EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پاکستان میں سیاحت کا فروغ: ایک پہلو یہ بھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لنکاوی، ملائشیا کا مشہور جزیرہ ہے جس کے سمندری ساحل پوری دنیا کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پچھلے سال ملائشیا جانے والے تقریباً اڑھائی کروڑ وزیٹرز میں سے چھتیس لاکھ سیاح لنکاوی گئے۔

ایک بات کا مشاہدہ بآسانی کیا جا سکتا ہے کہ تقریباً ہر دکان میں سیلز گرل اور فرنٹ ڈیسک پر آپ کو خاتون نظر آئے گی۔ ہم نے ایک خاتون سے پوچھا کہ آپ لوگ دکانوں میں کام کرتی ہیں آپ کے مرد کیا کرتے ہیں اور کہاں ہوتے ہیں؟

تو خاتون نے جواب دیا وہ یا تو دفتروں میں کام کرتے ہیں یا فیکٹریوں میں۔ کیونکہ یہ آسان کام ہے اس لیے ہم کرتی ہیں۔

ملائشیا نے لنکاوی کو دنیا کے لیے کھولنے سے پہلے وہاں مقامی انڈسٹری جس میں ان کے مقامی کھانے، بڑے ہوٹلوں میں مقامی انویسٹمنٹ، کھانوں اور کپڑوں کے دنیا کے بڑے برانڈز اور ان میں مقامی لوگوں کی شراکت جیسے کام کیے جس کی وجہ سے آج لنکاوی کے تمام مر و زن وہاں باعزت پیشوں سے منسلک ہیں۔

اسی طرح تھائی لینڈ بھی غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک پر کشش منزل ہے۔ تھائی لینڈ کا ساحلی شہر فوکٹ بھی لنکاوی کی طرح ایک ساحلی شہر ہے۔ پچھلے سال تقریباً تین کروڑ لوگوں نے تھائی لینڈ وزٹ کیا اور ان میں سے ٪ 16 یعنی تقریباً 32 لاکھ فوکٹ گئے۔

Langkawi

سال 2018 کے ایک اندازے کے مطابق تھائی لینڈ میں جسم فروشی کی انڈسٹری لگ بھگ ساڑھے چھ ارب ڈالر کی ہے۔ اس انڈسٹری کو وہاں قانونی حیثیت حاصل ہے اور حکومت اسے باقاعدہ سپورٹ کرتی اور ٹیکس بھی وصول کرتی ہے۔ اس وقت فوکٹ دنیا کے سب سے بڑے عیاش سیاحوں کے لئے سب سے زیادہ پرکشش جگہ ہے۔

لنکاوی اور فوکٹ میں ایک بنیادی فرق ہے۔ اور یہی فرق ملائشیا اور تھائی لینڈ کی معاشرت میں بھی ہے۔ اور یہی بنیادی فرق ملائشیا اور تھائی لینڈ جانے والے سیاحوں میں بھی ہے۔

اچھا یہ ساری تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے ناران شہر اور ناران سے بابوسر ٹاپ جاتے ہو راستے میں چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں سیاحوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور بھیک کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے باقی علاقوں میں بھی یہ ہو مجھے تجربہ نہیں ہوا اس لیے صرف ناران کا ذکر رہا ہوں۔ چہروں پر لکھی غربت ان کے ہاتھوں پر پڑھی جا سکتی ہے۔ جب انسان ایک بار ہاتھ پھیلا لیتا ہے تو اس کے لیے غیرت کے معنی یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں۔

حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان سیاحتی مراکز پر آباد مقامی لوگوں کے باعزت روزگار کا بندوبست کرے۔ لوکل ہینڈی کرافٹ کے تربیتی مراکز قائم کیے جائیں جہاں مقامی لوگوں کہ ہنرمند بنایا جائے۔ مخصوص بازار بنائیں جائیں جو صرف مقامی لوگوں کو سٹال لگانے کی اجازت دی جائے اور اس طرح کے اور بہت سے منصوبے۔ اس پروجیکٹ کے لیے سیاحوں سے ٹیکس کی مد میں پیسے بھی وصول کیے جا سکتے ہیں۔

پچھلے کچھ سالوں میں لوکل اور بیرون ممالک سے لاتعداد سیاح ان شمالی علاقے جات کا رخ کرتے ہیں۔ ہر گزرتے سال اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے حکومت بھی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ ملک میں سیاحت میں اضافہ ہو اور شمالی علاقہ جات کو ٹورزم کے لیے پروموٹ کیا جائے۔ اس مقامی لوگوں کے روزگار کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو کچھ سالوں بعد یہ کسی بڑے سماجی و اخلاقی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ اس وقت تو صرف اکا دکا چوری اور رہزنی کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لنکاوی یا فوکٹ، وقت زیادہ نہیں ہے۔

Phuket-Thailand
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے