عام امریکی اور تاجر کیسا ہوتا ہے؟


” اشتیاق، یہ مائیکرو ویو اوون ٹھیک کام نہیں کر رہا ہے۔“ کینیڈا سے امریکا آئے ہوئے، بچپن کے دوست اور کزن شجاع نے کہا۔ اور فوری سوال سلمان بھائی سے کیا، کہ کب اور کہاں سے لیا تھا۔ سلمان بھائی کو تاریخ تو یاد تھی، چونکہ اس دن طوفانی برف باری ہوئی تھی۔ لیکن خریداری رسید ڈھونڈنے کے با وجود نہ ملی۔

شجاع نے کہا: کوئی بات نہیں، جہاں سے خریدا ہے، وہاں چلیں، تبدیل ہو جائے گا۔ اوون ڈبے میں رکھا، اور پہنچ گئے، ڈیپارٹمنٹل سٹور۔ سٹور کے جس حصہ میں اشیا واپس یا تبدیل ہوتی ہیں، وہاں پہنچے اور خدمت پر مامور عملے کے ایک رکن کو ساری رو داد سنائی کہ فلاں تاریخ کو خریدا تھا، رسید نہیں ہے، تبدیل کرانا چاہتے ہیں، چونکہ صحیح کام نہیں کر رہا۔

اوون خریدے دو ماہ سے اوپر ہو چکے تھے اور رسید بھی نہیں تھی۔ اس لیے تبدیلی کے امکان کو گھر سے ہی رد کر کے چلا تھا۔ بہرحال کاؤنٹر پر موجود سٹاف نے بتائی گئی، تاریخ کا ریکارڈ نکالا اور کہا: جی، آپ کا کہنا درست ہے، آپ نے بتائی گئی تاریخ کو ہی خریدا تھا اور اوون اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا۔ نہ ڈبے کو کھول کر دیکھا اور نہ ہی کوئی سوال کیا۔ اور کہا: جائیں دوسرا اوون لے لیں۔ یوں اوون تبدیل ہو گیا۔ اور ہم حیرتوں کے سمندر میں ڈوب گئے کہ امریکی ہر کسی کی زبان پر کتنا اعتبار کرتے ہیں۔

دو چار دن بعد شدید بارش ہوئی۔ شجاع کی گاڑی کا اگلا پہیہ مٹی میں دھنس گیا اور ہزار جتن کے بعد بھی نکلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ شدید پریشانی کا سامنا تھا۔ تھک ہار کر گھر آ کر بیٹھ گئے اور لگے تدبیریں سوچنے۔ بھانجا جواد یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ وہ ہماری لا علمی میں پڑوس کے گھروں میں گیا اور ان کو صورت حال بتا کر مدد کی اپیل کی۔ تھوڑی دیر کے بعد دیکھا تو شدید بارش میں پچاس اور ساٹھ کے پیٹے کے چار چھے انتہائی صحت مند امریکی ایک تیس چالیس کے پیٹے کی خوش رو و خوش پوش خاتون کے ہمراہ مدد کو پہنچے ہوئے ہیں۔

ہم تو چھتریاں لے کر گھر سے نکلے، ادھر وہ سب بھیگے ہوئے، اور گاڑی اٹھانے کو بے تاب۔ لیجیے جناب، ذرا سی دیر میں مٹی میں دھنسی گاڑی باہر نکل گئی۔ خاتون بھی مدد کو آگے بڑھیں، تو شرمندگی کا احساس رگ و پے میں دوڑ گیا، مسکرا کر منع کیا اور چھتری ان کے ہاتھ میں تھمائی، اور گاڑی اٹھانے میں حتی المقدور اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے شہیدوں میں اپنا نام بھی درج کروا لیا۔

مہینے دو مہینے بعد رمضان تھے اور ہم سب جمعہ پڑھنے اسلامک سینٹر گئے۔ افریقہ سے تعلق رکھنے والے امام صاحب روزے کی اہمیت پر تقریر کر رہے تھے اور فرما رہے تھے، ”مسلمانوں روزہ رکھ کر تو کم از کم الٹے سیدھے کام کرنے چھوڑ دو۔ تم لوگ میز، کرسی، صوفہ، کپڑے اور دیگر اشیاء خریدتے ہو، کپڑوں کے ٹیگ لگے رہنے دیتے ہو، جب کام نکل جاتا ہے تو دو چار دن بعد مذکورہ اشیاء واپس کر کے اپنی رقم ہنستے مسکراتے لے کر گھر آ جاتے ہو، کم از کام رمضان میں تو ایسے کام سے باز آ جاؤ۔ ڈاکٹرز اور مکینک حضرات کے لیے بھی یہی صلاح تھی، کہ مریضوں اور گاڑی ٹھیک کرانے والوں کا بے جا خرچا مت کراؤ۔“

بہت سی اشیا تو ہم نے بھی وال مارٹ اور دیگر مقامات سے خریدیں اور گھر والوں کو ان کی تصویریں بھیجیں، پسند نہ آنے پر یا ضرورت نہ ہونے پر واپس بھی کیں، لیکن استعمال نہیں کیں۔ امام صاحب کی تقریر سے پتا چلا کہ مسلمان امریکہ میں بھی اپنی چال بازیوں باز نہیں آ رہے۔

امریکیوں کے متعلق وطن عزیز میں عمومی تاثر یہی ہے، کہ امریکی کسی کے کام نہیں آتے، اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ تو انتہائی خراب برتاؤ کرتے ہیں۔ ایسا ہوتا بھی ہوگا، چونکہ سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے، کہ امریکی اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور کسی کے کام میں بے جا مداخلت نہیں کرتے۔ لیکن ذاتی طور پر دو ڈھائی ماہ میں ایسا محسوس نہیں ہوا، کہ صرف مسلمان یا ایشیائی ہونے کی وجہ سے ہمارے ساتھ کوئی امتیازی سلوک ہو رہا ہو۔ امریکا آمد سے لے کر روانگی تک کسی بھی جگہ ناخوش گوار سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اور جب بھی کسی امریکی سے کسی بھی معاملے میں مدد چاہی، خوش دلی سے مدد کو تیار ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words