EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

عوام شوکت خانم ہسپتال کے علاوہ بھی توجہ دیں (2)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر ملک کے لئے 1994 کا ہاکی ورلڈ کپ جیتنے والے نوید عالم کے خاندان سے بھی اس قومی ہیرو کے علاج کے لئے شوکت خانم ہسپتال کی طرف سے ساڑھے چار ملین روپے مانگے جاتے ہیں اور نوید عالم کی نوجوان بیٹی بے بس آنسووں کے ساتھ اپنے والد کی زندگی بچانے کے لئے عام لوگوں کے سامنے جھولی پھیلا کر چندے کی اپیل کرتی ہے اور اس دوران یہ قومی ہیرو سسک سسک کر جان دے دیتا ہے تو بتایا جائے کہ شوکت خانم ہسپتال کو ملنے والا کروڑوں بلکہ اربوں روپے کا فنڈ جاتا کہاں ہے؟

ضمنی سوال یہ بھی ہے کہ شدید مالی پریشانیوں کے شکار اور کینسر کے مرض میں مبتلا ایک قومی ہیرو کا علاج بھی مفت نہیں ہو سکتا یا شوکت خانم ہسپتال اسے قبول کرنے سے انکار کرتا ہے تو پھر لیتے کس مریض کو ہیں اور مفت علاج ہوتا کس کا ہے؟

ایک ذمہ دار عہدے پر تعینات لیکن شوکت خانم گزیدہ دوست بتاتا ہے کہ بے شک مفت علاج بھی ہوتا ھے لیکن سینکڑوں ہزاروں میں سے کتنوں کا ! کیونکہ اصل مسئلہ "خانہ پری ” کا ھے ورنہ کسی اور ہسپتال سے علاج، زائد عمر یا آخری سٹیج سمیت بہت سے بہانے موجود ہیں۔ میں بہت سے ایسے مریضوں کی نشاندہی کر سکتا ہوں جنہیں شوکت خانم ہسپتال نے مسترد کر دیا تھا لیکن دوسرے ہسپتالوں سے علاج کروانے کے بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب بھی ہو گئے

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا کسی ہسپتال کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شدید تکلیف میں مبتلا کسی مریض کو لینے سے انکار کرے؟ کیا آئین و قانون اور انسانی اقدار اس رویے کی اجازت دیتے ہیں؟ بہرحال شوکت خانم ہسپتال میں یہ روز کا معمول ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں۔

تاہم تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے لوگ متبادل اور بہتر علاج کے حوالے سے مکمل آگاہی بھی رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ خود کو ذہنی اور مالی پریشانیوں سے بھی بچا لیتے ہیں اور اپنا علاج بھی کامیابی کے ساتھ کروا لیتے ہیں۔

ھم ڈاکٹر ذکین احمد کی مثال لیتے ہیں جو خیبر پختونخواہ کے سب سے معروف سکن سپیشلسٹ ہیں اور قدرت نے ان کے ہاتھ میں ایک حیرت انگیز مسیحائی رکھی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے انہیں پروسٹیٹ سرطان تشخیص ہوا تو ایک تجربہ کار ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ بخوبی جانتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اس لئے وہ لاہور کے انمول ہسپتال جا پہنچا جہاں انہوں نے اپنا ٹسٹ (پٹ سکین) کروایا۔ یہ ٹسٹ انمول ہسپتال میں پچاس ہزار روپے کا ہوتا ہے لیکن شوکت خانم ہسپتال والے اسی ٹسٹ کے ایک لاکھ تیس ہزار روپے چارج کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ڈاکٹر ذکین اپنے ٹسٹ کی سی ڈی لے کر شوکت خانم ہسپتال دکھانے گئے تو صرف معائنے  (Reading) کی ساٹھ ہزار روپے فیس لی گئی۔

چلیں ہم اس حقیقت کو بھی مان لیتے ہیں کہ ڈاکٹر ذکین کےلئے یہ کوئی بڑی رقم نہیں کیونکہ وہ بہرحال ایک انتہائی کامیاب ڈاکٹر ہیں لیکن خدا نخواستہ کوئی عام سا شخص اس طرح کے مسئلے سے دوچار ہو تو؟

یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنا علاج انمول ہسپتال سے کرایا اور وہ اب مکمل طور پر صحت مند ہیں۔

اسی طرح میرے ایک قریبی دوست زاہد رحمان کو بلڈ کینسر تشخیص ہوا تو وہ سراسیمگی کی حالت میں شوکت خانم ہسپتال گیا لیکن وہاں سے یہ کہہ کر اسے مسترد کر دیا گیا کہ ہم ایسے مریض نہیں لیتے۔ زاہد مزید دھکے کھانے اور دھتکارنے جانے کی بجائے سیدھا پشاور کے معروف کینسر سپشلسٹ ڈاکٹر عابد سہیل (جو ارنم ہسپتال میں ماھر امراض خون ہیں) کے پاس جا پہنچا اور پوری توجہ کے ساتھ اپنا علاج کروایا۔ زاہد رحمان فخر کے ساتھ بتاتا ہے کہ نہ ہی میں ذہنی اذیت سے گزرا اور نہ ہی مجھ پر زیادہ مالی بوجھ پڑا۔ وہ اب اللہ تعالی کے فضل سے مکمل طور پر صحت مند ہیں اور اپنا بزنس کر رہے ہیں۔

شوکت خانم ہسپتال کے حوالے سے معلومات اکٹھے کرتے ہوئے میں چونک پڑا کیونکہ ایک جگہ Hidden charges ہیں یعنی پوشیدہ ادائیگی۔ حیرت ہے کہ صحت کے شعبے میں ایسے چارجز؟ اور وہ بھی عوام کے چندے پر چلنے والے کسی خیراتی ادارے میں؟

 اسی طرح ہفتہ وار معائنے (consultation) کی فیس ایک ہزار روپے ہے حالانکہ یہ معائنہ ایک ایم او یعنی ایم بی بی ایس لیول کا ڈاکٹر ہی کرتا ہے اس لئے یہ فیس دو تین سو روپے سے زیادہ ہونا ایک زیادتی ہے ۔ الٹرا ساونڈ جو عام مارکیٹ میں چھ سو روپے کا ہوتا ہے وہ شوکت خانم ہسپتال میں ڈھائی ہزار روپے میں کرنا پڑتا ہے جبکہ سی ٹی سکین عام طور پر پانچ ہزار کا جبکہ شوکت خانم ہسپتال میں سولہ ہزار کا ہوتا ہے۔ اسی طرح کیمو تھراپی ارنم ہسپتال میں سات ہزار روپے جبکہ شوکت خانم میں تیس ہزار روپے میں کی جاتی ہے حالانکہ کیمو تھراپی میں استعمال ہونے والی ڈرگز ایک جیسی اور عالمی معیار ہی کی ہوتی ہیں۔

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شوکت خانم ہسپتال علاج کے حوالے سے انتہائی مہنگا کیوں ہے۔

مطلب یہ ہے کہ یہاں بھاری بھر کم چارجز اور فیسوں پر نظرثانی کی جا سکتی ہے اور بہتری کی گنجائش بھی موجود ہے کیونکہ شوکت خانم کو عوام کی طرف سے ملک کے اندر اور باہر سے بہت بڑی فنڈنگ بھی ہو رہی ہے۔

چونکہ بدقسمتی سے پورے ملک میں کینسر کے مرض میں مبتلا مریضوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اس لئے بار دگر گزارش کروں گا کہ حکومت اپنی توجہ اور خصوصا عوام اپنے خیرات اور عطیات کو ان ہسپتالوں کی طرف بھی موڑ دیں جو کینسر کے حوالے سے قابل رشک خدمات سرانجام دے رہے ہیں لیکن انہیں بہرحال شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے ۔

لاہور میں رائے ونڈ روڈ پر کینسر کیئر ہسپتال نے کام شروع کر دیا ہے۔ ایک دوست بتا رہا تھا کہ یہ ایشیا میں کینسر کا سب سے بڑا ہسپتال ہے یہاں صرف صاحب ثروت لوگوں سے علاج کے پیسے لئے جاتے ہیں جبکہ عام لوگوں کے لئے نہ صرف علاج مکمل طور پر فری ہے بلکہ مریض کے ساتھ آنے والوں کےلئے مفت خوراک اور رہائشی انتظامات بھی کئے گئے ہیں جبکہ کینسر کیئر ہسپتال کے پاس دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور مشینری کے ساتھ ساتھ انتہائی تجربہ کار ڈاکٹروں کی ٹیم بھی موجود ہے۔ اس ہسپتال کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی لاعلاج اور آخری سٹیج کے مریض کو بھی واپس نہیں بھیجتا بلکہ ایسے مریضوں کے لئے دو سو پچاس بیڈ کا ایک علیحدہ لیکن پر آسائش بلاک بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ آخری شب و روز میں انہیں دوائیوں کے ذریعے شدید تکلیف سے بچایا جائے۔

 یہ ہسپتال عام لوگوں کے عطیات پر ہی چلتا ہے۔ اس لئے ضروری ھے کہ مخیر حضرات اس طرف بھی توجہ دیں۔ یاد رہے کہ اس ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر شہر یار ہیں جنہوں نے شوکت خانم ہسپتال بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔

اسی طرح لاہور میں قائم انمول ہسپتال جبکہ پشاور میں ارنم ہسپتال کینسر کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ گو کہ ان ہسپتالوں کے وسائل بہت ہی کم ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ کسی مریض کو بچانے کے لئے آخری دم تک لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

ارنم ہسپتال کے بارے معلوم ہوا ھے کہ ریڈی ایشن کے حوالے سے اس کی کارکردگی کمال کی ہے اور ان کے پاس انتہائی تجربہ کار ڈاکٹروں کی ٹیم بھی موجود ہے لیکن اس سلسلے میں میسر مشینری کافی پرانی ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے بار بار درخواستوں کے باوجود بھی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس ٹیکنالوجی کی کل قیمت آخر کتنے کروڑ ہوگی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے