EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بھارت ‘ایف اے ٹی ایف’ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے: پاکستان کا الزام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد — پاکستان نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں اس کا نام برقرار رکھنے کے لیے بھارت کی طرف سے کوششوں کے اعتراف سے ثابت ہو گیا کہ بھارت ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کے وزیرِ خارجہ جے شنکر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت نے یہ یقینی بنایا کہ پاکستان کا نام ‘ایف اے ٹی ایف’ کی گرے لسٹ میں برقرار رہے۔

پیر کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارت کے اعلیٰ سفارت کار کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی برادری کے سامنے یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہے کہ بھارت مبینہ طور پر ایف اے ٹی ایف کو ‘سیاسی مقاصد’ کے لیے استعمال کرتا ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق بھارتی وزیرِ خارجہ کا تازہ بیان اس بات کی تائید ہے کہ بھارت پاکستان کی مخالفت میں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ایک اہم عالمی تنطیم کے تیکنیکی فورم کو استعمال کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

بھارتی اخبار ‘ہندوستان ٹائمز’ کے مطابق بھارت کے وزیرِ خارجہ جے شنکر نے بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری وجہ سے ‘ایف اے ٹی ایف’ پاکستان پر نطر رکھے ہوئے ہے اس وجہ سے پاکستان کا نام تنظیم کی گرے لسٹ میں برقرار رکھا گیا ہے۔

بھارت کے اعلیٰ سفارت کار نے اسے اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے مختلف اقدامات کے دباؤ کی وجہ سے پاکستان کا طرزِ عمل تبدیل ہوا ہے۔ بھارت کے وزیرِ خارجہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بھارت ہی کی کوششوں سے اقوامِ متحدہ نے لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسی تنظیموں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

بھارت کے اعلیٰ سفارت کار کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ ایف اے ٹی ایف نے نے پاکستان کو گرے لسٹ یعنی نگرانی کی فہرست میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ابھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

تاہم پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کے تجویز کردہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے کیے گئے اقدامات کو عالمی تنظیم بھی تسلیم کرتی ہے۔

دفترِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور بھارت کی طرف سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بعض ممالک کی طرف سے ‘ایف اے ٹی ایف’ کے کام کو سیاسی بنانے کی کوششوں کے باوجود پاکستان اپنے مفاد اور اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ لہذٰا منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جب سے گرے لسٹ میں شامل کیا گیا ہے اس وقت سے عالمی تنظیم نے پاکستان کے لیے سخت شرائط عائد کرتے ہوئے پاکستان کی نگرانی کا عمل بھی سخت کر دیا ہے۔

زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ‘ایف اے ٹی ایف’ کے تجویز کردہ ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے اپنے مالی اور قانونی نظام کی کئی کمزوریوں کو دور کیا ہے۔

زاہد حسین کا کہنا تھا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر بار پاکستان کو مزید اقدامات کرنے کا کہا جاتا ہے تو دیکھنا یہ کیا اس کی صرف تیکنیکی وجوہات ہیں یا اس معاملے کے بظاہر کوئی سیاسی مقاصد ہیں۔

زاہد حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کرنے کی ایک وجہ سیاسی بھی ہو سکتی ہے۔

زاہد حسین کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے وزیرِ خارجہ کے بیان کے بعد یہ سوال پیدا ہو گا کہ کوئی ملک انسدادِ ہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق عالمی فورم کے فیصلوں پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے۔

زاہد حسین کے بقول شاید یہ آسان نہ ہو لیکن ان کے خیال میں بھارت کے اعلیٰ سفارت کار کے بیان کی وجہ سے ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔

یادر ہے کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے تجویز کردہ 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کر لیا ہے لیکن ایک نکتے پر ابھی تنطیم کی طرف سے پاکستان کو مزید اقدامات کرنے کا کہا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جون میں ہونے والے اجلاس کے بعد ‘ایف اے ٹی ایف’ نے پاکستان کو سات نکاتی ایک نیا ایکشن پلان تجویز کیا ہے جس پر عمل درآمد کر کے پاکستان گرے لسٹ سے باہر آ سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2594 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے