EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پاکستان کے خلاف نئی بھارتی سازش اور ہرے پاسپورٹ کی شان و شوکت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چینی انجینئرز کی ہلاکت کو حادثہ قرار دینے کے بعد اب وزیر داخلہ شیخ محمد رشید نے اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا و تشدد کے واقعہ کو عالمی سازش قرار دیا ہے جس کی منصوبہ بندی بھارتی ایجنسی ’را‘ نے کی تھی۔ پاکستانی وزیر کے اس دعوے کے باوجود افغانستان نے نامناسب حفاظتی انتظامات کی وجہ سے اپنے سفیر اور سفارتی عملہ کو پاکستان سے واپس بلا لیا ہے ۔

وزیر اعظم اور ان کے معاونین کی طرف سے پاکستانی سیاست میں گل افشانیوں کے اپنے مسائل ہیں لیکن دوسرے ممالک کے ساتھ معاملات میں غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیا رکرنے کے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔داسو ڈیم پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کی ہلاکت کے معاملہ پر جس طرح وزیر خارجہ اور دیگر سرکاری عہدیداروں نے بے بنیاد اور گمراہ کن بیانات دیے تھے، اس کے بعد چینی حکومت کی طرف سے شدید رد عمل کا سامناکرنا پڑ ا۔ اس کے باوجود بیان بازی کو اپنا سب سے بڑا ہتھکنڈا سمجھنے والی حکومت اپنا طریقہ کار تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ چین نے پاکستانی تحقیقات پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحہ کی تحقیقات کے لئے ماہرین کی پندر ہ رکنی ٹیم پاکستان روانہ کی ہے۔ دونوں ملکوں کی دوستی کے باوجود چین نے اپنے شہریوں کی ہلاکت پر غیر ذمہ دارانہ پاکستانی بیانات اور طریقہ کار کو مسترد کیا ہے اور اس سانحہ کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں۔

یہ چینی اقدام ’ہمالہ سے بلند دوستی‘ کی علامت نہیں ہے جس کا تاثر وزیر داخلہ شیخ رشید نے آج پریس کانفرنس میں دینے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ اس اقدام سے چین نے پاکستانی سیاسی حکومت اور اس کے زیر نگرانی تحقیقات پر براہ راست عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ایسا عدم اعتماد سفارتی لحاظ سے دو ملکوں کے تعلقات میں دراڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود نہ شیخ رشید کے چہرے پر کسی شرمندگی کے آثار ہویدا ہیں اور نہ ہی پاکستان میں چین کا نظام نافذ کرکے تمام مسائل حل کرنے کے خواہش مند وزیر اعظم عمران خان کو یہ توفیق ہوئی ہے کہ وہ ٹیلی فون پر صرف چینی وزیر اعظم سے ہی معافی مانگنا کافی نہ سمجھتے بلکہ پاکستانی عوام سے بھی معافی مانگتے اور بتاتے کہ ان کی حکومت کے کارپردازوں نے دنیا بھر میں اپنے اکلوتے دوست ملک کے ساتھ بھی ناروا اور گمراہ کن طرز بیان اختیار کرکے ملکی مفادات پر شدید وار کیا ہے۔

چین کے شدید احتجاج اور پر زور رد عمل کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ایک ٹوئٹ کے ذریعے اس نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کی گئی جس میں انہوں نے بالواسطہ اعتراف کیا کہ کوہستان میں وقوع پذیر ہونے والا سانحہ عام حادثہ نہیں تھا بلکہ اس واقعہ میں بارود استعمال ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ حالانکہ وزارت خارجہ اور وزیر خارجہ اسے مسلسل ایک معمول کا ٹریفک حادثہ قرار دے رہے تھے۔ عوام کے سامنے شفافیت اور دیانت داری کی نئی مثالیں قائم کرنے کی دعویدار عمران خان حکومت نے اس سانحہ کی اصل تفصیلات ابھی تک عوام کو بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور نہ ہی یہ وضاحت سامنے آئی ہے کہ ایک حادثہ، سانحہ یا دہشت گردی کے واقعہ کے بعد تمام ’غیر متعلقہ‘ لوگوں کو میڈیا کے سامنے جھوٹے سچے بیان دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟

تحریک انصاف کی حکومت بار بار ٹھوکر کھانے کے باوجود یہ بنیادی نکتہ سمجھنے میں ناکام ہے کہ نازک اور اہم معاملات پر تمام حکومتی نمائیندوں کو اپنی اپنی ’عقل‘ کے مطابق بیان بازی کرنے کی بجائے زبان بند رکھنے کا سبق سیکھنا چاہئے۔ دنیا بھر میں یہ طریقہ مروج ہے کہ جب بھی کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے جس میں پولیس کو تحقیقات کرنے کی ضرورت ہو تو اس پر کوئی سیاسی لیڈر زبان نہیں کھولتا بلکہ مقامی پولیس کا نگران اس بارے میں ضروری وقفے سے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتا ہے۔ اگر کوئی واقعہ بہت سنگین نوعیت کا ہو یا اس میں دوسرے ملکوں کے مفادات ملوث ہوں اور کسی دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کا امکان ہو تو وزارت خارجہ کا نمائیندہ بھی پولیس کے ہمراہ میڈیا کے سوالوں کے جواب دینے کے لئے موجود رہتا ہے۔ تاہم کسی بھی ایسے واقعہ میں جس میں کسی مجرمانہ غفلت یا دہشت گردی کا امکان ہو اور ا س کی تحقیقات ہورہی ہو، اس کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرنا پولیس افسروں ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پاکستان کی حکومت ایسی کسی روایت کو ماننے سے انکار کرتی ہے اور ہر موقع پر ملک و قوم کے لئے پریشانی و شرمندگی کا سامان بہم پہنچاتی ہے۔

اب وزیر داخلہ شیخ رشید نے افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا اور تشدد کے واقعہ پر ایسا ہی افسوسناک رویہ اختیار کیا ہے۔ اس بات کو اگر تسلیم کر بھی لیا جائے کہ وزیر داخلہ یا حکومت کو ’فیس سیونگ‘ یا اپنی شدید ناکامی چھپانے کے لئے کسی عذر کی تلاش ہے یا ایک ایسے موقع پر جب افغانستان کے مسئلہ پر پاکستان ، بھارت کو دنیا کے سامنے سفارتی لحاظ سے شرمندہ کرنا ضروری سمجھتا ہے تو بھی اس کے لئے کسی سفیر کی بیٹی کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کی بنیاد پر یہ مقصد حاصل کرنا مناسب نہیں تھا۔ تاآنکہ وزیر داخلہ اور حکومت کے پاس اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہوں کہ افغان سفیر کی بیٹی کو ’را‘ کے ایجنٹوں نے اغوا کیا اور اس کے ساتھ تشدد کے بعد اسے بے ہوشی کے عالم میں کسی جگہ پھینک دیا گیا۔ وزیر داخلہ نے ٹی وی انٹرویو میں اس واقعہ میں عالمی سازش کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کی سرکردگی ’را‘ کے ہاتھ میں ہے لیکن اسی سانس میں وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ابھی اس واقعہ کی تفتیش ہورہی ہے کہ اس روز سفیر کی صاحبزادی نے کہاں کہاں سفر کیا، اس کی تمام تفصیلات ابھی تک حاصل نہیں ہیں۔ جب وزیر داخلہ خود تحقیقات کے نامکمل ہونے کا اقرار کررہے ہیں تو انہوں نے یہ تھیوری کس بنیاد پر استوار کی ہے کہ یہ پاکستان کو بدنام کرنے کی عالمی سازش ہے جس کی سربراہی بھارتی خفیہ ایجنسی کررہی ہے؟

اس بیان کے متعدد پہلو ہیں۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت پاکستان میں داخلی سیکورٹی کا نگران وزیر یہ اعتراف کررہا ہے کہ ہمسایہ دشمن ملک کی ایجنسی دارالحکومت میں مقیم ایک اہم ہمسایہ ملک کے سفیر کی بیٹی کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنانے میں ملوث ہے۔ حالانکہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات انتہائی نازک مرحلہ میں ہیں اور دونوں ملک متعدد امور پر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں تو اس ملک کے سفیر اور ان کے عملہ کو خصوصی حفاظت فراہم ہونی چاہئے تاکہ کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ کجا وزیر داخلہ اعتراف کررہاہے کہ اپنے ہی ملک میں اس کے سارے ادارے اور ایجنسیاں ایک سفیر کی بیٹی کی حفاظت میں ناکام رہی ہیں لیکن دشمن ملک کی ایجنسی اپنا مذموم مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ یہ بیان دراصل بھارت پر الزام سے زیادہ حکومتی نااہلی کا اعتراف نامہ ہے۔

اسی معاملہ کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ شیخ رشید نے اس واقعہ کو ’انٹرنیشنل ریکٹ‘ قرار دیا جس کی سربراہی بھارتی ایجنسی ’را‘ کررہی ہے۔ گویا بھارت کو عالمی سطح پر ایسی دسترس حاصل ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کی ایجنسیوں اور صلاحیتوں کو پاکستانی مفاد کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کرسکتا ہے لیکن پاکستان اس کی روک تھام کے لئے سوائے الزام تراشی کے کچھ نہیں کرسکتا؟ ان معنوں میں یہ بیان شاہ محمود قریشی اور عمران خان کے ان بلند بانگ دعوؤں کے برعکس ہے جن میں وہ دنیا بھر میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ اور پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی سحر انگیز کہانیاں سناتے ہیں۔

وزیر اعظم آج کل خاص طور سے آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کے انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے رہنما ہیں جنہوں نے کشمیر کے سوال پر بھارتی حکومت کے عزائم اور مظالم کو ہر عالمی فورم پر بے نقاب کردیا ہے۔ سیاسی تقریروں میں چونکہ کسی دلیل اور ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی اس لئے کوئی عمران خان سے یہ سوال نہیں کرسکتا کہ ملک کی دونوں اپوزیشن پارٹیاں تو ان پر کشمیر فروخت کرنے کا الزام عائد کرتی ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے اقدامات اسلام آباد اور نئی دہلی کی ملی بھگت سے کئے گئے تھے۔ اس الزام کا جواب دینے یا پارلیمنٹ میں اس اہم موضوع پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے اب مقامی انتخابی مہم میں اپوزیشن پارٹیوں کو کشمیر کا غدار ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

عمران خان جس لب و لہجہ میں تقریریں کرتے ہیں اور ملک کی وزارت عظمی کے اہم رتبہ پر فائز ہونے کے باوجود ملکی ترقی یا فلاح کے لئے جو دلائل دیتے ہیں، وہی باتیں ملک کی مساجد کے پیش امام گزشتہ ستر برس سے اور ملت کے رہنما کئی سو سال سے بیان کرکے ایک روز اسلام اور مسلمانوں کی سرخروئی کی نوید دیتے رہے ہیں۔ کیا یہ خطبے اور تقریریں مسلمانوں یا پاکستان کی تقدیر بدل سکیں کہ اب عمران خان کے اعلیٰ مسلمان بننے کے دعوؤں سے صورت حال تبدیل ہوجائے گی؟ عمران خان پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم بنتا دیکھ رہےہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس ترقی کے سفر کا آغاز ان کی ہونہار حکومت نے کردیا ہے۔ وزیر اعظم کا دعویٰ ہے کہ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب پاکستان قرض لینے کی بجائے ’غریب‘ ملکوں کو قرض دیا کرے گا اور پاکستان کا ہرا پاسپورٹ دیکھ کر لوگ کہا کریں گے کہ دیکھو وہ پاکستانی جارہا ہے۔

جناب وزیر اعظم صریح دھوکہ پر مبنی دعوے کرنے کی بجائے اگر صرف مریم نواز کے اس الزام کا جواب دیں تو عنایت ہوگی کہ تحریک انصاف آزاد کشمیر کو بھی بھارتی مقبوضہ کشمیر کی طرز پر صوبہ بنا کر براہ راست اپنے کنٹرول میں کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ یا ناراض کشمیریوں کے اس سوال کا جواب ہی دے دیں کہ پاکستانی سیاسی پارٹیاں اپنے گندے کپڑے دھونے کے لئے کشمیر کی سیاست کو کیوں آلودہ کررہی ہیں؟ آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں کشمیر کی آزادی کے علاوہ ہر موضوع پر طبع آزمائی کی جارہی ہے۔ کیا یہی تحریک انصاف اور پاکستان کی خود مختار کشمیر پالیسی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1907 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے