EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

فطرت کی وراثت :جنگل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی سفر میں ریل کی پٹڑی کے پاس اگے پیلے اور جامنی پھولوں کو دیکھ کر دل تو کیا ہو گا کہ یہ پھول گھر میں لگانے چاہئیں۔ کبھی کسی پہاڑی پر دھیرے دھیرے چڑھتے ہوئے جنگلی پھولوں کا میدان آ گیا ’آپ وہیں رک گئے‘ کچھ جگہ صاف کی اور ان پھولوں کے ساتھ لیٹ گئے۔ تین سال پہلے جاتی سردی کے دنوں میں کوہاٹ کے ایک ویرانے میں صبح سویرے نکلا ’جنگلی ٹیولپ کے ننھے پودوں نے راستہ روک لیا۔ گلابی اور سفید عمودی دھاریوں والے پھول۔

میں نے تنکے جیسے پودوں کو گیلی مٹی سے بڑی احتیاط کے ساتھ کھینچا تو چھ سات انچ کے نازک تنے کی زیر زمین چھ انچ کی ایک ہی جڑ باہر نکل آئی۔ اسی دن لاہور روانہ ہوا اور اگلے دن یہ پودے نرسری میں لگا دیے۔ اپنی جنگلی بودوباش سے دور یہ جاذب نظر پھول اور پودے زندہ نہ رہے۔ یہ صرف کوہاٹ میں ہوتے ہیں‘ جب رات کو گری شبنم صبح برفاب ہوتی ہے اور سارا دن روشنی رہتی ہے۔ سیانے کہتے ہیں جنگل کے پھولوں کو جمع نہ کریں۔

یہ فطرت کی وراثت ہے۔ یہ کئی طرح کے ہیں۔ کچھ گھاس ہیں جن پر پھول آتے ہیں ’کچھ گراؤنڈ کور ہیں‘ بوٹیاں ہیں ’ننھی منی جھاڑیاں ہیں‘ ان پر انسان کی دسترس اور قبضہ نہیں۔ انہیں انسان اب تک کاشت نہیں کر پایا۔ ان پھولوں کو ان کے قدرتی ماحول سے جدا کر دیا جائے تو یہ مر جاتے ہیں۔ یہ بہت نازک ہیں۔ اس لئے بہتر ہے انہیں مفت میں دیکھیں اور ان کے بے تحاشا حسن کا لطف اٹھائیں۔ جانے کیوں جنگل کو شہر پسندوں نے خوف کا استعارہ بنایا ’فطرت پسند جنگل کو انسانی آبادی کے مقابل حیاتیاتی کائنات سمجھتے ہیں‘ ایسی دنیا جہاں گھاس ’پودے‘ پیڑ ’چرند‘ پرند ’حشرات اور درندے انسان کے خوف سے آزاد ہوتے ہیں۔

جنگل دنیا کے ستائے ہوؤں کی پناہ گاہ ہیں۔ جسے شہر قبول نہیں کرتا وہ جنگل میں کٹیا بنا لیتا ہے‘ پھر سارا شہر اس کٹیا کی زیارت کے لئے آنے لگتا ہے۔ فطرت پسندوں سے پہلے جنگل انسان کے ساتھ رہتا تھا۔ انسان درختوں سے بنی پناہ گاہوں میں مقیم تھا ’پھل کھاتا‘ شکار کرتا، عورتیں جنگلی پھول چن کر زیور بناتیں۔ تب خوشبو کانچ کی بوتلوں میں بند نہ تھی ’پھولوں کی پتیاں اور پیڑوں کے پتے اپنی مہک سے ماحول کو معطر اور معنبر رکھتے۔

زعفران‘ ثعلب مصری ’قوس قزح‘ عود الصلیب ’گل داؤدی‘ سنبل پھول ’گل چاندنی‘ ککروندا ’سورج مکھی‘ بسنتی گلاب ’بنفشہ‘ گیندا ’نرگس آبی‘ کنول ’نیلوفر‘ سوسن ’گل شمعدانی‘ گل لالہ ’اشنھ، بامچال‘ گل قاصدی ’گڈ بال‘ نرگس ’چنبیلی‘ گل بہار ’گل لہمی‘ کتنے خوبصورت نام ہیں۔ ہمارے اپنے نام جنہیں اب ہم اور ہمارے بچے بھول چکے۔ جنگل سے ہم جو کچھ لے کر شہروں میں آتے تھے وہ ہماری یادداشت سے محو ہو رہا ہے۔

ایک نقصان کا ’خسارے کا احساس ہے جو اداس کر دیتا ہے۔ سکہ کیا ہوتا ہے‘ طاقتور کا مالیاتی نظام۔ امریکہ نے عرب ملکوں سے معاہدہ کر رکھا ہے کہ وہ دنیا کے جس ملک کو تیل بیچیں بدلے میں صرف ڈالر قبول کریں ’پیٹرو ڈالر کی اصطلاح اسی سے بنی۔ جنگل فطرت کے بینک ہیں اور پھول سکہ۔ جو روپے سے نہیں رام ہوتا وہ دل پھول جیت لیتا ہے۔ جنگل کبھی ہماری حیرتوں کا سامان تھا۔ ہم سر اٹھاتے تو ایسے پیڑ دیکھتے جن کی چوٹیاں بادلوں کی دنیا میں جھانک رہی ہوتیں۔

جن پیڑوں کی چوٹی ہم سر نہ کر سکتے انہیں مقدس سمجھ لیتے۔ پھر ہم ایسی دنیا میں آ گئے جہاں بادلوں میں گھس جانے والی عمارتیں ہیں۔ آہستہ آہستہ ہماری حیرت ختم ہو گئی۔ بڑے پیڑ ہمیں اپنی انا پر چوٹ لگانے والے محسوس ہوئے توہم نے بونے درخت لگانا شروع کر دیے۔ ہمارے شہروں سے برگد‘ پیپل ختم ہو رہے ہیں اور جھاڑیاں عام ہو رہی ہیں۔ ہر روز انسان ہزاروں ایکڑ کے جنگلات اور ویرانے کان کنی ’ڈرلنگ اور تعمیرات کے لئے تباہ کر رہا ہے۔

ہم اپنی آئندہ نسلوں کے لئے پلاٹ اور گھر بنانا چاہتے ہیں لیکن تعجب ہے کہ دنیا کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑ رہے۔ انسانی تہذیب پر اب رئیل اسٹیٹ والوں کا سکہ چلتاہے۔ وہ زمین کے ایک ایک انچ پر قابض ہو رہے ہیں۔ ایکڑ اور کنالوں پر پھیلی حویلیاں اب معدوم ہو گئیں۔ ڈیڑھ مرلے کے ڈربوں کو فلیٹ کا نام دے کر بیچا جا رہا ہے۔ گھاس پودوں اور پھولوں کی ہزاروں جنگلی اقسام ناپید ہو چکی ہیں۔ لاہور شہر میں ہرمل‘ گل عباسی کی بہتات رہی ہے ’اب ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔

ایسے زمین زادوں کی اشد ضرورت ہے جو ویرانوں اور جنگلات کے حقوق اور تحفظ کے لئے کام کر سکیں۔ ایسے قوانین منظور کرانے کی ضرورت ہے جو زمینوں کی قدرتی شکل کی حفاظت کر سکیں۔ کارخیر کی نمائشی شکلیں موقع پرست اور مفاد پرست لوگ پیدا کرتی ہیں، جو اپنی نیکیوں کو شہرت دے کر سماج سے کچھ نہ کچھ ہتھیانا چاہتے ہیں۔ کرہ ارض کا سانس پھول رہا ہے‘ فیکٹریوں کا دھواں ’مشینوں کا شور اور گاڑیوں کی حرارت سے سبزہ جل رہا ہے۔ راہ چلتے ہمارے ننگے پاؤں کے نیچے جو ننھے منے مخملی پھول گدگدی کر دیا کرتے تھے وہ باقی نہیں رہے۔ اداسیوں کے شاعر شو کمار بٹالوی نے کہا تھا:

میں کنڈیالی تھوہر وے سجنا!
اگی وچ اجاڑاں یاں اڈدی بدلوٹی
کوئی ورہ گئی وچ پہاڑاں
یاں اوہ دیوا جہڑا بلدا
پیراں دی ڈھیری تے
یاں کوئی کوئل کنٹھ جہدے دیاں
سوتیاں جاون ناڑاں
یاں چنبے دی ڈالی کوئی
جو بالن بن جائے
یاں مروے دا پھل بسنتی
جو ٹھنگ جان گٹاراں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے