وی پر سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور ولی باغ کے سیاسی خانوادے ایمل ولی خان نے ایک تازہ ترین انٹرویو دیا ہے۔ اس انٹرویو کا دیگر امور کے ساتھ ساتھ خصوصی تعلق حالیہ افغانستان کے موجودہ کشیدہ صورت حال سے بھی تھا۔ میں اب تک نہ تو ایمل ولی خان سے ملا ہوں، نہ اب تک کوئی بات ہوئی ہے اور حتی کہ علیک سلیک بھی نہیں۔ میں بھی دیگر دوستوں کی طرح ان کو محض ایک سیاسی پیراشوٹر سمجھتا تھا۔

لیکن حالیہ دنوں میں، میں نے ان کو دوسری بار سنا اور مکمل سنا، بہت دھیان اور غور سے سنا۔ پہلی بار بنوں کے حالیہ جلسے میں اور دوسری بار سلیم صافی کے جرگے میں۔ بولتے تو سب ہیں، تقریر تو سب ہی کرتے ہیں اور انٹرویو بھی سب سیاست دان دیتے رہتے ہیں، تو پھر اس میں کون سی خاص بات دیگر لیڈروں سے الگ تھی۔ تو وہ میری دانست میں ان کا بولڈ اور دو ٹوک موقف اور دلیرانہ سوچ اور اپروچ تھا۔ ایمل ولی خان جب عوامی نیشنل پارٹی کے پہلے پہل غالباً صوبائی ڈپٹی صدر بنے تو ان کے انتخاب کو محض موروثی سیاست کے جمع، تفریق کے نسبت ضرب دیا گیا۔

وقت گزرتا گیا، مرحومہ و مغفورہ بیگم نسیم ولی خان نے اپنے گھر کی سیاست کو دو لخت کیا اور ایک ولی باغ کو سیاسی طور پر دو ولی باغوں میں تقسیم کیا، اور چہ میگوئیاں شروع ہوئی کہ آئندہ الیکشن میں ان کو کوئی خاص نظر کرم ملنے والی ہے۔ لیکن چشم فلک اور خاک خلق نے واضح طور پر دیکھا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ خیر، پھر خیر سے ولی باغ کی سیاست یکجا ہو گئی۔ اس دوران اسفندیار خان ناسازی صحت کی وجہ سے زیادہ مستعد نظر نہیں آئے اور پارٹی کے اندرون الیکشن کے نتیجہ میں صوبائی قیادت مرکز کی جانب بڑھ گئی اور ایمل ولی خان پارٹی کے صوبائی صدر کے عہدے پر براجمان ہوئے۔

تب بھی اس الیکشن کو سلیکشن کی نظر سے دکھا جانے لگا لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ایمل ولی خان نے اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لئے خود کو ہر لحاظ سے سیاسی طور پر مصروف عمل رکھا۔ کراچی آئے۔ وزیرستان آئی۔ ڈی۔ پیز کیمپ گئے۔ اسلام آباد میں زرداری صاحب سے ملاقات کیں۔ باچا خان مرکز پشاور کو اپنا سیاسی مسکن بنایا اور خود کو اس قدر سیاسی طور پر میچور کیا کہ حالیہ انٹرویو نے اس کے اس بہترین سلیکشن کو خود بخود الیکشن میں تبدیل کر دیا۔

یہ انٹرویو ایک ایسے وقت اور حالات میں لیا گیا کہ اس کے جوابات ایمل ولی خان یا دیگر لفظوں میں ولی باغ کا خانوادہ یا سیاسی وارث ہی اس جراءت، دلیری، بردباری، خندہ پیشانی اور جانفشانی سے دے سکتا تھا۔ ہم عام طور پر تو بولتے رہتے ہیں کہ پارٹیوں میں موروثیت ہے۔ ہے بالکل ہے اور ہونا بھی نہیں چاہیے لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وقت آنے پر پھر یہ موروثی قیادت ہی دباؤ برداشت کر سکتی ہے۔ یہی موروثی قیادت ہی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر جوابات دے سکتے ہیں، یہی موروثی قیادت ہی ڈٹ جاتی ہیں اور حتی کہ جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیتے ہیں۔ جس کی مثال پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ لوگوں کے حافظے اتنے بھی کمزور اور ضعیف نہیں کہ کل کی باتوں کو بھی یکسر بھول جائیں۔ ویسے یہ مثل تو ہر کسی کو یاد ہوگا کہ اچھے گوشت کا شوربہ بھی اچھا ہوتا ہے۔

تو میں بات ایمل ولی خان کی کر رہا تھا۔ ایک تو ایمل ولی نے جو چند دن پہلے بنوں میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کیا تھا وہ بہت بولڈ اور اپنے موقف کو پیش کرنے کے لحاظ سے واضح اور دو ٹوک تھا۔ اس تقریر میں ایمل ولی خان کا انداز بیان، سیاسی للکار، قومی پکار، عوامی انداز اور باڈی لینگوئج سب اس طرح یکجا تھے کہ ایمل ولی خان ایک پورے سیاسی پیکج کی طرح مکمل لگ رہے تھے۔ بالکل اسی طرح جرگہ پروگرام میں صافی کے تمام سوالات کے ایمل ولی خان نے اس طرح جوابات دیے اور اپنی باڈی لینگوئج کو اس طرح مدہم رکھا کہ کسی بھی جگہ کس بھی سوال پر اپنے والد محترم اسفندیار ولی خان کی طرح جذباتی بھی نہیں ہوئے اور ایک سوال کے جواب میں تو اس نے اتنے زور سے قہقہہ لگایا کہ جرگہ حجرے کی مجلس کی منظر پیش کرنے لگا۔

اس انٹرویو میں ایمل ولی خان نے افغانستان، اس خطے، پشتون سرزمین اور خصوصاً امریکہ کے حوالے سے جو سیاسی سوالیے کو جوابی بیانیے میں پیش کیا وہ اگر ان کی جگہ ان حالات میں کوئی اور ہوتا تو عین ممکن تھا کہ سیاسی مصلحت کا شکار ہوجاتا لیکن کس بھی جگہ کسی بھی سوال پر وہ متزلزل نہیں ہوئے، تذبذب کا شکار نہیں رہے بلکہ کچھ اس طرح سے سامنے آئے کہ مستقبل میں ایک بہت بڑے لیڈر کے نشات اور علامات اپنے لب و لہجے اور جسمانی ساخت میں چھوڑ گئے۔

اور یہ بات واضح ہوئی کہ وہ جس طرح پشتو اچھی طرح سے بولتے ہیں بالکل اسی طرح اردو بھی بولتے ہیں اور جس طرح پشتو اردو بول سکتے ہیں بالکل اس طرح انگلش بھی بول سکتے ہیں۔ لیکن کسی کاغذ کے پرزے کی مدد سے نہیں بولتے اور نہ طوطے کی طرح رٹے رٹائے جملوں کی گرداں کرتے ہیں۔ وہ ایک پڑھا لکھا، سیاسی گھرانے کا ایک سمجھدار، ملکی، بین الاقوامی حالات و واقعات سے باخبر لیڈر بچہ ہے جن سے مستقبل میں قوم کی بڑی توقعات وابستہ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے